ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﻓﺠﺮ ﯾﺎ ﻋﺸﺎﺀ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﯾﺎ ﻟﻄﯿﻒ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺳﻮ ﺍﻧﯿﺲ ‏( ۹۱۱ ‏) ﻣﺮﺗﺒﮧ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﭘﮭﺮ ﺍﯾﮏ ﺳﻮ ﺍﻧﯿﺲ‏( ۹۱۱ ‏) ﻣﺮﺗﺒﮧ ﯾﮧ ﺁﯾۃ ﮐﺮﯾﻤﮧ ﺍﻥ ﺍﻟﻠﻪ ﮬﻮﺍﻟﺮﺯﺍﻕ ﺫﻭ ﺍﻟﻘﻮۃ ﺍﻟﻤﺘﯿﻦ ﮦ ﭘﮍﮬﮯ۔ ﺍﻭﻝ ﻭ ﺁﺧﺮ ﮔﯿﺎﺭﮦ، ﮔﯿﺎﺭﮦ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺩﺭﻭﺩﺷﺮﯾﻒ۔ ﺍﻧﺸﺎﺀ ﺍﻟﻠﮧ ﻏﯿﺐ ﺳﮯ ﺭﺯﻕ ﮐﮯ ﺍﺳﺒﺎﺏ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔

مُلا جی،ایک سوال پوچھنا ہے مگر ڈر لگتا ہے کہ آپ کوئی فتوی ہی نہ لگا دیں۔ پوچھو پوچھو۔!! سوال پوچھنے پر کوئی فتوی نہیں۔ یہ بتائیں کہ اسلام مرد کو طلاق کا حق دیتا ہے، عورت کو کیوں نہیں دیتا۔۔۔۔؟؟کیا عورت انسان نہیں؟ کیا اس کے حقوق نہیں؟ یہ کیا بات ہے کہ مرد تو جب جی چاہے عورت کو دوحرف کہہ کر فارغ کردے اور عورت ساری زندگی اس کے ظلم کی چکی میں پسنے کے باوجود بھی اپنی جان بخشی نہ کراسکے۔۔۔؟ کیا یہ ظلم نہیں؟؟ تمہارے سوال کا جواب دیتا ہوں، مگر پہلے تم مجھے ایک بات بتاؤ! جی ملا جی !یہ بتاؤ کہ تم ایک بس میں کہیں جانے کے لئے۔سوار ہوئے، بس والے کو کرایہ دیا، ٹکٹ لی، سیٹ پر بیٹھے، سفر شروع ہوا۔

کیا بس والا تمہیں منزل پر پہنچنے سے پہلے کہیں راستے میں، کسی جنگل، کسی ویرانے میں اتارنے کا حق رکھتا ہے؟بالکل نہیں۔ٹھیک !! اب یہ بتاؤ کہ اگر تم راستے میں کہیں اترنا چاہو تو تمہیں اس کا حق حاصل ہے یا نہیں؟بالکل ہے، میں جہاں چاہوں اتر سکتا ہوں۔وجہ۔؟؟؟وجہ یہ ملا جی کہ وہ مجھ سے کرایہ لے چکا ہے، لہذا منزل سے پہلے کہیں نہیں اتار سکتا، اور مین جہاں چاہوں اتر سکتا ہوں، وہ مجھے نہیں روک سکتا، اس لئے کہ اس کا کام کرائے کے ساتھ تھا جو وہ مجھ سے لے چکا ہے۔بالکل ٹھیک! اب ایک اور بات بتاؤ۔!تم ایک مزدور کو لے کر آئے ایک دن کے کام کے لئے، اس نے کام شروع کیا، اینٹیں بھگوئیں، سیمنٹ بنایا، دیوار شروع کی، اورآٹھ دس اینٹیں لگا کر کام چھوڑ کر گھر کو چل دیا، تمہارا رد عمل کیا ہوگا۔

میں اسے پکڑ لوں گا، نہیں جانے دوں گا، کام پورا کرے گا تو اسے چھٹی ملے گی !!اور اگر تم اسے کام کے درمیان میں فارغ کرنا چاہو تو؟مجھے اس کی اجرت دینی ہوگی، اجرت دینے کے بعد میں اسے کسی بھی وقت فارغ کرسکتا ہوں۔ اگر وہ کہے کہ میں اجرت لینے کے باوجود نہین جاتا ؟؟وہ ایسا نہیں کرسکتا، میں اسے لات مار کر نکال دوں گا!بالکل ٹھیک! اب اپنے سوال کا جواب سنو! دنیا میں جس قدر بھی معاملات ہوتے ہیں، ان میں ایک فریق رقم خرچ کرنے والا ہوتا ہے تو دوسرا اس پیسے کے بدلے میں خدمت کرنے والا۔

دنیا کا اصول یہ ہے کہ ہمیشہ پیسہ خرچ کرنے والے کا اختیار دوسرے سے زیادہ ہوتا ہے، کوئی معاملہ طے ہونے کے وقت تو دونوں فریقوں کی رضا ضروری ہے، لیکن معاملہ طے ہوجانے کے بعد اس کے انجام تک پہنچنے سے پہلے، رقم خرچ کرنے والا فرد تو واجبات کی ادائگی کے بعد خدمت کرنے والے کو فارغ کرسکتا ہے، مگر خدمت فراہم کرنے والا کام فریق درمیان میں چھوڑ کر خرچ کرنے والے کو فارغ نہیں کرسکتا۔!