ایک بادشاہ اپنے وزیر کے ساتھ جا رہا تھا اس نے اپنے وزیر سے پوچھا: یہ جو کہتے ہیں دل کو دل سے راہ ہوتی ہے، اس کا کیا معنی ہے؟ وزیر باتدبیر تھا، اس نے کہا: بادشاہ سلامت! آپ کو میں یہ بات آنکھوں سے دکھا سکتا ہوں، مگر آپ ذرا کسی وقت عام کپڑے پہن کر میرے ساتھ چلیں، بہت اچھا، چنانچہ ایک دن بادشاہ نے اپنا تاج اوراپنے کپڑے اتار کر عام لوگوں کا لباس پہن لیا اور وزیر کے ساتھ باہر محل سے نکل گیا،

چلتے چلتے ایک بندہ آگے آ رہا تھا تووزیر نے بادشاہ سےپوچھا کہ بادشاہ سلامت یہ کیسا آدمی ہے؟ اس نے کہا:بے وقوف لگتا ہے، جاہل ہے، لگتا ہے کوئی تمیز نہیں ہے اس کو، اس نے کہا: ٹھیک، آئیے ذرا پھر اس بندے سے سنیں، وزیر اس بندے کے پاس گیا، سلام دعا کی، کہنے لگا سناؤ یار! آج کل ہمارا بادشاہ کیسا ہے؟ کہنے لگا: پتہ نہیں کہاں کا بے وقوف بادشاہ بن گیا ہے؟ اس کو سمجھ ہی نہیں ہے، وہ بادشاہ بننے کے لائق ہی نہیں ہے، اس نے بھی آگے سے ایسے ہی التے سیدھے کمنٹس دے دیے . خیر تھوڑا سا اور آگے گئے تو وزیر کی نظر ایک اورنوجوان پر پڑی، اس نے بادشاہ سے پوچھا: بادشاہ سلامت! اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ بادشاہ نے کہا: بھلا آدمی نظر آتا ہے۔

اس نے کہا: آئیں اب ذرا اس سے پوچھتے ہیں،وزیر نے اس سے جا کے پوچھا: سناؤ بھئی! ہمارا بادشاہ کیسا ہے؟ کہنے لگا! یار، بہت ہی سمجھ دار ہے،اور اس نے تو رعایا کو بہت ہی خوش کر رکھا ہے، اور ہم لوگ تو بڑے خوش قسمت ہیں کہ ہمارا بادشاہ اس قدر قابل ہے، اب وزیر نے بادشاہ کو کہا کہ دیکھیں آپ ذہن میں دوسروں کے بارے میں جو خیالات آ رہے تھے، آپ کے بارے میں وہی خیالات دوسرے بندوں کے دل میں آ رہے تھے، یہ ہے کہ ’’دل کو دل سے راہ ہوتی ہے۔