سورج ڈوب کر کہا جاتا ہے؟

حضرت ابوذر غفاریؓ کو تعلیم و تعلم سے بہت لگاؤ تھا۔کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تو صبح اٹھے اور قرآن کی ایک آیت سیکھ لے یہ تمہارے لیے اس سے کہیں بہتر ہے کہ رات بھر جاگ کرسو رکعت نفل ادا کرے۔ تو دن میں علم کا ایک باب سیکھ لے جس پر عمل کیا ہو یا نہ کیا ہواس سے کہیں بہتر ہے کہ ایک ہزار رکعت نوافل ادا کرے۔حضرت ابوذر غفاری فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھا۔ہم سب مغرب کی طرف کی طرف رخ کیے پیدل چل رہے تھے۔

 سورج سرخ گولے کے مانند نظر آرہا تھا،ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے غروب ہو گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: تمھیں معلوم ہے کہ سورج ڈوب کر کہاں جاتا ہے؟میں نے کہا‘ اللہ اور اس کا رسولؐ بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا: سورج سفر کرتا ہوا عرش کے سایہ میں سجدہ ریز ہوجاتا ہے‘ پھر طلوع کی اجازت مانگتا ہے تو اسے اجازت دے دی جاتی ہے۔وہ وقت قریب ہے کہ سجدہ کرے گا تو قبول نہ ہو گا۔اذن چاہے گا اور نہ ملے گا۔اسے کہا جائے گا: جہاں سے آئے ہو‘ وہیں لوٹ جاؤ۔تب وہ مغرب سے نکلے گا۔

Check Also

بیوی سے بوسہ لینا

میں دعوے سے کہتا ہوں رات سونے سے پہلے اگر بیوی کی پیشانی پر بوسہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published.