دل کی بیماریاں اتنی عام ہو چکی ہیں کہ آج کل 30سال سے کم عمر لڑکے لڑکیوں کو بھی ہارٹ اٹیک آ رہے ہیں۔ اب ماہرین نے اتنی کم عمر میں دل کے دورے پڑے کی شرح بلند ہونے کی اصل وجہ بیان کر دی ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ کم عمر لڑکے لڑکیوں کو دل کی بیماریاں لاحق ہونے اور ہارٹ اٹیک آنے کی وجہ آج کے دور کی تیزی اور کام کی زیادتی ہے۔ ایشیئن ہارٹ انسٹیٹیوٹ کے ماہرامراض قلب ڈاکٹر سنتوش کمار ڈورا نے بتایا کہ ’’آج کے دورمیں نوجوان پر جس پر کام کا دباؤ ہے پہلے کبھی نہ تھا۔

کام کے اوقات طویل ترین ہو گئے ہیں اور ان وجوہات کی بنا پر نوجوانوں میں ذہنی پریشانی اور ہائپرٹینشن کی شرح بہت زیادہ ہو چکی ہے۔‘‘ ڈاکٹر سنتوش کا مزید کہنا تھا کہ ’’آج کل کے لوگوں کی خوراک بھی متناسب نہیں رہی اور ورزش بھی ان کی زندگیوں سے نکل گئی ہے۔ یہ تمام وہ عوامل ہیں جو آج کی تیز تر زندگی کی پیداوار ہیں اور یہی دل کی بیماریوں کا سبب بن رہے ہیں۔آج کے دور میں کام کا جو رواج پنپ چکا ہے اس کے دباؤ کے نتیجے میں لوگ سگریٹ اور شراب نوشی کی طرف بھی زیادہ راغب ہوتے ہیں جو دل کی تباہی کا ایک اور سبب ہے۔ آج کل لوگ گھر کے بنے کھانے کی بجائے بازار سے فاسٹ فوڈز وغیرہ کو ترجیح دینے لگے ہیں کیونکہ ان کے پاس گھر پر کھانا پکانے کے لیے وقت ہی نہیں اور پھر باہر سے کھانا ایک رواج بھی بن چکا ہے۔یہ وہ عوامل ہیں جو لوگوں میں ہائی کولیسٹرول، ذیابیطس اور دیگر بیماریوں کا سبب بن رہے ہیں اور نوجوان نسل کو انتہائی کم عمری میں ہی ہارٹ اٹیک آ رہے ہیں۔‘‘