جسم فروشی کی داستان

ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽﻏﯿﺮﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻧﻈﺮ ﺍﭨﮭﺎﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎﺗﮭﺎ، ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﮐﭽﮫﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﻨﮓ ﺩﺳﺖ ﮨﻮﮔﯿﺎ،،،ﻧﻮﺑﺖ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﯽ ﮐﮧ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻓﺎﻗﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﮔﺌﮯ .. ﺍﺱﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺟﻮﺍﻥ ﺑﯿﭩﯽ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﯽ،،،ﺟﺐ ﻓﺎﻗﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻟﮍﮐﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺑﮩﻦﺑﮭﺎﺋﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻏﻠﻂ ﻗﺪﻡ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮﮔﺌﯽ، ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﮐﺮﮐﮯ ﮔﮭﺮﺳﮯ ﻧﮑﻠﯽ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﺟﺴﻢ ﺑﯿﭻ ﮐﺮ ﮐﭽﮫﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﮐﺮﻭﻧﮕﯽ !!!ﻭﮦ ﮔﮭﺮﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺘﮯ ﭘﻮﭼﮭﺘﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﭘﮩﻨﭽﯽ۔

ﺟﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﺟﺴﻢ ﻓﺮﻭﺷﯽ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ، ﻭﮦ ﻟﮍﮐﯽ ﻭﮨﺎﮞ ﺟﺎﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽﺍﺩﺍﺋﯿﮟ ﺩﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﻣﺘﻮﺟﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﯽ،،،ﻟﯿﮑﻦ ﮐﺴﯽ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﮑﯽ ﻃﺮﻑ ﺗﻮﺟﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯼ ﺗﻮﺟﮧﺗﻮ ﺩﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺍﺳﮑﯽ ﻃﺮﻑ ﻧﻈﺮ ﺗﮏ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﻟﻮﮒﺁﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﯽ ﻃﺮﻑ ﻧﻈﺮ ﺍﭨﮭﺎﺋﮯ ﺑﻨﺎ ﮔﺰﺭﺟﺎﺗﮯ، ﺧﯿﺮ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡﮐﮭﮍﮮ ﮐﮭﮍﮮ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﻮ ﺷﺎﻡ ﮨﻮﮔﺌﯽ، ﻭﮦ ﮐﺎﻓﯽ ﺩﻟﺒﺮﺩﺍﺷﺘﮧ ﮨﻮﮐﺮ ﮔﮭﺮﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﻗﺪﻡ ﺑﮍﮬﺎﻧﮯ ﻟﮓ ﮔﺌﯽ !!!ﺟﺐ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭽﯽ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﻮ ﻣﻨﺘﻈﺮ ﭘﺎﯾﺎ، ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ “ﺑﯿﭩﯽ ﺗﻮ ﮐﮩﺎﮞ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ ؟؟؟ ﻟﮍﮐﯽ ﻧﮯ ﺑﺎﭖ ﺳﮯ ﻣﺎﻓﯽ ﻣﺎﻧﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﺭﻭ ﺭﻭ ﮐﺮ ﺳﺎﺭﺍ ﻣﺎﺟﺮﺍ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯿﺎﮐﮧ “ﺍﺑﻮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﮭﻮﮎ ﺳﮯ ﺑﻠﮑﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﮩﻦ ﺑﮭﺎﺋﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﻧﮑﻞ ﭘﮍﯼ۔

ﻟﯿﮑﻦ ﮐﺴﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﯽ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﻧﻈﺮ ﺗﮏﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ !!!ﺳﺎﺭﺍ ﻣﺎﺟﺮﺍ ﺳﻨﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ،،،”ﺑﯿﭩﺎ ﺗﯿﺮﮮ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﺁﺝ ﺗﮏ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﻏﯿﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺁﻧﮑﮫ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﻤﮑﻦ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﯿﺮﯼﻃﺮﻑ ﻧﻈﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﮯ !!!ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﻈﺮ ﮐﻮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﭼﺎﺩﺭ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮈﺍﻟﻮ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻧﻈﺮﺷﮩﻮﺕ ﮐﯽ ﺑﯿﺞ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ، ﺁﺝ ﺗﻢ ﺑﭽﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﮐﻞ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺍﻭﻻﺩﻣﺤﻔﻮﻅ ﺭہے گی

پیارے نبی کریمﷺ کا رونا

صحابہ اکرمؓ اجمین کی حا لت پر پیارے نبی کریم ﷺکا رونا حضرت علیؓ فرما تے ہیں۔ میں سردی کی وقت اپنے گھر سے نکلابھوک بھی لگی ہوئی تھی بھوک کے مارے برا حال تھا سردی بھی بہت تنگ کر رہی تھی ہمارے ہاں بغیر رنگی ہوئی کھال پڑی تھی جس میں سے کچھ بو بھی آرہی تھی اسے میں نے کاٹ کر گلے میں ڈال لیا اور اپنے سینے سے با ندھ لیا تا کہ اس کے ذریعہ کچھ تو گرمی حاصل ہو ۔

اللہ کی قسم گھر میں میرے کھانے کی کوئی چیز نہیں تھی اگر حضور اقدسﷺکے گھر تو (وہ مجھے مل جاتی ) وہاں بھی کچھ نہیں تھامیں مدینہ منورہ کی ایک طرف کو چل پڑا وہاں ایک یہودی اپنے باغ میں تھا میں نے دیوار کے سوراخ سے اس کی طرف جھانکااس نے کہا اے عربی !کیا با ت ہے؟(مزوری پر کام کروگے) ایک ڈول پانی نکالنے پر ایک کھجور لینے کو تیار ہو؟میں نے کہا ہاں باغ کا دروازہ کھولو۔اس نے دروازہ کھول دیا۔میں اندر گیا اور ڈول نکالنے لگااور وہ مجھے ہر ڈول پر ایک کھجوردیتا رہا ۔ یہاں تک کہ میری مٹھی کھجوروں سے بھر گئی اور میں نے کہا اب مجھے اتنی کھجوریں کافی ہیں ۔پھر میں وہ کھجوریں کھائیں اور بہتے پانی سے منہ لگا کر پیا۔پھر میں حضور ﷺ کی خدمت میں آیا ۔

اور مسجد میں آپ کے پاس بیٹھ گیا ۔حضور اقدسﷺ اپنے صحابہ کی ایک جماعت میں تشریف فرما تھے اتنے میں حضرت مصب بن عمیرؓ اپنے پیوند والی چادر اورھے ہوئے آئے۔جب حضور اقدس ﷺ نے انہیں دیکھا تو ان کا نازونعمت والا زمانہ یا دآگیا اور اب انکی موجودہ حالت فقروفاقہ والی حالت بھی نظرآرہی تھی اس پرحضور ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے اور آپ رونے لگے پھر آپ نے فرمایا (آج تو فقروفاقہ اور تنگی کا زمانہ ہے لیکن) تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تم میں ہر آدمی صبح ایک جوڑہ پہنے گا اور شام کو دوسرا اور تمہارا گھروں پر ایسے پردے لٹکائے جائیں گے جیسے کعبہ پر لٹکائے جاتے ہیں ۔ہم نے کہا پھر تو ہم اس زمانے میں زیادہ بہتر ہوں گے۔ضرورت کے کاموں میں دوسرے لگا کریں گے ۔ہمیں لگنا نہیں پڑئے گا اور ہم عبادت کے لئے فارغ ہو جائیں گے۔حضورﷺ نے فرمایا نہیں آج تم اس دن سے بہتر ہو(کہ دین کا کام تم تکلیفوں اور مشقت کے ساتھ کر رہے ہو۔

بصرہ میں ایک انتہائی حسین وجمیل عورت رہا کرتی تھی

بصرہ میں ايک انتہائی حسين وجميل عورت رہا کرتی تھی ۔لوگ اسے شعوانہ کے نام سے جانتے تھے ۔ظاہری حسن وجمال کے ساتھ ساتھ اس کی آواز بھی بہت خوبصورت تھی ۔اپنی خوبصورت آواز کی وجہ سے وہ گائيکی اور نوحہ گری میں مشہور تھی ۔ بصرہ شہر ميں خوشی اور غمی کی کوئی مجلس اس کے بغير ادھوری تصور کی جاتی تھی ۔ يہی وجہ تھی کہ اس کے پاس بہت سا مال و دولت جمع ہو گيا تھا ۔بصرہ شہر ميں فسق وفجور کے حوالے سے اس کی مثال دی جاتی تھی۔

اس کا رہن سہن اميرانہ تھا ،وہ بيش قيمت لباس زيب تن کرتی اور گراں بہا زيورات سے بنی سنوری رہتی تھی۔ايک دن وہ اپنی رومی اور ترکی کنيزوں کے ساتھ کہيں جا رہی تھی ۔راستے ميں اس کا گزر حضرت صالح المری علیہ الرحمۃکے گھر کے قریب سے ہو ا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ کے برگزيدہ بندوں ميں سے تھے ۔آپ باعمل عالم دين اور عابد و زاہد تھے۔ آپ اپنے گھر ميں لوگوں کو وعظ ارشاد فرمايا کرتے تھے ۔آپ کے وعظ کی تاثير سے لوگوں پر رقت طاری ہو جاتی اور وہ بڑی زورزور سے آہ و بکاء شروع کر ديتے اور اللہ عزوجل کے خوف سے ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑياں لگ جاتيں۔جب شعوانہ نامی وہ عورت وہاں سے گزرنے لگی تو اس نے گھر سے آہ وفغاں کی آوازيں سنيں۔ آوازيں سن کر اسے بہت غصہ آيا۔ وہ اپنی کنيزوں سے کہنے لگی:”تعجب کی بات ہے کہ يہاں نوحہ کیا جا رہا ہے اور مجھے اس کی خبر تک نہيں دی گئی۔

”پھر اس نے ايک خادمہ کو گھر کے حالات معلوم کرنے کے ليے اندر بھیج ديا۔ وہ لونڈی اندر گئی اور اندر کے حالات ديکھ کر اس پربھی خدا عزوجل کا خوف طاری ہو گيا اور وہ وہيں بيٹھ گئی۔ جب وہ واپس نہ آئی توشعوانہ نے کافی انتظار کے بعد دوسری اور پھر تيسری لونڈی کو اندر بھیجا مگر وہ بھی واپس نہ لوٹيں ۔پھر اس نے چوتھی خادمہ کو اندر بھیجا جو تھوڑی دير بعد واپس لوٹ آئی اور اس نے بتايا کہ گھر ميں کسی کے مرنے پر ماتم نہيں ہو رہا بلکہ اپنے گناہوں پر آہ وبکاء کی جارہی ہے ،لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے اللہ عزوجل کے خوف سے رو رہے ہيں ۔ ”شعوانہ نے يہ سنا تو ہنس دی اور ان کا مذاق اڑانے کی نيت سے گھر کے اندر داخل ہو گئی ۔لیکن قدرت کو کچھ اورہی منظور تھا ۔ جونہی وہ اندر داخل ہوئی اللہ عزوجل نے اس کے دل کو پھیر ديا ۔

جب اس نے حضرت صالح المری علیہ الرحمۃ کو ديکھا تو دل ميں کہنے لگی : ”افسوس !ميری تو ساری عمر ضائع ہو گئی، ميں نے انمول زندگی گناہوں ميں اکارت کر دی،وہ ميرے گناہوں کوکیونکر معاف فرمائے گا؟ ”انہی خيالات سے پريشان ہوکر اس نے حضرت صالح المری علیہ الرحمۃسے پوچھا :”اے امام المسلمين!کيا اللہ عزوجل نافرمانوں اور سرکشوں کے گناہ بھی معاف فرما ديتا ہے ؟”آپ نے فرمايا :”ہاں !يہ وعظ ونصيحت اور وعدے وعيديں سب انہی کے ليے تو ہيں تاکہ وہ سيدھے راستے پر آ جائيں ۔”اس پر بھی اس کی تسلی نہ ہوئی تو وہ کہنے لگی:”ميرے گناہ تو آسمان کے ستاروں اور سمندر کی جھاگ سے بھی زيادہ ہيں۔”آپ نے فرمايا :”کوئی بات نہيں !اگر تيرے گناہ شعوانہ سے بھی زيادہ ہوں تو بھی اللہ عزوجل معاف فرمادے گا ۔”يہ سن کر وہ چيخ پڑی اور رونا شروع کر ديا اور اتنا روئی کہ اس پر بے ہوشی طاری ہو گئی ۔تھوڑی دير بعد جب اسے ہوش آيا تو کہنے لگی:”حضرت !ميں ہی وہ شعوانہ ہوں جس کے گناہوں کی مثاليں دی جاتی ہيں ۔

پھر اس نے اپنا قيمتی لباس اور گراں قدر زيوراتار کر پرانا سا لباس پہن ليا اور گناہوں سے کمايا ہوا سارا مال غرباء میں تقسیم کر ديا اوراپنے تمام غلام اور خادمائيں بھی آزاد کر ديں ۔ پھر اپنے گھر ميں مقيد ہو کر بيٹھ گئی۔ اس کے بعد وہ شب و روز اللہ عزول کی عبادت ميں مصروف رہتی اور اپنے گناہوں پر روتی رہتی اور ان کی معافی مانگتی رہتی۔ رو رو کر رب عزوجل کی بارگاہ ميں التجائيں کرتی :”اے توبہ کرنے والوں کو محبوب رکھنے والے اور گنہگاروں کو معاف فرمانے والے !مجھ پر رحم فرما،ميں کمزور ہوں تيرے عذاب کی سختيوں کو برداشت نہيں کر سکتی ،تو مجھے اپنے عذاب سے بچا لے اور مجھے اپنی زيارت سے مشرف فرما۔” اس نے اسی حالت ميں چاليس سال زندگی بسر کی اورانتقال کر گئی ۔(حکايات الصالحين ص74) یہ ہے ولی کی صحبت کا اثر

برطانیہ میں حلالہ کا آن لائن بزنس

خواتین ایک اجنبی سے شادی کرنے اور جنسی تعلقات استوار کرنے کے بعد اسے طلاق دے کر واپس اپنے پہلے شوہر سے شادی کرنے کے لیے یہ رقم ادا کر رہی ہیں۔فرح (فرضی نام) جب 20 سال کی تھیں تو خاندانی دوستوں کے ذریعے ان کی شادی ہوئی تھی۔ دونوں کے بچے بھی ہوئے، لیکن فرح کا کہنا ہے کہ اس کے بعد ان کے ساتھ بدسلوکی شروع ہوئی۔فرح نے بی بی سی کے ایشین نیٹ ورک اور وکٹوریہ ڈربی شائر پروگرام کو بتایا:۔ ‘پہلی بار میرے شوہر نے پیسوں کے لیے بدسلوکی کی۔

’فرح نے کہا: ‘وہ مجھے بالوں سے بال پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے گھر سے باہر نکالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ وہ کئی مواقع پر پاگلوں کی طرح برتاؤ کرنے لگتے۔’ان بدسلوکیوں کے باوجود فرح کو امید تھی کہ حالات بدل جائیں گے لیکن ان کے شوہر کے رویے میں سختی آتی گئی اور پھر ایک دن ان کے شوہر نے ٹیکسٹ میسیج کے ذریعہ انھیں طلاق دے دی۔فرح بتاتی ہیں: ‘میں گھر میں اپنے بچوں کے ساتھ تھی اور وہ کام پر تھے۔ ایک شدید بحث کے بعد انھوں نے مجھے ایک ٹیکسٹ میسج بھیجا- طلاق، طلاق، طلاق۔’یہ بعض جگہ مسلمانوں میں مروج شادی کو ختم کرنے کا ایک ہی نششت میں تین طلاق کا نظام ہے۔زیادہ تر مسلم ممالک میں تین طلاق پر پابندی ہے تاہم برطانیہ میں یہ جاننا تقریبا ناممکن ہے کہ کتنی خواتین کو تین طلاق کا سامنا کرنا پڑا ہے۔۔

فرح نے کہا: ‘میرا فون میرے پاس تھا۔ میں نے یہ پیغام اپنے باپ کو بھیج دیا۔ انھوں نے کہا کہ آپ کی شادی اب ختم ہو گئی۔ تم اب اس کے ساتھ نہیں رہ سکتیں۔’رح کا کہنا ہے کہ وہ بری طرح گھبرا گئی تھیں، لیکن وہ اپنے سابق شوہر کے پاس لوٹنا چاہتی تھیں۔فرح کا کہنا ہے کہ وہ ان کی ‘زندگی کا پیار تھا۔’فرح نے کہا کہ ان کے سابق شوہر کو بھی اس طلاق پر افسوس تھا اور اپنے سابق شوہر کو حاصل کرنے کے لیے فرح نے حلالہ کے متنازع نظام کی جانب قدم بڑھایا۔مسلمانوں کے ایک طبقے کا خیال ہے کہ حلالہ واحد طریقہ ہے جس کے سہارے دو طلاق شدہ پھر سے آپس میں شادی کرنا چاہیں تو شادی کر سکتے ہیں۔حلالہ کے بعض معاملوں میں اقتصادی طور پر ان کا استحصال کیا جا سکتا ہے، بلیک میل کیا جا سکتا ہے اور یہاں تک کہ جنسی تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔مسلمانوں کا بڑا طبقہ اس چلن کے سخت خلاف ہے۔ ان کا کہنا ہے۔

فرح نے کہا: ‘میرا فون میرے پاس تھا۔ میں نے یہ پیغام اپنے باپ کو بھیج دیا۔ انھوں نے کہا کہ آپ کی شادی اب ختم ہو گئی۔ تم اب اس کے ساتھ نہیں رہ سکتیں۔’رح کا کہنا ہے کہ وہ بری طرح گھبرا گئی تھیں، لیکن وہ اپنے سابق شوہر کے پاس لوٹنا چاہتی تھیں۔فرح کا کہنا ہے کہ وہ ان کی ‘زندگی کا پیار تھا۔’فرح نے کہا کہ ان کے سابق شوہر کو بھی اس طلاق پر افسوس تھا اور اپنے سابق شوہر کو حاصل کرنے کے لیے فرح نے حلالہ کے متنازع نظام کی جانب قدم بڑھایا۔مسلمانوں کے ایک طبقے کا خیال ہے کہ حلالہ واحد طریقہ ہے جس کے سہارے دو طلاق شدہ پھر سے آپس میں شادی کرنا چاہیں تو شادی کر سکتے ہیں۔حلالہ کے بعض معاملوں میں اقتصادی طور پر ان کا استحصال کیا جا سکتا ہے، بلیک میل کیا جا سکتا ہے اور یہاں تک کہ جنسی تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔مسلمانوں کا بڑا طبقہ اس چلن کے سخت خلاف ہے۔ ان کا کہنا ہے۔

۔بی بی سی نے جب اس شخص سے ملاقات کی تو اس نے اپنے خلاف تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ حلالہ کی کسی شادی میں ملوث نہیں اور اس نے جو صفحہ بنایا ہے وہ محض تفنن طبع اور سماج کی نبض کو جاننے کے لیے ہے۔اپنے پہلے شوہر سے ملنے کے اضطراب میں فرح نے ایسے شخص کی تلاش شروع کر دی جو اس سے شادی کرے اور پھر اسے طلاق دے دے تاکہ وہ اپنے سابق شوہر سے دوبارہ شادی کر سکے۔فرح نے کہا: ‘میں ایسی لڑکیوں کو جانتی تھی جو خاندان سے چھپ کر اس کے لیے آگے بڑھی تھیں اور ان کا کئی ماہ تک استعمال کیا گیا تھا۔ اس کے لیے وہ ایک مسجد میں گئی تھیں جہاں انھیں مخصوص کمرے میں لے جایا گيا تھا اور وہاں انھوں نے اس خدمت (حلالہ) کو فراہم کرنے والے امام یا دوسرے کسی شخص کے ساتھ ہم بستری کی اور پھر دوسروں کو بھی ان کے ساتھ سونے کی اجازت دی گئی۔’لیکن مشرقی لندن میں اسلامی شریعہ کونسل جو خواتین کو طلاق کے مسئلے پر مشورے دیتی ہے۔

وہ سختی کے ساتھ حلالہ کی مخالف ہے۔اس تنظیم کی خولہ حسن نے کہا: ‘یہ جھوٹی شادی ہے۔ یہ پیسہ کمانے کا ذریعہ ہے اور مجبور خواتین کا استحصال ہے۔’انھوں نے مزید کہا: ‘یہ مکمل طور پر حرام ہے۔ اس کے لیے اس سے سخت لفظ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے دوسرے طریقے ہیں، مشاورت ہے۔ ہم لوگ ایسا کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دیں گے۔ چاہے جو بھی ہو لیکن آپ کو حلالہ کی ضرورت نہیں۔’فرح نے آخر میں طے کیا کہ وہ اپنے سابق شوہر کے ساتھ نہیں جائیں گی اور نہ ہی حلالہ کا راستہ اپنائیں گی۔ تاہم فرح نے متنبہ کیا کہ ان جیسی صورتحال میں بہت سی عورتیں کچھ بھی کر گزرنے کو تیار ہوں گی۔وہ کہتی ہیں: ‘جب تک آپ اس ایسی صورت حال سے دوچار نہیں ہوئے ہیں اور آپ کو طلاق نہیں ہوئی ہے اور اس درد کو نہیں سہا ہو جو میں نے سہا ہے تو آپ کسی خاتون کی اضطراب کو نہیں سمجھ سکتے۔

’اب ہوش کے عالم میں اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو میں ایسا کبھی نہیں کروں گی۔ میں اپنے شوہر کو واپس پانے کے لیے کسی کے ساتھ سونے کو تیار نہیں ہوں۔ لیکن ایک خاص مدت کے دوران میں اپنے شوہر کو واپس حاصل کرنے کے لیے سب کچھ کر گزرنے کو تیار تھی۔’اب اسلامی نقطہ نظر سے بات کرتے ہیں۔۔۔۔سوال: جواب: حلالہ کا مسئلہ عصر پیغمبر سے ہی شروع ہوا جس کی وجہ سے قرآن کی آیت بھی۔

نازل ہوئی اور اس سلسلے میں پیغمبر اکرم (ص) نے احادیث بھی ارشاد فرمائیں۔اسلام میں حلالہ کا مطلب یہ ہے کہ ایک عورت کو جب تین طلاق دے دئے جائیں تو اس کے بعد اس کی طرف رجوع نہیں کیا جا سکتا مگر یہ کہ وہ عورت اپنی مرضی سے کسی دوسرے مرد سے شادی کرے اور اس کے بعد اس کے ساتھ ہمبستری کرے اور یہ مرد اپنی مرضی سے بغیر کسی کے دباو کے اس عورت کو طلاق دے دے یا وہ عورت اپنے اختیار سے طلاق لے لے اس کے بعد سابقہ شوہر اس عورت کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتا ہے جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۲۳۰ میں اس بارے میں حکم دیا گیا ہے: « فَإِن طَلَّقَهَا فَلاَ تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىَ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِن طَلَّقَهَا فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَن يَتَرَاجَعَا» (بقره 230).یعنی اگر شوہر نے عورت کو تین طلاق دے دئے تو اسکے بعد وہ عورت اس مرد کے لیے حلال نہیں ہو گی جب تک کہ وہ کسی دوسرے مرد سے نکاح نہ کر لے پس اگر وہ اس کو طلاق دے دے تو اس صورت میں پہلے شوہر کے اس کی طرف رجوع کرنے میں۔

کوئی حرج نہیں ہے۔یہ چیز اسلام نے اس وجہ سے رکھی ہے تاکہ مسلمانوں کے درمیان طلاق کی نحوست کو کم کیا جائے طلاق سے سماج میں پیدا ہونے والے مسائل کا سد باب کیا جائے چونکہ جب انسان اپنی زوجہ کو طلاق بائن یعنی تین مرتبہ طلاق دے دے گا اس کے بعد اگر اپنے کئے پر پشیمان بھی ہو تو اس پشیمانی کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا چونکہ اب اس عورت کو حاصل کرنا گویا انتہائی مشکل ہے اس لیے کہ جب وہ عورت کسی دوسرے مرد سے شادی کرے گی تو ضروری نہیں کہ اس کے بعد اس سے طلاق کا مطالبہ کرے اور بالفرض اگر وہ مطالبہ کرے تو ضروری نہیں کہ اس کا شوہر اسے طلاق دے دے اور اس دوسری شادی میں اسلامی نے ہمبستری کی قید لگائی ہے کہ دوسرا مرد اس عورت کے ساتھ جو اب اس کی بیوی ہے ہمبستری بھی کرے اس چیز سے پہلے مرد کو یہ احساس بھی ہو گا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق بائن دے کر بھیج دے گا وہ کسی دوسرے مرد سے شادی کر کے ہمبستری کر لے گی اس کے بعد اگر بالفرض طلاق کی صورت میں وہ اس سے شادی بھی کرے تو یہ اسکی بے غیرتی کا ثبوت ہو گا۔

لیکن بعض جاہل لوگ اس مسئلہ کو دوسرے روپ سے پیش کرتے اور اس الہی حکم میں تحریف پیدا کر کے اپنا مفاد پورا کرتے ہیں جیسا کہ بعض ان اسلامی فرقوں میں جن میں صرف تین بار طلاق طلاق طلاق کہنے سے تین طلاق ہو جاتے ہیں حلالہ ایک بڑی مشکل کا علاج ہے۔ عام جاہل لوگ حلالہ کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ ادھر تین طلاق دینے کے بعد جب اپنے کئے پر پشیمان ہوئے تو اپنی بیوی کو کسی مرد کے پاس ایک رات کے لیے بھیج دیا اس کے بعد دوسرے دن وہ حلال ہو کر واپس آگئی۔ اس عمل کو شریعت اسلامی نے صریحا حرام قرار دیا ہے۔ جیسا کہ حدیث نبوی(ص) میں ایسا کرنے والوں پر لعنت بھی کی گئی ہے” لعن اللہ المحلل و المحلل لہ‘‘ (ترمذی)”خدا کی لعنت ہو اس مرد پر جو اپنی بیوی کو حلال کرنے کے لیے بھیجے اور اس مرد پر جو دوسرے کی بیوی کو اس طرح حلال کرے‘‘۔ ( یہ حدیث أبوداود ،احمد ،النسائي ،الترمذي اورابن ماجه میں بیان ہوئی ہے)عام لوگوں میں رائج حلالہ اور قرآن میں بیان شدہ حکم حلالہ میں فرق۔ عوام میں جو حلالہ رائج ہے وہ یوں ہے کہ جو اپنی بیوی کو تین طلاق دینے کے بعد نادم ہو جائے تو وہ حلالہ کو اپنی مشکل کا راہ حل سمجھتے ہوئے اپنی بیوی کو کسی ملاں کے پاس بھیج دیتا ہے اور وہ ملاں اسے حلال کر کے لوٹا دیتا ہے یہ چیز اہل تشیع کے سماج میں رائج نہیں ہے کیونکہ اہل تشیع کے نزدیک تین بار طلاق کہنے سے طلاق نہیں ہوتی

اور جو شخص الگ الگ دفعہ تین بار اپنی بیوی کو طلاق دے وہ دوبارہ کم ہی اس کی طرف رجوع کی سوچے گا اور پھر حلالہ کرنے کی کوشش کرے گا اس لیے حلالہ زیادہ تر اہلسنت کے نزدیک رائج ہے۔لیکن قرآن اور شریعت میں جو حلال کرنے کا طریقہ کار ہے وہ یہ ہے کہ تین طلاق کے بعد عورت کو اختیار حاصل ہے وہ چاہے کسی سے شادی کرے یا نہ کرے اور کسی دوسرے مرد سے شادی کرنے کی صورت میں بھی اس کو مکمل اختیار ہے کہ وہ دوسرے شوہر سے طلاق لے یا نہ لے اس میں پہلے مرد کا کوئی رول نہیں ہے اب ایسی صورت میں یہ عورت دوسرے کے ساتھ سالھا سال زندگی بسر کرے اور فرضا اگر اس کا شوہر اسے اپنی مرضی سے طلاق دے دے یا مر جائے ۔ تو ایسی صورت میں اگر وہ عورت چاہے تو پہلے مرد کے ساتھ دوبارہ شادی کر سکتی ہے۔لہذا وہ حلالہ جو اہل سنت کے سماج میں رائج ہے بالکل ناجائز اور حرام ہے اور اس بات پر تمام علمائے اہلسنت اور علمائے اہل تشیع کا اتفاق ہے لیکن حلالہ کا وہ طریقہ جو قرآن اور احادیث میں بیان ہوا ہے وہ تمام علمائے اسلام کے نزدیک صحیح اور اسلامی طریقہ ہے۔

ایک عورت رسول اللہﷺ کے پاس آئی اور اپنے شوہر کی شکایت کی

ایک عورت رسولﷺ کے پاس آئی اور اپنے شوہر کی شکایت کی کہ وہ بہت زیادہ اپنے دوستوں کو گھر دعوت دیتا رہتا ہے اور وہ تھک جاتی ہے کھانے بنا بنا کے اور ان کی مہمانداری میں ۔ رسول ﷺ نے کوئی جواب نہیں دیا اور وہ عورت واپس چلی گئی ۔ کچھ دیر بعد رسول ﷺ نے اس عورت کے شوہر کو بلوایا اور فرمایا ، ” آج میں تمہارا مہمان ہوں ۔” وہ آدمی بہت خوش ہوا اور گھر جا کے اپنی بیوی کو بتایا کہ رسول الله ﷺ آج ہمارے مہمان ہیں ” اس کی بیوی بیحد خوش ہو گئی اور وقت لگا کر محنت سے ہر اچھی چیز تیار کرنے لگ گئی اپنے سب سے معزز مہمان رسول ﷺ کے لئے ۔

اس زبردست پر تکلف دعوت کے بعد رسول ﷺ نے اس شخص سے کہا کہ ‘اپنی بیوی سے کہنا کہ اس دروازے کو دیکھتی رہے جس سے میں جاوں گا ‘۔ تو اس کی بیوی نے ایسا ہی کیا اور دیکھتی رہی کہ کس طرح رسول ﷺ کے گھر سے نکلتے ہی آپ کے پیچھے بہت سے حشرات ، بچھو اور بہت سے مہلک حشرات بھی گھر سے باہر نکل گئے اور یہ عجیب و غریب منظر دیکھ کر وہ بے ہوش ہو گئی۔ جب وہ رسول ﷺ کے پاس آئی تو آپﷺ نے فرمایا کہ ” یہ ہوتا ہے جب تمہارے گھر سے مہمان جاتا ہے ، تو اپنے ساتھ ہر طرح کے خطرات ، مشکلات اور آزمائشیں اور مہلک جاندار گھر سے باہر لے جاتا ہے ، اور یہ اسی وجہ سے ہوتا ہے کہ جو تم محنت کر کے اس کی خدمت مدارت کرتی ہو ۔”جس گھر میں مہمان آتے جاتے رہتے ہیں الله اس گھر سے محبت کرتا ہے  اس گھر سے بہتر اور کیا ہو کے جو ہر چھوٹے بڑے کے لنے کھلا رہے۔

ایسے گھر پر الله کی رحمت اور بخشیش نازل ہوتی رہتی ہیں ۔رسول ﷺ نے فرمایا ، “جب الله کسی کا بھلا چاہتے ہیں تو ، اسے نوازتے ہیں , انہوں نے پوچھا ، ” کس انعام سے ؟ اے الله کے رسول ﷺ ؟” آپﷺ نے فرمایا ، ” مہمان اپنا نصیب لے کر آتا ہے ، اور جاتے ہوئے گھر والوں کے گناہ اپنے ساتھ لے جاتا ہے ۔ میرے عزیزو ! جان لو کہ مہمان جنت کا راستہ ہے ۔ رسول ﷺ کا ارشاد ہے کہ ، ” جو اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کے ساتھ بے لوث ہو ۔”

جمعہ کے دن یا رات اپنی بیوی سے ہمبستری کرنے کی فضیلت

بالغ خواتین اور بلحصوس شادی شدہ خواتین ضرور وڈیو دیکھیں ایک دن صبح سویرے حضور اکرم صلیﷲعلیہ وآلہ وسلم صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ساتھ تشریف فرما تھےکہ صحابہ کرام رضوانﷲعلیہم نے ایک طاقتور اور مضبوط جسم والے نوجوان کو روزگار کے لئے بھاگ دوڑ کرتے دیکھ کر کہا کاش اس کی جوانی اور طاقت اللہ کی راہ میں خرچ ہوتی تو رحمت عالم صلیﷲعلیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایاایسا مت کہو۔

کیونکہ اگر وہ محنت و کوشش اس لئے کرتا ہےمکہ خود کو سوال کرنے (مانگنے) سے بچائے اور لوگوں سے بےپرواہ ہوجائے تو یقینا وہ ﷲ کی راہ میں ہے اور اگر وہ اپنے ضعیف والدین اور کمزور اولاد کے لئے محنت کرتا ہے تاکہ انہیں لوگوں سے بےپرواہ کردے اور انہیں کافی ہوجائے تو بھی وہ اللہ کی راہ میں ہے اور اگر وہ فخر کرنے اور مال کی زیادہ طلبی کے لئے بھاگ دوڑ کرتا ہےدوڑ کرتا ہے تو وہ شیطان کی راہ میں ہے۔

ایک پرہیزگار نوجوان اور طوائف

حضرت یحییٰ بن ایوب خزاعی سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایک پرہیز گار جوان تھا، وہ مسجد میں گوشہ نشین رہتا تھا اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہتا تھا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو وہ شخص بہت پسند تھا۔ اس جوان کا بوڑھا باپ زندہ تھا اور وہ شخص عشاءکے بعد اپنے بوڑھے باپ سے ملنے روزانہ جایا کرتا تھا۔ راستہ میں ایک عورت کا مکان تھا، وہ اس جوان پر فریفتہ ہو گئی اور بہکانے لگی، روزانہ دروازے پر کھڑی رہتی اور جوان کو دیکھ کر بہکایا کرتی۔

ایک رات اس شخص کا گزر ہوا تو اس عورت نے بہکانا شروع کیا یہاں تک کہ وہ شخص اس کے پیچھے ہو گیا،جب وہ اس عورت کے دروازے پر پہنچا تو پہلے عورت اپنے مکان میں داخل ہو گئی پھر یہ شخص بھی داخل ہو نے لگا، اچانک اس نے اللہ تعالیٰ کو یاد کیا اور یہ آیت اس کی زبان سے بے ساختہ جاری ہو گئی ۔”اِنَّ الَّذِینَ اتَّقَوا اِذَا مَسَّھُم طَائِف مِّنَ الشَّیطَانِ تَذَکَّرُوا فَاِذَا ھُم مُبصِرُونَ (اعراف201) ”بے شک جو لوگ خدا سے ڈرتے ہیں جب انہیں شیطان چھوتا ہے وہ چونک جاتے ہیں اور ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں”۔اور پھر غش کھا کر وہیں دروازے پر گر پڑا۔ اندر سے عورت آئی، یہ دیکھ کر کہ جوان اس کے دروازے پر بے ہوش پڑا ہے، اس کو اپنے اوپر الزام آنے کا اندیشہ ہوا۔

چنانچہ اس نے اپنی ایک لونڈی کی مدد سے اس جوان مرد کو وہاںسے اٹھا کر اس کے دروازے پر ڈال دیا۔ ادھر بوڑھا باپ اپنے لڑکے کی آمد کا منتظر تھا، جب بہت دیر تک وہ نہ آیا تو اس کی تلاش میں گھر سے نکلا، دیکھا کہ دروازے پر بے ہوش پڑا ہے۔ بوڑھے نے اپنے گھر والوں کو بلایا، وہ اس کو اٹھا کر اپنے گھر کے اندر لے گئے۔ رات کو وہ جوان ہوش میں آیا۔ باپ نے پوچھا بیٹا! تجھے کیا ہو گیا ہے؟ اس نے جواب دیا، خیریت ہے۔باپ نے واقعہ کی حقیقت دریافت کی تو اس نے پورا واقعہ بیان کر دیا،پھر باپ نے پوچھا وہ کون سی آیت تھی جو تو نے پڑھی تھی؟ یہ سن کر بیٹے نے مذکورہ بالا آیت پڑھ کر سنا دی اور پھر بے ہوش ہو کر گر پڑا، اس کو ہلایا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ مر چکا ہے، چنانچہ رات ہی کو دفن کر دیا گیا۔

جب صبح ہوئی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس کے انتقال کی خبرملی تو مرحوم کے بوڑھے باپ کے پاس تعزیت کیلئے گئے، تعزیت کے بعد شکایت کی کہ مجھے خبر کیوں نہ دی۔ اس نے کہا امیر المومنین!رات ہونے کی وجہ سے اطلاع نہ دے سکے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، مجھے اس کی قبر پر لے چلو۔ قبر پر جا کر فرمایا، اے شخصوَلِمَن خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ جَنَّتَانِ ”اور اس شخص کیلئے جو خدا سے ڈرتا ہے دو باغ ہیں“(الرحمن)اس شخص نے قبر کے اندر سے جواب دیا۔یَا عُمَرُ قَد اَعطَانِیھَا رَبِّی فِی الجَنَّةِ۔”اے عمر اللہ نے مجھے دونوں جنتیں دے دی ہیں۔

ایک بادشاہ اپنے گھوڑے پر سوار تھا

ایک بادشاہ اپنے مُنہ زور گھوڑے پر سوار تھا. گھوڑا کسی وجہ سے بدکا تو بادشاہ سر کے بل زمین پر گر گیا اور اس کی گردن کی ھڈی کے مُہرے ہل گئے اب وہ گردن کو حرکت دینے پر بھی قادر نہ رہا. شاہی طبیبوں نے اپنی طرف سے سر توڑ کوششیں کیں مگر وہ بادشاہ کا علاج نہ کر سکے. ایک دن یونان کا ایک حکیم بادشاہ کے پاس آیا اور اس قدر جانفشانی سے علاج کیا کہ بادشاہ ٹھیک ھو گیا۔۔!!

علاج کے بعد وہ حکیم اپنے وطن لوٹ گیا۔۔!! کچھ عرصے بعد وہ دوبارہ بادشاہ کے دوبارہ بادشاہ کے وطن میں آیا تو سلام کے ارادے سے شاھی دربار میں حاضر ھوا اب لازم تھا کہ بادشاہ از روئے قدر دانی اس حکیم سے مروت اور مہربانی کا برتاؤ کرتا لیکن بادشاہ ایسے بن گیا جیسے اس حکیم کو جانتا ہی نہ ہو بادشاہ کے اس رویے سے حکیم بہت سخت رنجیدہ ہوا۔۔!! یونانی حکیم بادشاہ کے دربار سے باہر آیا تو اس نے ایک غلام کو پاس بلا کر کہا! میں تمہیں کچھ بیچ دیتا ہوں انہیں بادشاہ کی خدمت میں پیش کرنا اور کہنا کہ یونانی حکیم نے دئیے ہیں۔۔! انہیں دہکتے انگاروں پر ڈال کر ان کی دھونی لی جائے تو بہت فائدہ ہوتا ہے۔۔!

غلام نے وہ بیچ بادشاہ کو پیش کر دئیے اور ساتھ میں ان کے فوائد سے بھی آگاہ کیا بادشاہ کے حکم سے فورا دہکتے انگارے پیش کیے گئے مگر جب بیچ انگاروں پر ڈال کر بادشاہ نے دھونی لی تو اسے ایک زور دار چھینک آئی جس سے اس کی گردن کے مہرے پھر سے پرانی حالت میں چلے گئے۔۔!! بادشاہ بہت چیخا چلایا سپاہی دوڑائے کہ حکیم کو گرفتار کر کے لاؤ باوجود بہت تلاش و بسیار کے اس حکیم کا کچھ پتا نہ چلا ساری عمر بادشاہ نے ایسی ہی گزار دی۔۔!! شیخ سعدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ہمیشہ محسن کو بھلائی کے ساتھ یاد رکھنا چاہیے۔۔!! احسان فراموش شخص کمینہ ہوتا ہے اور فرمان خداوندی ہے کہ کمینہ شخص بھلائی نہیں پا سکتا۔۔

ایک آدمی فجر کی نماز کیلئے بیدار ہوا تو

ایک آدمی فجر کی نماز کیلئے بیدار ہوا، تیار ہوکر مسجد کی جانب روانہ ہوا مگر تھوڑی ہی دور جاکر وہ رستے میں گر پڑا اور اسکے کپڑے خراب ہوگئے۔ وہ اٹھا اور گھر واپس آکر کپڑے بدلے اور دوبارہ مسجد کی جانب روانہ ہوا، لیکن وہ دوبارہ گر پڑا ٹھیک اُسی جگہ پر، مگر وہ پھر اٹھا اور واپس جا کر پھر سے لباس تبدیل کرکے مسجد کی جانب چل پڑا۔ تیسری دفعہ اُسے رستے میں ایک آدمی لالٹین پکڑے ملا، پہلے آدمی نے لالٹین والے آدمی سے اُسکی شناخت معلوم کی تو وہ بولا کہ میں نے آپکو دو مرتبہ اس جگہ پہ گرتے ہوئے دیکھا، تو میں یہ لالٹین لے آیا تاکہ آپکے کیلئے روشنی کرسکوں۔ پہلے آدمی نے اُسکا شکریہ ادا کیا اور دونوں مسجد کی جانب روانہ ہوئے۔

جب وہ مسجد پہنچے تو پہلے آدمی نے روشنی کرنے والے آدمی سے نماز کا پوچھا تو اُس نے انکار کیا۔ پہلے آدمی نے کئی دفعہ پوچھا مگر ہر بار لالٹین والے آدمی کا جواب “انکار” میں ملتا۔ آخر پہلے آدمی نے وجہ پوچھی کہ کیوں نہیں آرہے نماز کیلئے؟ تب وہ آدمی جواب میں کہنے لگا کہ “میں شیطان ہوں”۔ پہلا آدمی کافی حیران ہوا کہ آخر ایک شیطان میرے مسجد تک جانے کیلئے روشنی کرکے نیکی کا کام کیسے کرسکتا ہے۔ تب شیطان نے اُس آدمی کو مخاطب کرکے بتایا کے میں نے تمہیں مسجد کی طرف آتے دیکھا تو میں نے تمہیں گرایا، تم گھر گئے، خود کو صاف کیا اور پھر مسجد کی طرف روانہ ہوئے، تب اللہ تعالیٰ نے تمہارے سارے گناہ معاف فرما دئیے۔ لیکن بالکل اسی جگہ پہنچ کر میں نے دوبارہ تمہیں گرایا مگر وہ بھی تمہیں مسجد نا جانے پر نہ ابھار سکا۔

اور تم پھر تیار ہوکر مسجد کی جانب چل پڑے، اور اسکی وجہ سے رب تعالیٰ نے تمہارے اہل و عیال کے گناہ معاف فرما دئیے۔ تب میں ڈر گیا کہ اگر میں نے تمہیں ایک اور دفعہ گرایا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ ساری دنیا کے انسانوں کے گناہ معاف فرما دے۔ بس اسی لئے میں نے تمہارے لئے روشنی کی تاکہ تم بخیر و عافیت مسجد پہنچ جاؤ. اس واقعے کو بیان کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ کسی بھی نیک کام کو انجام دینے میں جتنی بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے انہیں برداشت کیجئے۔ انسان سوچ بھی نہیں سکتا کہ ہر مشکل و ہر آزمائش و امتحان پہ رب تعالیٰ اپنے بندے کو کتنا اجر دیتا ہے اور اسکا مقام کتنا بلند ہوتا جاتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا گیا کہ “رب تعالیٰ اپنے محبوب بندوں کو ہی آزمائش میں ڈالتا ہے تاکہ اسکا مقام و مرتبہ مزید بلند ہوسکے”۔ کسی بھی اچھے اور نیک کام کو چھوٹا نہ سمجھئے کہ ایک انسان اسکی قیمت کا اندازہ نہیں لگا سکتا۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

اولاد کی خواہش ہو اور کامیابی نہ مل رہی ہو

ورۃ یٰسین کو قرآن پاک کا دل قرار دیا گیا ہے ، اس سورۃ کی اللہ کے نزدیک بہت اہمیت ہے اور اس کو پڑھنے کا بہت زیادہ اجروثواب رکھا گیا ہے، بعض روایات میں آتا ہے کہ ایک دفعہ سورۃ یٰسین پڑھنے سے 10 قرآن پاک پڑھنے کے برابر ثواب ملتا ہے،۔ ثواب کے علاوہ انسانی زندگی پر بھی اس سورۃ کے انتہائی خوبصورت اثراتجن میں سے چند ایک کا ذیل میں ذکر کر رہے ہیں۔بے اولاد خواتین کے لئے یٰسین کا وظیفہ اولاد کے حصول کا باعث بنتا ہے ۔

اگر کسی کے ہاں اولاد نہ ہوتی ہو تو اسے چاہیے کہ جمعہ کی نماز کے بعد باوضو حالت میں مرتب ہوتے ہیں 11 مرتبہ یٰسین پڑھے اور پھر انتہائی رقت اور عاجزی کے ساتھ اپنا سرسجدے میں رکھ کر رب تعالیٰ کی بارگاہ میں اولاد کیلئے دعا مانگے۔ حق تعالیٰ نے چاہا تو جلد ہی مراد برآئے گی اور تب تعالیٰ نیک اور صالح اولاد سے نواز ے گا۔ اگر مراد پوری ہونے کی امید پیدا ہو جائے تو اس عمل کو ترک نہ کرے بلکہ جاری رکھے۔جائز انصاف کے حصول کیلئے اور مقدمے میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے فجر کی نماز کے بعد گیارہ مرتبہ یاسین پڑھیں اور پھر تاریخ پر جائیں۔ تاریخ پر عدالت کی طرف جاتے ہوئے دل میں یاسین کا ورد کرتے رہیں۔ اور منصف کے سامنے پیش ہونے پربھی دل میں یاسین کا وظیفہ جاری رکھیں۔

حق تعالیٰ نے چاہا تو انصاف کے حصول میں کامیابی ہو گی اور فیصلہ حسب منشاءہو گا۔ یاسین کے پڑھتے رہنے سے منصف کی طرف سے بے انصافی اور غلط فیصلہ دیئے جانے۔ کا خدشہ بھی جاتا رہے گا۔کاروبار کرنے والے افراد کے لئے ہر روز باوضو ہو کر سورہ یٰسین پڑھنا کاروباری مشکلات کو ختم کرتا ہے۔اس مقصد کیلئے ہر روز کاروبار کے مقام یعنی دکان، کارخانہ وغیرہ میں داخل ہو کر صبح سب سے پہلے یٰسین پڑھیں اور پھر کاروباری معاملات کی ابتدا کریں۔اس سے کاروبار میں ترقی کا سامان پیدا ہو گا اور کاروبار میں برکت پیدا ہو جائے گی۔ پردہ غیب سے رب تعالیٰ گاہک بھیج کر کاروبار کی ترقی و غیروبرکت کا سامان مہیا کرے گا۔اگر کسی پر کوئی جھوٹا الزام لگ جائے اور کوئی بھی خلاصی کا سامان نہ پیدا ہو رہا ہو۔ہر شخص اسے قصور وار سمجھ رہا ہو تو اس پریشانی سے نجات حاصل کرنے کیلئے۔

فجر کی نماز کے بعد اسی جگہ پر باوضو بیٹھ کر 11 مرتبہ یٰسین پڑھ کر رب تعالیٰ سے دعا مانگے۔حق تعالیٰ نے چاہا تو گیارہ دنوں میں ہی مطلوبہ مقصد حاصل ہو گا اور جھوٹے الزام سے بریت ہو جائے گی۔ جھوٹا الزام لگانے والا شرمندہ اور ذلیل ہو گا۔جس پر الزام لگا ہو گا، اس کی عزت میں اضافہ ہو جائے گا اور اس کی پریشانی و مشکل حل ہو جائے گی۔ خلوص نیت کے ساتھ یٰسین کا ورد کرنے سے پہلے تین دنوں میں ہی اچھا نتیجہ نکل آتا ہے۔