کیا کھڑے ہوکر غسل کرنا جائز ہے؟

اسلام دین یسر یعنی آسانی کا دین ہے۔ بعض لوگوں کا پیشہ بن چکا ہے کہ جان بوجھ کر اسلام کے نام پر لوگوں پر من مانی سختیاں مسلط کرتے رہتے ہیں۔معلوم نہیں ان کو اس میں کیا فائدہ ہے۔ لہٰذا جس طرح غسل کرنے میں آسانی ہو اور باپردہ جگہ ہو، اسی طریقے سے غسل کریں۔ خواہ بیٹھ کر ہو یا کھڑے ہو کر، کوئی ممانعت نہیں ہے۔ اصل مقصد طہارت حاصل کرنا ہے جو

شرائط ہے غسل کی وہ مد نظر رکھ کے وضو کیجئے اور سب سے شرائط کو غور سے سمجھئے۱ : اسلام
قبول کرنے کے بعد غسل کرنا چاہیئے۔ ( صحیح ابن خزیمہ سندہ صحیح)۔ ۲: جب مرد اور عورت کی شرمگائیںمل جائیں تو غسل فرض ہو جاتا ہے۔ ( صحیح مسلم)۔۳: احتلام ہو تو بھی غسل فرض ہو جاتا ہے۔ ( صحیح بخاری )۔۴: جمعہ کے دن غسل کرنا ضروری ہے۔ ( صحیح بخاری و صحیح مسلم )۔۵ : جو شخص میت کو نہلائے اسے غسل کرنا چاہیئے (اگر میت کے جسم سے نکلی غلاظت لگ جائے تو نہیں تو غسل ضروری نہیں بلکہ وضو کافی ہے۔اس پہ ہماری دوسری پوسٹ مکمل وضاحت سے موجود ہے)۔ ( رواہ الترمذی، صححہ ابن حبان و ابن حزم، نیل، صححہ الا لبانی، صححہ الحاکم و الذھبی)۔۶: احرام باندھتے وقت غسل کرنا چاہیئے۔ ( رواہ الحاکم و سندہ صحیح، المستدرک )۔

۷: عورت کو اذیت ماہانہ اور نفاس کے بعد غسل کرنا فرض ہے۔ (صحیح بخاری)۔غسل کے متفرق مسائل حالت جنابت میں رکے ہوئے پانی میں غسل نہ کرے۔( صحیح مسلم)۔ پانی میں فضول خرچی نہ کرے۔ ( احمد و ابو داود و ابن ماجہ و سندہ صحیح، التعلیقات )۔غسل کے لیے تقریباً سوا صاع یعنی چار کلو گرام پانی کافی ہے۔ ( صحیح بخاری )۔برہنہ ہوکر پانی میں داخل نہ ہو۔ ( ابن خزیمہ، صححہ الحاکم و الذھبی۔ المستدرک)۔نہاتے وقت پردہ کر لے۔ ( رواہ ابو داود و النسائی و احمد و سندہ حسن۔ التعلیقات للالبانی علی المشکوٰ? )۔ اسلام قبول کرنے کے بعد بیری( کے پتوں) اور پانی سے نہائے۔ (ابن خزیمہ و اسناد صحیح)۔ اگر عورت کے بال مضبوطی سے گندے ہوئے ہوں تو

انہیں کھولنے کی ضرورت نہیں۔( صحیح مسلم)۔مرد عورت کے اور عورت مرد کے بچے ہوئے پانی سے غسل نہ کرے۔ ( ابوداود و النسائی سندہ صحٰح ، التعلیقات )۔مرد اپنی بیوی کے بچے ہوئے پانی سے غسل کر سکتا ہے۔ (صحیح مسلم)۔ فرض غسل کرنے کے بعد دوبارہ وضوءکرنے کی ضرورت نہیں۔ ( رواہ الترمذی و صححہ)۔غسل کرنے کا طریقہ?حمام میں داخل ہونے کی دعائ بسم اللہ اعوذباللہ من الخبث و الخبائث ( رواہ العمری بسند صحیح ، فتح الباری جزء) ۔برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے ہاتھوں کو تین مرتبہ دھوئے۔ بائیاں ہاتھ ہر گز پانی میں نہ ڈالیں پانی دائیں ہاتھ سے لیں۔ ( صحیح مسلم )۔ پھر بائیں ہاتھ سے اپنی شرم گاہ اور نجاست کو دھوئے۔ ( صحیح بخاری ) پھر بائیں ہاتھ کو زمین پر دو تین مرتبہ خوب رگڑے اور پھر اسے دھو ڈالے (موجودہ دور میں صابن سے اچھی طرح ہاتھ دھونا کافی ہے، اگر صابن نہیں تو مٹی پہ مار سکتا ہے کیونکہ

مٹی پاکی کا زریعہ ہے۔ ( صحیح بخاری و صحیح مسلم )۔پھر اسی طرح وضوء کرے جس طرح صلٰو کے لیئے وضوء کیا جاتا ہے۔ (اگر سر کا مسح نہ کرے ااور پیر نہ دھوئے تو بھی حرج نہیں۔ غسل کے بعد سائیڈ پہ ہو کر پیر دھو لے۔ اور اگر دوران غسل ہوا خارج نہ ہوئی۔ نہ ہی پیشاب کیا نہ ہی شرم گاہوں کو چھوا تو اس وضو سے نماز پڑھ سکتا ہے) ( صحیح بخاری )۔ یعنی تین مرتبہ کلی کرے ،تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالے، کلی اور ناک مین پانی ایک چلو سے ڈالیں۔ (صحیح بخاری،رواہ ابن خزیمہ سندہ حسن،رواہ احمد و روی النسائی و ابو داود و ابنحبان و بلوغ الامانی جزئ ۲ فتح الباری جزء ۱ )تین دفعہ چہرہ دھوئے اور تین دفعہ دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوئے۔ ( رواہ النسائی اسناد صحیح ، فتح الباری جزئ ۱ )۔پھر انگلیاں پانی سے تر کرے اور سر کے بالوں کی جڑوں میں خلال کرے ، یہاں تک کہ سر کی جلد تر ہو جانے کا یقین ہو جائے پھر سر پر تین مرتبہ پانی بہائے۔ ( صحیح بخاری ) پھر باقی تمام بدن پر پانی بہائے۔ پہلے دائیں طرف پھر بائیں طرف۔ ( صحیح بخاری )

گزرے کل کے بادشاہ

ایک سرکاری دورے پر سعوری عرب شاہ فیصل (شہید) برطانیہ تشریف لے گئے۔ کھانے کی میز پر انتہائی نفیس برتنوں کے ساتھ چمچے اور کانٹے بھی رکھے ہوئے تھے۔ دعوت شروع ہوئی۔سب لوگوں نے چمچے اور کانٹے استعمال کئے لیکن شاہ فیصل نے سنتِ نبوی کے مطابق ہاتھ ہی سے کھانا کھایا۔ کھانا ختم ہوا تو کچھ صحافیوں نے شاہ فیصل سے چمچہ استعمال نہ کرنے کی وجہ پوچھی۔ شاہ فیصل نے کہا: ” میں اس چیز کا استعمال کیوں کروں جو آج میرے منہ میں ہے اور کل کسی منہ میں جائیں گا۔ یہ ہاتھ کی اُنگلیاں تو

میری اپن ہیں۔یہ تو ہمیشہ میرے منہ میں جائیں گی اس لیے میں اپنے ہاتھ سے کھانے کو ترجیح دیتا ہوں۔“ایک دفعہ امریکی صحافیوں کا ایک وفد سعودی عرب دورے پر آیا۔وہ وہاں ایک ہفتہ ٹھہرا۔ اس دوران وفد کے ارکان نے سعودی عرب میں امن و امان کی صورتِ حال کا بغور جائزہ لیا۔ انھوں نے اس چیز کو شدت سے محسوس کیا کہ سعودی عرب میں چوری کرنے والے کے ہاتھ سزا کے طور پر کاٹ دیے جاتے ہیں۔ انھیں لگا یہ سزا سراسر زیادتی اور انسانی حقوق کے تقاضوں کے خلاف ہے۔وفد کو یہ بھی معلوم ہو اکہ دہرے جرائم میں مجرموں کو سرِ عام کوڑوں کی سزا دی جاتی ہے۔ امریکا میں توا یسی سزاوں کا تصور بھی نہیں تھا۔ وفد کی ملاقات شاہ فیصل سے بھی طے تھی۔ ملاقات کے دوران ایک صحافی نے شاہ فیصل سے ان سزاوں کا ذکر کیا کہ اتنی سخت سزائیں آپ نے کیوں نافذ کر رکھی ہیں۔یہ تو سراسر اانسانی حقوق کے خلاف ہے۔صحافی کے اس چبھتے سوال سے شاہ فیصل کے چہرے پر کوئی شگن دیکھنے میں نہ آئی ، بلکہ انھوں نے اس صحافی کی بات کو تحمل سے سنا۔جب وہ صحافی اپنی بات مکمل کر چکا تو شاہ فیصل چند سیکنڈ خاموش رہے۔

صحافی یہ سمجھا کہ اس نے شاہ فیصل کو لا جواب کر دیا ہے۔ کچھ دیر رُک کر شاہ فیصل بولے، ” کیا آپ لوگ اپنی بیگمات کو بھی ساتھ لے کر آئے ہوئے ہیں؟“ کچھ صحافیوں نے ہاں میں سر ہلائے۔اس کے بعد شاہ فیصل نے کہا” ابھی آپ کا دورہ ختم ہونے میں چند دن باقی ہیں۔آپ اپنی بیگمات کے ساتھ شہر کی سونے کی مارکیٹ میں چلے جائیں اور اپنی خواتین سے کہیں کہ وہ اپنی پسند سے سونے کے زیورات کی خریداری کریں۔ ان سب زیورات کی قیمت میں اپنی جیب سے اداکروں گا۔ اس کے بعد وہ زیورات پہن کر آپ سعودی عرب کے بازاروں اور گلیوں میں آزادانہ گھومیں پھریں۔ ان زیورات کی طرف کوئی میلی آنکھ سے بھی دیکھ نہیں پائے گا۔ دو دن کے بعد آپ کی امریکہ واپسی ہوگی۔کیا وہ زیورات پہنے ہوئے آپ اور آپ کی خواتین بلاخوف وخطر اپنے اپنے گھروں کو پہنچ جائیں گے؟“جب شاہ فیصل نے صحافیوں سے یہ پوچھا تو سارے صحافی ایک دوسرے کا ہونقوں کی طرح منہ تکنے لگے۔شاہ فیصل نے دوبارہ پوچھا تو چند صحافیوں نے کہا” بلا خوف وخطر ائیرپورٹ سے نکل کر گھر پہنچنا تو درکنار ہم ائیرپورٹ سے باہر قدم بھی نہیں رکھ سکتے۔

“شاہ فیصل نے جواب دیا۔” سعودی عرب میں اتنی سخت سزاوں کا نفاذ ہی آپ کی پریشانی کا جواب ہے۔ آپ نے اپنے سوال کا جواب خود ہی دے دیا۔ عربوں کی اسرائیل کے ساتھ 1973 میں لڑی گئی مشہورِ زمانہ جنگ یوم کپور میں امریکہ اگر پسِ پردہ اسرئیل کی امداد نہ کرتا تو مؤرخین لکھتے ہیں کہ فلسطین کا مسئلہ حل ہو چکا ہوتا۔ فخر کی بات یہ ہے کہ اس جنگ میں پاکستان نے بھی مقدور بھر حصہ لے کر تاریخ میں پنا نام امر کیا۔ اس جنگ کے دوران شا ه فیصل مرحوم نے ایک دلیرانہ فیصلہ کرتے ہوئے تیل کی پیداوار کو بند کردیا تھا،

ان کا یہ مشہور قول (ہمارے آباء و اجداد نے اپنی زندگیاں دودھ اور کھجور کھا کر گزار ی تھیں، آج اگر ہمیں بھی ایسا کرنا پڑ جاتا ہے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا) اپنی ایک علیٰحدہ ہی تاریخ رکھتا ہے۔ شا ه فیصل مرحوم کا یہ فیصلہ امریکہ کیلئے ایک کاری ضرب کی حیثیت رکھتا تھا جس کو تبدیل کرنے کی ہر امریکی تدبیر ناکام ہو رہی تھی۔ امریکی وزیرِ خارجہ کسنجر نے شا ه فیصل مرحوم سے 1973 میں اسی سلسے میں جدہ میں ایک ملاقات کی۔ تیل کی پیداوار کو دوبارہ شروع کرنے میں قائل کرنے کی ناکامی کے بعد کسنجر نے گفتگو کو ایک جذباتی موڑ دینے کی کوشش کرتے ہوئے

شاه فیصل مرحوم سے کہا کہ اے معزز بادشاہ، میرا جہاز ایندھن نہ ہونے کے سبب آپ کے ہوائی اڈے پر ناکارہ کھڑا ہے، کیا آپ اس میں تیل بھرنے کاحکم نہیں دیں گے ؟ دیکھ لیجئےکہ میں آپ کو اسکی ہر قسم کی قیمت ادا کرنے کیلئے تیار بیٹھا ہوں۔ کسنجر خود لکھتا ہے کہ میری اس بات سے ملک فیصل مرحوم کے چہرے پر کسی قسم کی کوئی مسکراہٹ تک نہ آئی، سوائے اس کے کہ انہوں نے اپنا جذبات سے عاری چہرہ اٹھا کر میری طرف دیکھا اور کہا، میں ایک عمر رسیدہ اور ضعیف آدمی ہوں، میری ایک ہی خواہش ہے کہ مرنے سے پہلے مسجد اقصی میں نماز کی دو رکعتیں پڑھ لوں، میری اس خواہش کو پورا کرنے میں تم میری کوئی مدد کر سکتے ہو؟

تم اپنے محمدؐ کو مدد کیلئے کیوں نہیں بلاتے؟

583ھ میں سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ نے ہر طرف جہاد میں بھرتی کا اعلان فرما دیا پھر آپ لشکر لے کے طبریہ کی طرف بڑھے اور بزور جنگ اسے فتح کر لیا یہ صورت حال دیکھ کر صلیبیوں نے بھی لڑائی کی تیاری کی اور ہر دوردراز اور قریب کے علاقوں کے صلیبی ان کے لشکر میں شامل ہونے لگے سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کے لشکر میں بارہ ہزار گھڑ سوار تھے اور پیادہ لشکر اس کے علاوہ تھا۔

صلیبیوں کی تعداد اسی ہزار کے لگ بھگ تھی ۔کئی دن دونوں لشکر آمنے سامنے رہے بالآخر جبل حطین لڑائی کا مرکز بنا اس لڑائی میں صلیبیوں کی بدقسمتی عروج پر رہی اور ان کے بڑے بڑے سردار اور حکام پکڑے گئے جن میں ان کا بادشاہ یروشلم گائی بھی شامل تھا ۔ عماد الکاتب کا کہنا ہے کہ اس دن جنگ میں اتنے صلیبی قتل اور گرفتار ہوئے کہ مقتولین کو دیکھنے سے اندازہ ہوتا تھا کہ پوری فوج قتل ہو چکی ہے جبکہ قیدیوں کے ڈھیر دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ پوری فوج زندہ گرفتار کر لی گئی ہے ۔ ایک مسلمان سپاہی تیس تیس صلیبیوں کو خیمہ کی ایک رسی میں باندھ کر ہنکاتا پھر رہا تھا اس لڑائی نے صلیبیوں کی قوت کو پارہ پارہ کر دیا ان کی بڑی مقدس صلیب مسلمانوں کے ہاتھ آگئی تھی اور ان کا مشہور جنگجو بادشاہ ریجی نالڈ جس نے ایک بار مسلمانوں کے ایک قافلے کو گرفتار کر لیا تھا اور جب انہیں قتل کرنے لگا تو ان سے کہا اب تم محمد کو اپنی مدد کے لئے کیوں نہیں بلاتے ہو ملعون بھی مسلمانوں کے قید میں تھا سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ نے اسے کہا کہ اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مدد آچکی ہے ۔ پھر اسے قتل کر دیا قتل سے پہلے اس کے سامنے اسلام پیش کرنے کی بھی ایک روایت ہے اس جنگ سے حاصل ہونے والے قیدی دمشق کے بازاروں میں ایک ایک جوتے کے بدلے فروخت ہوئے۔جب قاضی ابن ابی عصرون دمشق میں داخل ہوئے۔

تو عیسائیوں کی بڑی صلیب ان کے سامنے سر نگوں پڑی ہوئی تھی ۔ سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ نے اپنے یلغار کو جاری رکھا اور آپ کے بھائی کے لشکر نے ناصریہ، قیساریہ، عسکا، صفوریہ، شقیف ، فلہ ، تبنین ، صیدا، بیروت ، صور ، عسقلان ،کے علاقے فتح کئے اور رملہ وغیرہ مضافاتی علاقے فتح کرنے کے بعد سلطان نے اپنی اصل منزل مقصود بیت المقدس کا رخ کیا۔فلسطین کے وہ تمام علاقے جن پر سلطان نے قبضہ کر لیاتھا وہاں کے صلیبی اور عسقلان کے شکست خوردہ لشکروں نے بھی بیت المقدس میں پناہ لے لی تھی اور

ساٹھ ہزار صلیبی جنگجو بیت المقدس پر اپنے قبضے کو برقرار رکھنے کے لیے جمع تھے مسلمانوں نے پورے عزم اور ولولے کے ساتھ صلیبیوں پر حملہ کر دیا اور بالآخر صلیبیوں نے امان مانگی۔ سلطان نے ان کی درخواست قبول کرلی اور یہ قرار پایا کہ بیت المقدس کے تمام مسیحی فی مرد دس دینار ،فی عورت پانچ دینار اور فی بچہ دو دینار فدیہ اداء کریں چالیس دن تک جو فدیہ نہیں دے گا وہ غلام شمار کیا جائے گا ۔ اس قرار داد کے بعد جمعہ 27 رجب 583ھ [ مطابق ستمبر 1187ء ] صلیبیوں نے بیت المقدس مسلمانوں کے حوالے کر دیا اور

اکانوے سال سے جاری ظلم و بربریت کا وہ دور ختم ہو گیا جس نے پوری امت مسلمہ کے سر شرم سے جھکا رکھے تھے اور اللہ کا یہ پاک گھر پھر اپنے حقیقی باسبانوں کے ہاتھ میں آگیا اور مسجد اقصیٰ نے سکون کا سانس لیا ۔ جب سلطان ایوبی مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے تو اس کے ایک حصے میں خنزیر بندھے ہوئے تھے اور اسکے غربی حصے میں فوج کے لیے بیت الخلاء تھے اور محراب کو بند کر دیا گیا تھا ۔ مسلمانوں نے فوراً اس کی پاکی و صفائی کا اہتمام کیا اور مسجد میں قیمتی قالین بچھا دیئے گئے اور خوبصورت اور قیمتی قندیلوں سے اسے منور کیاگیا

شعبان کے پہلے جمعے میں اکانوے سال بعد مسجد اقصیٰ سے دوبارہ اذان گونجی اور اس کے منبر سے خطبہ دیا گیااورسلطان نے اظہار تشکر کے لیے گنبد صخریٰ میں نماز اداء فرمائی کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بعد اللہ تعالٰی نے انہیں بیت المقدس کی فتح کا اعزاز بخشا تھا ۔ صلیبیوں نے گنبد صخریٰ میں جو تبدیلیاں کر دی تھی وہ ختم کر دی گئیں اور سلطان تقی الدین نے خود مسجد اقصیٰ میں حاضری دی اور گلاب کے پانی سے اسے غسل دیا اور اپنے ہاتھوں سے جھاڑو دینے کی سعادت حاصل کی اور ہر طرف خوشبوئیں بھکیر دیں۔

آج جبکہ پچاس سال ہونے کو ہیں اور مسجد اقصیٰ یہودیوں کے ناجائز قبضے میں ہے ۔ہم ان واقعات کو مسجد اقصیٰ کی فتح کے واقعے پر ختم کر رہے ہیں تاکہ اس باب کو پڑھنے والا ہر شخص غزوہ بدر سے لے کر مسجد اقصیٰ کی دوبارہ فتح تک کی تاریخ کو بار بار پڑھے اور اپنے دل میں اس نیت اور عزم کو پختہ کرے جو نیت اور عزم سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ نے اپنے دل میں پختہ کیا تھا اور بالآخر وہ مسجد اقصیٰ کو خنزیروں سے پاک کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے ۔بات صرف عزم کی ہے بات صرف سچی نیت کی ہے پھر یہ عزم اور

نیت انسان کو گھر نہیں بیٹھنے دیتے اور منزل پر پہنچے بغیر چین نہیں کرنے دیتے سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ بھی ہماری طرح ایک انسان تھے لیکن ان کے دل میں یہ بے چینی تھی کہ مسجد اقصیٰ کافروں کے قبضے میں کیوں ہے ؟ ان کے دل میں یہ خلش تھی کہ اگر ہم اپنے مقدس مقامات کی حفاظت بھی نہیں کر سکتے تو پھر زندہ رہنے کا کیا فائدہ ہے ؟ اس زمانے میں بھی مسلمان انتشار کا شکار تھے ۔ اس زمانے میں بھی مسلمانوں کی بڑی تعداد جہاد سے غافل ہو کر عیش پرستی میں پڑ چکی تھی اس زمانے میں بھی سفید چہرے والا کالا یورپ اسلام کو مٹانے کے لیے اور اس کے سینے میں صلیب گھونپنے کے لیے متحد ہو چکا تھا مگر سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ نے اپنے اوپر آرام کو حرام کرلیا اور گھوڑے کی پشت کو اپنا تخت اور رات کے وقت مصلے کو اپنا بستر بنایاانہوں نے ایک طرف پکار پکار کر مسلمانوں کو جہاد کی دعوت دی اور بڑے بڑے علماء کرام سے جہاد پر کتابیں لکھوا کر پوری اسلامی دنیا میں پھیلائیں اور منبر و محراب کے جمود کو برق صفت شعلہ عزم خطباء کے ولولہ انگیز خطبات سے توڑ ڈالا اور دوسری طرف سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ نے اللہ تعالٰی کے سامنے حد درجے کی آہ وزاری کی اور راتوں کی تاریکیوں میں اس نے بیت المقدس واپس لینے کی توفیق مانگی چنانچہ مسلمان بھی متحد ہوگئے۔

اور آسمان سے مدد کے دروازے بھی کھل گئے اور لاکھوں نفوس پر مشتمل صلیبیوں کی آہنی لشکر جو خود کو ناقابل تسخیر سمجھتے تھے سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کے سامنے مکڑی کے جالے ثابت ہوئے ۔ آج پھر وہی ماحول ہے ۔ آج پھر کفر نے خود کو نا قابل تسخیر سمجھ رکھا ہے آج پھر مسلمانوں میں انتشار اور جمود کی کیفیت ہے مگر اس خاک کے اندر بہت سارے شرارے چھپے ہوئے ہیں اور امت مسلمہ آج بھی سب کچھ کرنے کی طاقت رکھتی ہے مگر ضرورت ہے سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ جیسےایک قائد کی جو خود عمل کا پیکر ہو جو خود بے چینی اور خلش میں مبتلا ہو جس کی عزم میں آہن کی سختی اور جس کی نیت میں حوض کوثر کی پاکیزگی ہو جو درد سے بولتا ہو اور اپنا درد بانٹنے کی طاقت رکھتا ہو جس کا دل امت کی حالت دیکھ کر زخمی ہو مگر وہ ان زخموں کو کافروں کی طرف منتقل کرنے کا عزم رکھتا ہوں، جو اپنی ذات کے چکر اور ہر طرح کے رعب سے آزاد ہو جو صرف موت کے آئینے میں رخ یار کو تلاش کرتا ہو اور فقر سے محبت کرتا ہو۔

آج افغانستان کیطرف سے ایک خوبصورت جھلک تو نظر آئی کیا معلوم یہی وہ بدر منیر ہو جو امت مسلمہ کی تاریک رات کو روشن کرسکے لیکن اچھا قائد اچھے لوگوں کو ہی ملتا ہے اور ماہر کسان اچھی زمین ہی سے فصل نکال سکتا ہے آج ہر مسلمان کو جہاد کے لیے تیار ہونا ہوگا ۔ آج ہر مسلمان کو اپنی ذات کے خول سے نکلنا ہوگا آج ہرمسلمان کو اپنے اندر آہنی عزم اور سچی نیت پیدا کرنی ہوگی۔آج ہر مسلمان کو اسلامی ممالک کی ایک ایک چپہ زمین آزاد کرانے کا عزم کرنا ہوگا ۔ آج ہر مسلمان کوخون کے ایک ایک قطرے کا بدلہ لینے کی نیت کرنی ہوگی ۔ آج مسلمانوں کو اسلام کی عظمت کی خاطر خاک اور خون میں تڑپنے کا شوق اپنے اندر پیدا کرنا ہوگا۔ تب ان شاء اللہ خود انہی مسلمانوں میں سے کوئی سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ بھی پیدا ہو جائے گا ۔ اور کسی ماں کا بیٹا نورالدین زنگی رحمہ اللہ جیسا بھی کہلائے گا۔

اگر آپ کمرکے درد کا شکار ہے تو اللہ رب العزت کے اس حکم پر عمل کریں

برطانیہ کی برمنگھم یونیورسٹی، امریکا کی مینیسوٹا یونیورسٹی اور پین اسٹیٹ یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق کے دوان اسلام، عیسائیت اور یہودیت کی نماز یا عبادت کے طریقہ کار اور جسمانی صحت کے فوائد کا تقابلی جائزہ لیا گیا۔تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ اگر پانچ وقت کی نماز کو عادت بنالیا جائے اور درست انداز سے ادا کی جائے گی تو یہ کمردرد کے مسائل سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

تحقیق کے مطابق نماز کی مختلف چیزوں کی ادائیگی کے دوران کمر کے زاویوں میں تبدیلی سے کمر درد میں نمایاں کمی آتی ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ نماز کے دوران جسم کی حرکات یوگا یا فزیکل تھراپی سے ملتی جلتی ہیں جو کہ کمر کے درد کے علاج کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مختلف طبی رپورٹس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ نماز اور جسمانی طور پر صحت مند طرز زندگی کو برقرار رکھنے میں تعلق موجود ہے۔انہوں نے بتایا کہ نماز جسمانی تناو اور بے چینی کا خاتمہ کرتی ہے۔تحقیق کے دوران مختلف تجربات سے معلوم ہوا کہ دوران نماز رکوع اور سجدے کی حالت میں کمر کا زاویہ ایسا ہوتا ہے جو کمر درد میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

تاہم محققین نے بتایا کہ کمردرد میں کمی اسی وقت ممکن ہے جب اسے بالکل درست انداز سے ادا کیا جائے۔اس کے برعکس نماز کے اراکین کو ٹھیک طرح سے ادا نہ کرنا درحقیقت درد میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔یہ تحقیق جریدے انٹرنیشنل جرنل آف انڈسٹریل اینڈ سسٹمز انجنیئرنگ میں شائع ہوئی۔

حضرت عمرؓ نے کیوں فرمایا کے اپنی بیویوں سے تین دن بعد ہمبستری کیا کرو

سیدنا عمرؓ کے پاس کعب اسدی تشریف فرما تھے، ایک خاتون آئی اورآ کر کہنے لگی: امیر المومنین! میرا خاوند بہت نیک ہے، ساری رات تہجد پڑھتا رہتا ہے، اور سارا دن روزہ رکھتا ہے،- اور یہ کہہ کر خاموش ہو گئی، عمرؓ بڑے حیران کہ خاتون کیا کہنے آئی ہے؟ اس نے پھر یہی بات دہرائی کہ میرا خاوند بہت نیک ہے، ساری رات تہجد میں گزار دیتا ہے۔

اور سارا دن روزہ رکھتا ہے،اس پر کعبؒ بولے: اے امیرالمومنین! اس نے اپنے خاوند کی بڑے اچھے انداز میں شکایت کی ہے، کیسے شکایت کی؟امیرالمومنین! جب وہ ساری رات تہجد پڑھتا رہے گا اور سارا دن روزہ رکھے گا تو پھر بیوی کو وقت کب دے گا؟ تو کہنے آئی ہے کہ میرا خاوند نیک تو ہے-مگر مجھے وقت نہیں دیتا۔ چنانچہ عمرؓ نے اس کے خاوند کو بلایا تو اس نے کہا: ہاں میں مجاہدہ کرتا ہوں، یہ کرتا ہوں، وہ کرتا ہوں، حضرت عمرؓ نے حضرت کعبؓ سے کہا کہ آپ فیصلہ کریں، حضرت کعبؓ نے ان صاحب سے کہا کہ دیکھو! شرعاً تمہارے لیے ضروری ہے کہ تم اپنی بیوی کے ساتھ وقت گزارو، ہنسی خوشی اس کے ساتھ رہو اور کم از کم ہر تین دن کے بعد اپنی بیوی کے ساتھ ہم بستری کرو، خیر وہ میاں بیوی تو چلے گئے، تو عمرؓ نے ابی بن کعب سے پوچھا: آپ نے یہ شرط کیوں لگائی کہ ہر تین دن کے بعد بیوی سے ملاپ کرو؟

انہوں نے کہا: دیکھیں! اللہ رب العزت نے مرد کو زیادہ سے زیادہ چار شادیوں کی اجازت دی، چنانچہ اگر چار شادیاں بھی کسی کی ہوں تو تین دن کے بعد پھر بیوی کا نمبر آتا ہے، تو میں نے اس سے کہا کہ تم زیادہ سے زیادہ تین دن عبادت کر سکتے ہو تین دن کے بعد ایک دن رات تمہاری بیوی کا حق ہے، تمہیں گزارنا پڑے گا، تو دیکھو شریعت انسان کو کیا خوبصورت باتیں بتاتی ہے۔

بابا فریدؒ کا ایک مرید آپؒ کے پاس آیا

ایک مرتبہ بابافریدؒ کا ایک مرید آپؒ کے پاس آیا‘ وہ لوہار کا کام کیا کرتا تھا‘ آپؒ کےلئے خاص قینچی بنا کر لایا‘ خدمت مبارکہ میں حاضر ہوتے ہی عرض کرنے لگا‘ باباجی یہ میں اپنے رزق حلال میں سے آپ کےلئے ایک تحفہ لایا ہوں۔ باباجی نے جب قینچی دیکھی تو مسکرا دیئے اور فرمایا بیٹا درویش تحفہ رد نہیں کیا کرتے البتہ جب اگلی مرتبہ آنا ہو تو سوئی لے کر آنا‘ جب وہ مرید اگلی مرتبہ حاضر ہوا تو سوئی لے کر آیا‘۔

آپ کی خدمت میں پیش کی تو آپ نے فرمایا اس مرتبہ ہم نے تمہارا تحفہ خوشی سے قبول کیا اور پسندبھی کیا کیونکہ قینچی کا کام کاٹنا اور سوئی کا کام سینا ہوتا ہے‘ درویش کاٹنے کا نہیں سینے کا کام کرتے ہیں‘ درویشوں کا کام محبت و الفت کے رشتوں کی بنیاد رکھنا ہوتا ہے۔

رزق کی تنگی گھروں میں جھگڑوں کی وجہ

حضرت امام علی رض کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی اور ہاتھ جوڑ کر عرض کرنے لگی !! یا علی ؑ ہمارے گھر میں جھگڑے بہت ہوتے ہیں، کوئی کسی سے محبت نہیں کرتا اور رزق میں تنگی رہتی ہے حضرت علیؑ سے عورت نے پوچھا ایسا کیوں ہوتا ہے؟ عورت کا سوال سنتے ہی امیر المومنین امام علی علیہ السلام نے فرمایا اے ورت !! جب تم اللہ کا رزق پکاتے ہو تو کچھ نیچے تو نہیں گرتا ؟یہ سوال سن کر عورت نے عرض کیا ہاں علیؑ جب جب میں دودھ اُبالتی ہوں تو وہ تھوڑا سا گر جاتا ہے۔ بس عورت کا یہ کہنا تھا کہ حضرت علی رض نے فرمایا: اے عورت یاد رکھنا

کہ جب تم اللہ کا دیا گیا رزق گراؤ گی اور جلاؤ گی تو اس سے گھر میں بے سکونی ، جھگڑے ، نفرت اور رزق میں تنگی کے اسباب پیدا ہوں گے۔ دودھ کو ابال کر پینا چاہئے لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ دودھ ابل کر زمین پر نہ گرے تم اپنی اس عادت پر قابو پا لو اللہ کے کرم سے تمہارے گھر میں سکون ، محبت اور برکت آجائے گی۔ حضرت علیؑ کی بات سنتے ہی عورت گھر گئی اور آئندہ اللہ کے دیئے ہوئے رزق کو ضائع ہونے سے بچانے لگی اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے اپس کے گھر میں خوشخالی اور ہر طرف سکون ہوگیا۔ سبق: اپنے گھر میں اللہ کے دیئے ہوئے رزق کو ضائع ہونے سے بچائیں ، شکریہ ، التماس دعا: حضرت امام علی رض کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی اور ہاتھ جوڑ کر عرض کرنے لگی !! یا علی ؑ ہمارے گھر میں جھگڑے بہت ہوتے ہیں، کوئی کسی سے محبت نہیں کرتا اور رزق میں تنگی رہتی ہے ۔ حضرت علیؑ سے عورت نے پوچھا ایسا کیوں ہوتا ہے؟ عورت کا سوال سنتے ہی امیر المومنین امام علی علیہ السلام نے فرمایا اے عورت !! جب تم اللہ کا رزق پکاتے ہو تو کچھ نیچے تو نہیں گرتا ؟یہ سوال سن کر عورت نے عرض کیا ہاں علیؑ جب جب میں دودھ اُبالتی ہوں تو وہ تھوڑا سا گر جاتا ہے۔ بس عورت کا یہ کہنا تھا کہ حضرت علی رض نے فرمایا: اے عورت یاد رکھنا کہ جب تم اللہ کا دیا گیا رزق گراؤ گی اور جلاؤ گی تو اس سے گھر میں بے سکونی ، جھگڑے ، نفرت اور رزق میں تنگی کے اسباب پیدا ہوں گے۔ دودھ کو ابال کر پینا

چاہئے لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ دودھ ابل کر زمین پر نہ گرے تم اپنی اس عادت پر قابو پا لو اللہ کے کرم سے تمہارے گھر میں سکون ، محبت اور برکت آجائے گی۔ حضرت علیؑ کی بات سنتے ہی عورت گھر گئی اور آئندہ اللہ کے دیئے ہوئے رزق کو ضائع ہونے سے بچانے لگی اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے اپس کے گھر میں خوشخالی اور ہر طرف سکون ہوگیا۔ سبق: اپنے گھر میں اللہ کے دیئے ہوئے رزق کو ضائع ہونے سے بچائیں ، شکریہ ، التماس دعا: مدینہ میں آکر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مخالف گروہ نے آرام سے بیٹھنے نہ دیا۔ آپ کے وہ پیرو جو مکہ میں تھے انھیں طرح طرح کی تکلیفیں دی جانے لگیں بعض کو قتل کیا۔ بعض کو قید کیا اور بعض کو زد وکوب کیااور تکلیفیں پہنچائیں۔ پہلے ابو جہل اور غزوہ بدر کے بعد ابوسفیان کی قیادت میں مشرکینِ مکہ نے جنگی تیاریاں کیں، یہی نہیں بلکہ اسلحہ اور فوج جمع کر کے خود رسول کے خلاف مدینہ پر چڑھائی کردی، اس موقع پر رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اخلاقی فرض تھا کہ وہ مدینہ والوں کے گھروں کی حفاظت کرتے جنھوں نے کہ آپ کوانتہائی ناگوار حالات میں پنا ہ دی تھی اور آپ کی نصرت وامداد کاوعدہ کیا تھا، آپ نے یہ کسی طرح پسند نہ کیا آپ شہر کے اندرر کر مقابلہ کریں اور دشمن کو یہ موقع دیں کہ وہ مدینہ کی پر امن ابادی اور عورتوں اور بچوں کو بھی پریشان کرسکے۔ گو آپ کے ساتھ تعدادبہت کم تھی لیکن صرف تین سو تیرہ آدمی تھے، ہتھیار بھی نہ تھے مگر آپ نے یہ طے

کر لیا کہ آپ باہر نکل کر دشمن سے مقابلہ کریں گے چنانچہ پہلی لڑائی اسلام کی ہوئی۔ جو غزوہ بدر کے نام سے مشہور ہے۔ اس لڑائی میں زیادہ رسول نے اپنے عزیزوں کو خطرے میں ڈالا چنانچہ آپ کے چچا زاد بھائی عبید ہ ابن حارث ابن عبد المطلب اس جنگ میں شہید ہوئے۔ علی ابن ابو طالب علیہ السلام کو جنگ کا یہ پہلا تجربہ تھا۔ 25 برس کی عمر تھی مگر جنگ کی فتح کا سہرا علی بن ابی طالب کے سر رہا۔ جتنے مشرکین قتل ہوئے تھے ان میں سے آدھے مجاہدین کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے اس کے بعد غزوہ احد، غزوہ خندق، غزوہ خیبر اور غزوہ حنین یہ وہ بڑی لڑائیاں ہیں جن میں علی بن ابی طالب نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ رہ کر اپنی بے نظیر بہادری کے جوہر دکھلائے۔ تقریباًان تمام لڑائیوں میں علی بن ابی طالب کو علمداری کا عہدہ بھی حاصل رہا۔ اس کے علاوہ بہت سی لڑائیاں ایسی تھیں جن میں رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے علی بن ابی طالب کو تنہا بھیجا اورانھوں نے اکیلے ان تمام لڑائیوں میں علی بن ابی طالب نے بڑی بہادری اور ثابت قدمی دکھائی اور انتہائی استقلال، تحمّل اور شرافت نفس سے کام لیاجس کا اقرار خود ان کے دشمن بھی کرتے تھے۔ غزوہ خندق میں دشمن کے سب سے بڑے سورما عمر وبن عبد ود کو جب آپ نے مغلوب کر لیااور اس کاسر کاٹنے کے لیے اس کے سینے پر بیٹھے تو اس نے آپ کے چہرے پر لعب دہن پھینک دیا۔ آپ کو غصہ آگیااور آپ اس کے سینے پر سے اتر ائے۔ صرف اس خیال سے کہ اگر غصّے میں اس کو قتل کیا تو یہ عمل محض خدا کی راہ میں نہ ہوگا بلکہ خواہش نفس کے مطابق ہوگا۔ کچھ دیر کے بعد آپ نے اس کو قتل کیا، اس زمانے میں دشمن کو ذلیل کرنے کے لیے اس کی لاش برہنہ کردیتے تھے مگر علی بن ابی طالب نے اس کی زرہ نہیں اُتاری اگرچہ وہ بہت قیمتی تھی۔ چنانچہ اس کی بہن جب اپنے بھائی کی لاش پر آئی تو اس نے کہا کہ کسی اور نے میرے بھائی کوقتل کیا ہوتا تو میں عمر بھر روتی مگر مجھ یہ دیکھ کر صبر آگیا کہ اس کا قاتل علی بن ابی طالب سا شریف انسان ہے جس نے اپنے دشمن کی لاش کی توہین گوارا نہیں کی۔ آپ نے کبھی دشمن کی عورتوں یا بچّوں پر ہاتھ نہیں اٹھا یا اور کبھی مالِ غنیمت کی طرف رخ نہیں کیا

نماز کی اہمیت

ﻭﺍﺷﻨﮕﭩﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ،ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﺎﺭﮮ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﻮ ﻻﮔﻮ ﮐﺮ ﺩﻭﮞ۔ ﭘﻮﭼﮭﺎ ! ﮐﯿﻮﮞ؟ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ : ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﺗﻨﯽ ﺣﮑﻤﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ۔ ﻭﮦ ﺟﻠﺪ ﮐﮯ ﺍﺳﭙﯿﺸﻠﺴﭧ ﺗﮭﮯ۔ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ : ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﻮ ﻣﺎﺩﯼ ﻧﻈﺮﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﺗﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺩﻝ ﭘﻤﭗ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻥ ﭘﭧ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﺅﭦ ﭘﭧ ﺑﮭﯽ۔ ﺳﺎﺭﮮ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺯﮦ ﺧﻮﻥ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﮐﮧ ﺟﺐ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ

ﺟﺴﻢ ﮐﮯ ﺟﻮ ﺣﺼﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﯾﺸﺮ ﻧﺴﺒﺘﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺣﺼﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﯾﺸﺮ ﻧﺴﺒﺘﺎ ﮐﻢ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ﻣﺜﻼ ﺗﯿﻦ ﻣﻨﺰﻟﮧ ﻋﻤﺎﺭﺕ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﭽﮯ ﭘﻤﭗ ﻟﮕﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻧﯿﭽﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻣﻨﺰﻝ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺟﺒﮑﮧ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﻣﻨﺰﻝ ﭘﺮ ﺗﻮ ﺑﻠﮑﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﮔﺎﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﻭﮦ ﮨﯽ ﭘﻤﭗ ﮨﮯ ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻧﯿﭽﮯ ﭘﻮﺭﺍ ﭘﺎﻧﯽ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﭘﺎﻧﯽ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﭘﺮ ﺗﻮ ﺑﻠﮑﻞ ﭘﺎﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ۔ ﺍﺱ ﻣﺜﺎﻝ ﮐﻮ ﺍﮔﺮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺳﻮﭼﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺧﻮﻥ ﮐﻮ ﭘﻤﭗ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺧﻮﻥ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﮯ ﺍﻋﻀﺎﺀ ﻣﯿﮟ ﺑﻠﮑﻞ ﭘﮩﻨﭻ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ . ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻭﭘﺮ ﮐﮯ ﺍﻋﻀﺎﺀ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ۔ ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺳﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻝ ﺍﻭﭘﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺧﻮﻥ ﺳﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﮭﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﻣﺜﻼ ﺟﺐ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺳﺠﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯﺗﻮ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﮔﻮﯾﺎ ﭘﻮﺭﮮ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﻥ ﭘﮭﺮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔

ﺁﺩﻣﯽ ﺳﺠﺪﮦ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﻟﻤﺒﺎ ﮐﺮ ﻟﮯ ﺗﻮ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﯽ ﺟﻮ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﺷﺮﯾﺎﻧﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﻥ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ﺗﻮ ﻭﮦ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﮐﮧ ﻋﺎﻡ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﯿﭩﮭﺎ، ﻟﯿﭩﺎ ﯾﺎ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺑﯿﭩﮭﻨﮯ ، ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﻟﯿﭩﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺩﻝ ﻧﯿﭽﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯﺟﺒﮑﮧ ﺳﺮ ﺍﻭﭘﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﺠﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺍﻭﭘﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯﺍﻭﺭ ﺳﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻟﮩﺬﺍ ﺧﻮﻥ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﯽ ﺟﻠﺪ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ﺍﺱ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺑﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮑﻼ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺷﮑﺮ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺘﻨﺎ ﭘﯿﺎﺭﺍ ﺩﯾﻦ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﻋﻤﻞ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﺁﺝ ﮐﯽ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﺍﻭﺭ ﻋﻠﻢ ﺟﺪﯾﺪ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔

:43 ﻭَﺃَﻗِﻴﻤُﻮﺍ ﺍﻟﺼَّﻠَﺎﺓَ ﻭَﺁﺗُﻮﺍ ﺍﻟﺰَّﻛَﺎﺓَ ﻭَﺍﺭْﻛَﻌُﻮﺍ ﻣَﻊَ ﺍﻟﺮَّﺍﻛِﻌِﻴﻦَ :43 ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﺎ ﮐﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﺯﮐﻮٰﺓ ﺩﯾﺎ ﮐﺮﻭ ﺍﻭﺭ ) ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ( ﺟﮭﮑﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﮭﮑﺎ ﮐﺮﻭ ﻭَﺍﺳْﺘَﻌِﻴﻨُﻮﺍ ﺑِﺎﻟﺼَّﺒْﺮِ ﻭَﺍﻟﺼَّﻠَﺎﺓِ ۚ ﻭَﺇِﻧَّﻬَﺎ ﻟَﻜَﺒِﻴﺮَﺓٌ ﺇِﻟَّﺎ ﻋَﻠَﻰ ﺍﻟْﺨَﺎﺷِﻌِﻴﻦَ :45 ﺍﻭﺭ ) ﺭﻧﺞ ﻭﺗﮑﻠﯿﻒ ﻣﯿﮟ ( ﺻﺒﺮ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﺳﮯ ﻣﺪﺩ ﻟﯿﺎ ﮐﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺷﮏ ﻧﻤﺎﺯ ﮔﺮﺍﮞ ﮨﮯ، ﻣﮕﺮ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﭘﺮ ) ﮔﺮﺍﮞ ﻧﮩﯿﮟ ( ﺟﻮ ﻋﺠﺰ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ ﻳَﺎ ﺃَﻳُّﻬَﺎ ﺍﻟَّﺬِﻳﻦَ ﺁﻣَﻨُﻮﺍ ﺍﺫْﻛُﺮُﻭﺍ ﺍﻟﻠَّﻪَ ﺫِﻛْﺮًﺍ ﻛَﺜِﻴﺮًﺍ :41 ﺍﮮ ﺍﮨﻞ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺧﺪﺍ ﮐﺎ ﺑﮩﺖ ﺫﮐﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ :42 ﻭَﺳَﺒِّﺤُﻮﻩُ ﺑُﻜْﺮَﺓً ﻭَﺃَﺻِﻴﻠًﺎ :42 ﺍﻭﺭ ﺻﺒﺢ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﻡ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﺎﮐﯽ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﻮ ﺇِﻧَّﻤَﺎ ﻳَﻌْﻤُﺮُ ﻣَﺴَﺎﺟِﺪَ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﻣَﻦْ ﺁﻣَﻦَ ﺑِﺎﻟﻠَّﻪِ ﻭَﺍﻟْﻴَﻮْﻡِ ﺍﻟْﺂﺧِﺮِ ﻭَﺃَﻗَﺎﻡَ ﺍﻟﺼَّﻠَﺎﺓَ ﻭَﺁﺗَﻰ ﺍﻟﺰَّﻛَﺎﺓَ ﻭَﻟَﻢْ ﻳَﺨْﺶَ ﺇِﻟَّﺎ ﺍﻟﻠَّﻪَ ۖ ﻓَﻌَﺴَﻰٰ ﺃُﻭﻟَٰﺌِﻚَ ﺃَﻥْ ﻳَﻜُﻮﻧُﻮﺍ ﻣِﻦَ ﺍﻟْﻤُﻬْﺘَﺪِﻳﻦَ :18 ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻣﺴﺠﺪﻭﮞ ﮐﻮ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﺁﺑﺎﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺧﺪﺍ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺯ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﺯﮐﻮﺓ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮈﺭﺗﮯ۔ ﯾﮩﯽ ﻟﻮﮒ ﺍﻣﯿﺪ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ) ﺩﺍﺧﻞ ( ﮨﻮﮞ

بیوی کی بے صبری

بیوی کی بے صبری حضرت حبیب عجمی کی بی بی بدخلق تھیں،ایک دن شوہر سے کہنے لگیں اگر اللہ تعالیٰ تمہارے پاس کوئی فتوحات (مال وغیرہ) نہیں بھیجتا تو پھر مزدوری کر لوتاکہ گھر میں اخراجات پورے ہوں، حضرت اہلیہ کی بات سن کر جنگل میں تشریف لے گئے اور دن بھر عبادت الٰہی میں مصروف رہ کر شام کو گھر تشریف لے گئے مگر گھر داخل ہوتے ہی اہلیہ نے ایک ہی سوال کیا کہ مزدوری کہاں ہے؟ فرمایا خواہ کسی بھی معاملہ میں ہو بے فائدہ ہے لہٰذا جب بھی کوئی خلاف طبیعت ناگوار بات سامنے آئے یا خوشگوار

واقعہ پیش آئے یا پھر حالات ناسازگار ہوں تو صبر کا دامن نہ چھوٹنے پائے بلکہ تقدیر کے فیصلہ پر دل سے راضی رہنا اور صبر کرناہی مسلمان کی شایان شان ہے۔ روایت ہے کہ حضرت حبیب عجمی کی بی بی بدخلق تھیں،ایک دن شوہر سے کہنے لگیں اگر اللہ تعالیٰ تمہارے پاس کوئی فتوحات (مال وغیرہ) نہیں بھیجتا تو پھر مزدوری کر لوتاکہ گھر میں اخراجات پورے ہوں، حضرت اہلیہ کی باتسن کر جنگل میں تشریف لے گئے اور دن بھر عبادت الٰہی میں مصروف رہ کر شام کو گھر تشریف لے گئے مگر گھر داخل ہوتے ہی اہلیہ نے ایک ہی سوال کیا کہ مزدوری کہاں ہے؟ فرمایا کہ میں جس آقا کا مزدور ہوں وہ بے حد سخی ہے، اس سے مزدوری کا سوال کرتے ہوئے مجھے حیا آتی ہے، چنانچہ کئی دن تک یونہی سلسلہ سوال و جواب کا چلتا رہا، یہاں تک کہ اہلیہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور وہ اپنے شوہر کی بات کو نہ سمجھ سکی۔

بالآخر ایک دن مطالبہ کیا کہ یا تو اپنے آقا سے مزدوری کا مطالبہ کرو یا پھر کسی اور کی ملازمت و مزدوری کرو، کہا کہ اچھا آج مزدوری لاؤں گا حسب سابق دن بھر جنگل میں عبادت میں مصروف رہ کر جب شام کو لوٹے تو انتہائی پریشان اور رنجیدہ خاطر تھے کہ بیوی کو کیاجواب دوں گا؟ اسی پریشانی کے عالم میں جب گھر داخل ہوئے تو حیران انگشت بدندان رہ گئے کہ گھر کا نقشہ بدلا ہواہے تنور میں روٹیاں پک رہی ہیں اور اہلیہ محترمہ خوش و خرم، ہشاش بشاش شوہر کو دیکھتے ہی کہنے لگی واقعی آپ جس کی مزدوری کرتے ہیں وہ آقا بے انتہا سخی ہے اور اس نے ہم سے اپنی سخاوت کے مطابق معاملہ کیا ہے،اور تمہارے مستاجر نے کریموں کی سی اجرت روانہ کی ہے اور

اس کے قاصد نے پیغام دیا کہ حبیب سے کہو کہ عمل میں زیادہ کوشش کرو اور یہ نہ سمجھو کہ ہم نے اجرت میں جو تاخیر کی ہے وہ اس لیے کہ ہمارے پاس کچھ ہے نہیں اور نہ یہ بات ہے۔ کہ ہم بخیل ہیں، تم اپنی آنکھیں ٹھنڈی اور دل خوش رکھو، پھر بیوی نے چند توڑے دیناروں کے بھرے ہوئے دکھائے جنہیں دیکھ کر حضرت بہت روئے،اور پھر بیوی کو حقیقت سے آگاہ کیا کہ یہ اجرت اللہ تعالیٰ نے بھجوائی ہے اور بیوی کو آگاہ کیا کہ یہ اس کی بے صبری کا نتیجہ ہے یہ سن کر بیوی نے اپنی بے صبری سے توبہ کی آئندہ شوہر کو ایسی تکلیف نہیں دے گی۔ (قصص الاولیاء) بہرحال بے صبری اللہ کو ناپسند ہے اگر گھر میں کھانے پینے، رہنے سہنے کی تکلیف ہو تو بجائے شوہر کو ستانے یا پریشان کرنے کے اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلائے جائیں تو اس سے انشاء اللہ اطمینان و سکون حاصل ہو جائے گا

بیٹا تمہارا رشتہ تمہاری پھپو کے یہاں کرنے کا سوچا ہے

(ﻓﯿﺼﻞ ﻓﺮﺿﯽ ﻧﺎﻡ) ﮐﯽ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﻧﮯ ﻓﯿﺼﻞ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ ﺍﻣﯽ ﺗﺎﺑﻌﺪﺍﺭﯼ ﺳﮯ ﺳﺮ ﺟﮭﮑﺎﻟﯿﺎ، ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﭼﯿﺖ ﮨﻮﮔﺊ، ﺭﺷﺘﮧ ﻃﮯ ﭘﺎﮔﯿﺎ ﺷﺎﺩﯼ ﺩﻭ ﺳﺎﻝ ﺑﻌﺪ ﮨﻮﻧﺎ ﻗﺮﺍﺭ ﭘﺎﺋﯽ ﺍﺱ ﻋﺮﺻﮯ ﻣﯿﮟ، ﻓﯿﺼﻞ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺍﭼﮭﯽ ﺟﺎﺏ ﺗﻮ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﮨﯽ ﭘﺮ ﮔﮭﺮ ﮐﺮﺍﺋﮯ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﺭﺍﺩﮦ ﺍﻣﯿﺪ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺷﺎﺩﯼ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﺮﺍﺋﮯ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺟﺎﻥ ﭼﮭﻮﭦ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﻣﯿﮟ ﺑﻔﻀﻞ اللہ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﮔﯿﺎ، ﺳﺴﺮﺍﻝ ﺳﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﺑﺎﺅ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﻟﮕﺎ ، ﺑﮩﺮﺣﺎﻝ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻃﮯ ﮨﻮﮔﺊ، ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﮔﮭﺮﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﻣﺪ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﻗﺮﺽ ﺗﮭﺎ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺩﻭﺭ ﺣﺎﺿﺮ

ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺷﺎﺩﯼ ﺩﮬﻮﻡ ﺩﮬﺎﻡ ﺳﮯ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺗﻘﺎﺿﮧ، ﻓﯿﺼﻞ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺧﯿﺮﯾﺖ ﻭ ﺳﺎﺩﮔﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﻨﺖ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ، ﻓﯿﺼﻞ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺳﻮﭺ ﮐﮧ ﺳﺎﺩﮔﯽ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﺡ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﺑﻨﺎ ﮐﭽﮫ ﺟﮩﯿﺰ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﮯ ﺳﺴﺮﺍﻝ ﮐﮯ ﺗﻘﺎﺿﻮﮞ ، ﺁﻧﮯ ﺑﮩﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺑﺘﺎﻧﺎ ﺑﺎﺭﺍﺕ ﮐﯿﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺘﻨﯽ ﺷﺎﻧﺪﺍﺭ ﺁﺋﮯ، ﺑﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ، ﺷﺎﺩﯼ ﻭ ﻭﻟﯿﻤﮧ ﮐﮯ ﺩﻟﮩﻦ ﮐﮯ ﺟﻮﮌﮮ ﮐﺴﯽ ﺑﻮﺗﯿﮏ ﺳﮯ ﮨﯽ ﻟﯿﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﮨﻮﮔﺊ ﺗﺐ ﻏﻮﺭ ﮐﯿﺎ ﺟﮩﯿﺰ ﺗﻮ ﯾﻮﮞ ﮨﯽ ﺑﺪﻧﺎﻡ ﮨﮯ ﺑﺮﯼ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﭼﮭﺎ ﺧﺎﺻﺎ ﺳﻮﺩﺍ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﮨﺮ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﻈﻠﻮﻡ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﺻﻞ ﻣﻈﻠﻮﻡ ﺗﻮ ﺑﮯ ﭼﺎﺭﮦ ﻟﮍﮐﺎ ﮨﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﮧ ﺳﻮﭼﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ 25 ، 30 ﮨﺰﺍﺭ ﮐﯽ ﺳﯿﻠﺮﯼ ﻟﯿﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﻟﮍﮐﺎ، ﮔﮭﺮ ﺑﻨﺎﺋﮯ، ﺍﭘﻨﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﮮ، ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮩﻨﻮﮞ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯾﺎﮞ ﮐﺮﮮ،، ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﺮﯼ ﻭﮨﯽ ﭘﺮﺍﻧﯽ ﺑﮩﻨﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﺳﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﭨﮫ، ﻧﻮ ﺗﮏ ﮨﻮﺳﮑﺘﯽ ﮨﯿﮟ …ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺭﻣﺎﻥ ﺗﮭﻮﮌﮮ ﮐﻢ ﮐﺮﯾﮟ، ﺳﻮﭺ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﻢ ﮨﯽ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﺷﺨﺺ ﭘﮭﺮ ﺍﯾﺴﯽ ﺳﻮﭺ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﺭﮐﮭﮯ ﮐﮧ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺳﭩﯿﺒﻠﺸﻤﻨﭧ ﭘﻠﺲ ﺑﮩﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﮩﯿﺰ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﺪﺩ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺧﻮﺩ ﮐﺎ ﮨﯽ ﻗﺼﻮﺭ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺳﻮﭺ ﻟﮍﮐﻮﮞ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻟﮍﮐﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺎﺅﮞ ﮐﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔

ﻧﮧ ﺁﺝ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﻮ ﺟﮩﯿﺰ ﮐﻢ ﺩﯾﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﻧﮧ ﺑﮩﻮ ﮐﮯ ﺟﮩﯿﺰ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﯽ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﺳﺐ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻭﮞ ﺗﺐ ﺑﮭﯽ %80 ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮨﮯ ،ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﻮ ﻣﺸﮑﻞ ﺁﺝ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﮑﻞ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻟﮍﮐﮯ ﻟﮍﮐﯽ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮨﯿﮟﻭﮦ ﻏﺮﯾﺐ ﮨﮯ، ﻧﻮﮐﺮﯼ ﭘﮑﯽ ﻧﮩﯿﮟ، ﮔﮭﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺑﺮﺍﺩﺭﯼ ﮐﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭨﮭﯿﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﻣﻠﮯ ﻣﯿﮟ، ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ، ﻟﻤﺒﯽ ﻧﮩﯿﮟ، ﻟﻤﺒﯽ ﺑﮩﺖ ﮨﮯ، ﮨﻨﺴﺘﯽ ﺑﺮﮮ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﮨﮯ، ﻧﺨﺮﮮ ﺑﮩﺖ ﮨﯿﮟ،ﯾﮧ ﺳﺐ ﺧﻮﺑﯿﺎﮞ ﺧﺎﻣﯿﺎﮞ ﺑﺘﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ

ﺧﻮﺩ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﺱ ﻓﺮﻣﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﮯ ﮔﺎﻧﮧ ﮨﻮﮐﺮ ﮐﮧ ﻧﮑﺎﺡ ﻣﺤﺒﺖ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ . ﺍﻭﺭ ﻧﺼﯿﺐ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺎﻟﻤﯿﻦ ﺑﻨﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺳﻮﭺ ﺑﺪﻟﯿﮟ ﻭﺭﻧﮧ ﭼﻮﺗﮭﯽ ﮐﻼﺱ ﺳﮯ ﻟﯿﮑﺮ ﺁﭨﮭﻮﯾﮟ ﮐﻼﺱ ﺗﮏ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ Love letters ﻟﮑﮭﻨﮯ، ﻣﯿﭩﺮﮎ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﺧﻮﺩ ﮐﺸﯽ، ﮐﺎﻟﺞ ﮐﮯ ﮈﯾﭧ ﭘﺮ ﺟﺎﻧﮯ، ﺍﻭﺭ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯿﯿﺰ ﮐﮯ ﭼﻮﺭ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﮈﮬﻮﻧﮉﻧﮯ ﺗﻮ ﻟﮓ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺧﺮﺍﺑﯽ ﮐﺎ ﺭﻭﻧﺎ، ﺭﻭﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﭼﮭﻮﮌﺩﯾﮟ… اللہ ﮐﺮﮮ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺮ ﺟﺎﺋﮯ..!!