آپ میری خواہش پوری کردیں

امام ترمذیؒ اپنے وقت کے بہت بڑے محدث اور حکیم تھے۔ حدیث کی مشہور کتاب “ترمذی شریف” انہی کی لکھی ہوئی ہے۔ اللہ رب العزت نے آپ کو اس قدر حُسن دیا تھا کہ لوگ دیکھ کر فریفتہ ہو جاتے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ کو باطنی حسن بھی دیا تھا۔ آپ عین جوانی کے عالم میں ایک دن اپنے مطب میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک عورت اندر آئی اور آتے ہی اُس نے اپنا چہرہ کھول دیا۔

وہ عورت نہایت حسین و جمیل تھی وہ آپ سے کہنے لگی کہ “میں آپ کے حسن پر فدا ہوں اور بہت دنوں سے موقع کی تلاش میں تھی، آج بہت مشکل سے تنہائی ملی ہے، آپ میری خواہش پوری کر دیں!” امام ترمذیؒ کے دل پر خوفِ خدا اتنا غالب ہوا کہ آپ رو پڑے اور اتنا روئے کہ وہ عورت نادم ہو کر واپس چلی گئی اور آپ دیر تک روتے رہے۔ مدت گزر گئی آپ اس بات کو بھول گئے اور جوانی سے بڑھاپے میں داخل ہوگئے، بال سفید ہوگئے ایک دن مصلے پر بیٹھے تھے کہ دل میں خیال پیدا ہوا کہ “اگر اُس وقت میں اُس عورت کی خواہش پوری کر دیتا تو کیا تھا بعد میں توبہ کر لیتا۔۔۔” لیکن جیسے ہی یہ خیال دل میں آیا فوراً رونے لگ گئے اور کہنے لگے، “اے رب کریم! جوانی میں تو یہ حالت تھی کہ میں گناہ کا نام سن کر ہی اتنا رویا تھا کہ وہ عورت میرے رونے سے نادم ہو گئی تھی۔ اب میرے بال سفید ہوگئے ہیں تو کیا میرا دل سیاہ ہو گیا ہے جو میرے دل میں اس گناہ کا خیال پیدا ہوا۔۔؟ اے اللہ! میں تیرے سامنے کس طرح پیش ہوںگا، اس بڑھاپے میں جب میرے اندر قوت بھی نہیں رہی میرے دل میں گناہ کا خیال کیسے آ گیا۔۔؟ اسی حالت میں روتے روتے سو گئے، خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زیارت ہوئی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پوچھا “

ترمذی! کیوں روتے ہو۔۔۔؟ عرض کیا، “میرے محبوبﷺ! جب جوانی کا زمانہ تھا قوت اور شہوت کا زور تھا، تب تو اللہ کا خوف اتنا تھا کہ گناہ کی بات سن کر ہی اللہ کے خوف سے رونے لگ گیا تھا۔لیکن اب جبکہ بال سفید ہوگئے اور بڑھاپا آگیا تو دل اس قدر سیاہ ہوگیا ہے کہ یہ خیال آیا کہ اس وقت خواہش پوری کر لیتا اور بعد میں توبہ کر لیتا، میں اس لیے پریشان ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا، پریشان نہ ہو۔

یہ تیری کمی یا قصور نہیں جب تو جوان تھا تو میرے زمانے سے زیادہ قریب تھا ان برکتوں کی وجہ سے تیری یہ کیفیت تھی کہ گناہ کا خیال دل میں نہیں آیا، اب تیرا بڑھاپا آگیا ہے تو میرے زمانے سے بھی دوری پیدا ہو گئی اس لیے اب دل میں گناہ کا وسوسہ پیدا ہوا، بس توبہ استٖغفار کیا کر، اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے۔!

آپﷺ کی زندگی کا مشکل ترین دن کونسا تھا؟

والدہ نے سات دن دودھ پلایا‘ آٹھویں دن دشمن اسلام ابو لہب کی کنیز ثوبیہ کو یہ اعزاز حاصل ہوا‘ ثوبیہ نے دودھ بھی پلایا اور دیکھ بھال بھی کی‘ یہ چند دن کی دیکھ بھال تھی‘ یہ چند دن کا دودھ تھا لیکن ہمارے رسولؐ نے اس احسان کو پوری زندگی یاد رکھا‘ مکہ کا دور تھا تو ثوبیہ کو میری ماں میری ماں کہہ کر پکارتے تھے‘ ان سے حسن سلوک بھی فرماتے تھے ان کی مالی معاونت بھی کرتے تھے‘ مدنی دور آیا تو مدینہ سے ابولہب کی کنیز ثوبیہ کیلئے

کپڑے اور رقم بھجواتے تھے‘ یہ ہے شریعت۔ حضرت حلیمہ سعدیہ رضاعی ماں تھیں‘ یہ ملاقات کیلئے آئیں‘ دیکھا تو اٹھ کھڑے ہوئے اور میری ماں‘ میری ماں پکارتے ہوئے ان کی طرف دوڑ پڑے‘ وہ قریب آئیں تو اپنے سر سے وہ چادر اتار کر زمین پر بچھا دی جسے ہم کائنات کی قیمتی ترین متاع سمجھتے ہیں‘ اپنی رضاعی ماں کو اس پر بٹھایا‘ غور سے ان کی بات سنی اور ان کی تمام حاجتیں پوری فرما دیں‘ یہ بھی ذہن میں رہے‘ حضرت حلیمہ سعدیہ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا‘ وہ اپنے پرانے مذہب پر قائم رہی تھیں‘ فتح مکہ کے وقت حضرت حلیمہ کی بہن خدمت میں حاضر ہوئی‘ماں کے بارے میں پوچھا‘ بتایا گیا‘ وہ انتقال فرما چکی ہیں‘ رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘ روتے جاتے تھے اور حضرت حلیمہ کو یاد کرتے جاتے تھے‘ رضاعی خالہ کو لباس‘ سواری اور سو درہم عنایت کئے‘ رضاعی بہن شیما غزوہ حنین کے قیدیوں میں شریک تھی‘ پتہ چلا تو انہیں بلایا‘ اپنی چادر بچھا کر بٹھایا‘ اپنے ہاں قیام کی دعوت دی‘
حضرت شیما نے اپنے قبیلے میں واپس جانے کی خواہش ظاہر کی‘ رضاعی بہن کو غلام‘ لونڈی اور بکریاں دے کر رخصت کر دیا ‘ یہ بعد ازاں اسلام لے آئیں‘ یہ ہے شریعت۔13 جنگ بدر کے قیدیوں میں پڑھے لکھے کفار بھی شامل تھے‘ ان کافروں کو مسلمانوں کو پڑھانے‘ لکھانے اور سکھانے کے عوض رہا کیا گیا‘ حضرت زید بن ثابتؓ کو عبرانی سیکھنے کا حکم دیا‘ آپؓ نے عبرانی زبان سیکھی اور یہ اس زبان میں یہودیوں سے خط و کتابت کرتے رہے‘ کافروں کا ایک شاعر تھا‘

سہیل بن عمرو۔ یہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف اشتعال انگیز تقریریں بھی کرتا تھا اور توہین آمیز شعر بھی کہتا تھا‘ یہ جنگ بدر میں گرفتار ہوا‘ سہیل بن عمرو کو بارگاہ رسالت میں پیش کیا گیا‘ حضرت عمرؓ نے تجویز دی‘ میں اس کے دو نچلے دانت نکال دیتا ہوں‘ یہ اس کے بعد شعر نہیں پڑھ سکے گا‘ تڑپ کر فرمایا ’’ میں اگر اس کے اعضاء بگاڑوں گا تو اللہ میرے اعضاء بگاڑ دے گا‘‘ سہیل بن عمرو نے نرمی کا دریا بہتے دیکھا تو عرض کیا ’’ مجھے فدیہ کے بغیر رہا کر دیا جائے گا‘‘ اس سے پوچھا گیا

’’کیوں؟‘‘ سہیل بن عمرو نے جواب دیا ’’ میری پانچ بیٹیاں ہیں‘ میرے علاوہ ان کا کوئی سہارا نہیں‘‘ رسول اللہ ﷺ نے سہیل بن عمرو کو اسی وقت رہا کر دیا‘ یہاں آپ یہ بھی ذہن میں رکھئے‘ سہیل بن عمرو شاعر بھی تھا اور گستاخ رسول بھی لیکن رحمت اللعالمینؐ کی غیرت نے گوارہ نہ کیا‘ یہ پانچ بچیوں کے کفیل کو قید میں رکھیں یا پھر اس کے دو دانت توڑ دیں‘ یہ ہے شریعت ۔غزوہ خندق کا واقعہ ملاحظہ کیجئے‘

عمرو بن عبدود مشرک بھی تھا‘ ظالم بھی اور کفار کی طرف سے مدینہ پر حملہ آور بھی ۔ جنگ کے دوران عمرو بن عبدود مارا گیا‘ اس کی لاش تڑپ کر خندق میں گر گئی‘ کفار اس کی لاش نکالنا چاہتے تھے لیکن انہیں خطرہ تھا‘ مسلمان ان پر تیر برسادیں گے‘ کفار نے اپنا سفیر بھجوایا‘ سفیر نے لاش نکالنے کے عوض دس ہزار دینار دینے کی پیش کش کی‘ رحمت اللعالمینؐ نے فرمایا ’’میں مردہ فروش نہیں ہوں‘ ہم لاشوں کا سودا نہیں کرتے‘ یہ ہمارے لئے جائز نہیں‘‘ کفار کو عمرو بن عبدود کی لاش اٹھانے کی اجازت دے دی ‘

خیبر کا قلعہ فتح ہوا تو یہودیوں کی عبادت گاہوں میں تورات کے نسخے پڑے تھے‘ تورات کے سارے نسخے اکٹھے کروائے اور نہایت ادب کے ساتھ یہ نسخے یہودیوں کو پہنچا دیئے اور خیبر سے واپسی پر فجر کی نماز کیلئے جگانے کی ذمہ داری حضرت بلالؓ کو سونپی گئی‘حضرت بلالؓ کی آنکھ لگ گئی‘ سورج نکل آیا تو قافلے کی آنکھ کھلی‘ رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلالؓ سے فرمایا ’’بلال آپ نے یہ کیا کیا‘‘ حضرت بلالؓ نے عرض کیا ’’ یا رسول اللہ ﷺ جس ذات نے آپؐ کو سلایا‘ اس نے مجھے بھی سلا دیا‘‘

تبسم فرمایا اور حکم دیا ’’تم اذان دو‘‘ اذان دی گئی‘ آپؐ نے نماز ادا کروائی اور پھر فرمایا ’’تم جب نماز بھول جاؤ تو پھر جس وقت یاد آئے اسی وقت پڑھ لو‘‘ یہ ہے شریعت۔حضرت حذیفہ بن یمانؓ سفر کر رہے تھے‘ کفار جنگ بدر کیلئے مکہ سے نکلے‘ کفار نے راستے میں حضرت حذیفہؓ کو گرفتار کر لیا‘ آپ سے پوچھا گیا‘ آپ کہاں جا رہے ہیں‘ حضرت حذیفہؓ نے عرض کیا ’’مدینہ‘‘ کفار نے ان سے کہا ’’ آپ اگر وعدہ کرو‘ آپ جنگ میں شریک نہیں ہو گے تو ہم آپ کو چھوڑ دیتے ہیں‘‘ حضرت حذیفہؓ نے وعدہ کر لیا‘

یہ اس کے بعد سیدھے مسلمانوں کے لشکر میں پہنچ گئے‘ مسلمانوں کو اس وقت مجاہدین کی ضرورت بھی تھی‘ جانوروں کی بھی اور ہتھیاروں کی بھی لیکن جب حضرت حذیفہؓ کے وعدے کے بارے میں علم ہوا تومدینہ بھجوا دیا گیا اور فرمایا ’’ہم کافروں سے معاہدے پورے کرتے ہیں اور ان کے مقابلے میں صرف اللہ تعالیٰ سے مدد چاہتے ہیں‘‘ نجران کے عیسائیوں کا چودہ رکنی وفد مدینہ منورہ آیا‘ رسول اللہ ﷺ نے عیسائی پادریوں کو نہ صرف ان کے روایتی لباس میں قبول فرمایا بلکہ انہیں مسجد نبویؐ میں بھی ٹھہرایا اور انہیں ان کے عقیدے کے مطابق عبادت کرنے کی اجازت بھی تھی‘

یہ عیسائی وفد جتنا عرصہ مدینہ میں رہا‘ یہ مسجد نبویؐ میں مقیم رہا اور مشرق کی طرف منہ کر کے عبادت کرتا رہا‘ ایک مسلمان نے کسی اہل کتاب کو قتل کر دیا‘ آپؐ نے مسلمان کے خلاف فیصلہ دیا اور یہ مسلمان قتل کے جرم میں قتل کر دیا گیا‘ حضرت سعد بن عبادہؓ نے فتح مکہ کے وقت مدنی ریاست کا جھنڈا اٹھا رکھا تھا‘ یہ مکہ میں داخل ہوتے وقت جذباتی ہو گئے اور انہوں نے حضرت ابو سفیانؓ سے فرمایا ’’ آج لڑائی کا دن ہے‘ آج کفار سے جی بھر کر انتقام لیا جائے گا‘‘ رحمت اللعالمینؐ نے سنا تو ناراض ہو گئے‘ ان کے ہاتھ سے جھنڈا لیا‘ ان کے بیٹے قیسؓ کے سپرد کیا اور فرمایا ’’نہیں آج لڑائی نہیں‘ رحمت اور معاف کرنا کا دن ہے‘‘۔ مدینہ میں تھے تو مکہ میں قحط پڑ گیا‘

مدینہ سے رقم جمع کی‘ خوراک اور کپڑے اکٹھے کئے اور یہ سامان مکہ بھجوادیا اور ساتھ ہی اپنے اتحادی قبائل کو ہدایت کی ’’مکہ کے لوگوں پر برا وقت ہے‘ آپ لوگ ان سے تجارت ختم نہ کریں‘‘۔ مدینہ کے یہودی اکثر مسلمانوں سے یہ بحث چھیڑ دیتے تھے ’’نبی اکرم ﷺ فضیلت میں بلند ہیں یا حضرت موسیٰ ؑ ‘‘ یہ معاملہ جب بھی دربار رسالت میں پیش ہوتا‘ رسول اللہ ﷺ مسلمانوں سے فرماتے ’’آپ لوگ اس بحث سے پرہیز کیا کریں‘‘۔ ثماثہ بن اثال نے رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کا اعلان کر رکھا تھا‘ یہ گرفتار ہو گیا‘ اسلام قبول کرنے کی دعوت دی‘ اس نے انکار کر دیا‘

یہ تین دن قید میں رہا‘ اسے تین دن دعوت دی جاتی رہی‘ یہ مذہب بدلنے پر تیار نہ ہوا تو اسے چھوڑ دیا گیا‘ اس نے راستے میں غسل کیا‘ نیا لباس پہنا‘ واپس آیا اور دست مبارک پر بیعت کر لی۔ ابو العاص بن ربیع رحمت اللعالمین ؐکے داماد تھے‘ رسول اللہ ﷺکی صاحبزادی حضرت زینبؓ ان کے عقد میں تھیں‘ یہ کافر تھے‘ یہ تجارتی قافلے کے ساتھ شام سے واپس مکہ جا رہے تھے‘ مسلمانوں نے قافلے کا مال چھین لیا‘ یہ فرار ہو کر مدینہ آگئے اور حضرت زینبؓ کے گھر پناہ لے لی‘ صاحبزادی مشورے کیلئے بارگاہ رسالت میں پیش ہو گئیں‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ابوالعاص کی رہائش کا اچھا بندوبست کرومگر وہ تمہارے قریب نہ آئے کیونکہ تم اس کیلئے حلال نہیں ہو‘‘ حضرت زینبؓ نے عرض کیا ’’ابوالعاص اپنا مال واپس لینے آیا ہے‘‘

مال چھیننے والوں کو بلایا اور فرمایا گیا’’یہ مال غنیمت ہے اور تم اس کے حق دار ہو لیکن اگر تم مہربانی کر کے ابوالعاص کا مال واپس کردو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اجر دے گا‘‘ صحابہؓ نے مال فوراً واپس کر دیا‘ آپ ملاحظہ کیجئے‘ حضرت زینبؓ قبول اسلام کی وجہ سے مشرک خاوند کیلئے حلال نہیں تھیں لیکن رسول اللہ ﷺنے داماد کو صاحبزادی کے گھر سے نہیں نکالا‘ یہ ہے شریعت۔

حضرت عائشہؓ نے ایک دن رسول اللہ ﷺ سے پوچھا ’’ زندگی کا مشکل ترین دن کون سا تھا‘‘ فرمایا‘ وہ دن جب میں طائف گیا اورعبدیالیل نے شہر کے بچے جمع کر کے مجھ پر پتھر برسائے‘ میں اس دن کی سختی نہیں بھول سکتا‘عبدیالیل طائف کا سردار تھا‘ اس نے رسول اللہ ﷺ پر اتنا ظلم کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بھی جلال میں آ گئی‘ حضرت جبرائیل امین تشریف لائے اور عرض کیا‘ اگر اجازت دیں تو ہم اس پورے شہر کو دو پہاڑوں کے

درمیان پیس دیں‘ یہ سیرت کا اس نوعیت کا واحد واقعہ تھا کہ جبرائیل امین نے گستاخی رسول پر کسی بستی کو تباہ کرنے کی پیش کش کی ہو اور عبدیالیل اس ظلم کی وجہ تھا‘ عبد یالیل ایک بار طائف کے لوگوں کا وفد لے کر مدینہ منورہ آیا‘ رسول اللہ ﷺ نے مسجد نبویؐ میں اس کا خیمہ لگایا اور عبد یالیل جتنے دن مدینہ میں رہا‘ رسول اللہ ﷺ ہر روز نماز عشاء کے بعد اس کے پاس جاتے‘ اس کا حال احوال پوچھتے‘ اس کے ساتھ گفتگو کرتے اور

اس کی دل جوئی کرتے‘ عبداللہ بن ابی منافق اعظم تھا‘ یہ فوت ہوا تو اس کی تدفین کیلئے اپنا کرتہ مبارک بھی دیا‘ اس کی نماز جنازہ بھی پڑھائی اور یہ بھی فرمایا‘ میری ستر دعاؤں سے اگر اس کی مغفرت ہو سکتی تو میں ستر مرتبہ سے زیادہ بار اس کیلئے دعا کرتا‘‘ یہ ہے شریعت۔ مدینہ کی حدود میں آپ کی حیات میں نو مسجدیں تعمیر ہوئیں‘ آپؐ نے فرمایا ’’تم اگر کہیں مسجد دیکھو یا اذان کی آواز سنو تو وہاں کسی شخص کو قتل نہ کرو‘‘ یہ ہے

شریعت۔ ایک صحابیؓ نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ ﷺ مجھے کوئی نصیحت فرمائیں‘‘ جواب دیا ’’غصہ نہ کرو‘‘ وہ بار بار پوچھتا رہا‘ آپؐ ہر بار جواب دیتے ’’غصہ نہ کرو‘‘ یہ ہے شریعت اور اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں فرمایا ’’ پیغمبرؐ اللہ کی بڑی رحمت ہیں‘ آپ لوگوں کیلئے بڑے نرم مزاج واقع ہوئے ہیں‘ آپ تند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب آپ کے گردوپیش سے چھٹ جاتے‘‘ اور یہ ہے شریعت لیکن ہم لوگ نہ جانے کون سی شریعت تلاش کر رہے ہیں‘ ہم کس شریعت کا مطالبہ کر رہے ہیں‘ کیا کوئی صاحب علم میری رہنمائی کر سکتا ہے؟۔

مسلمان کا دل اور ہندو کا دل

بھارتی شہراحمد آبادکی علاقے سہورکے ایک رہائشی آصف جونیجہ کادل امبالیہ نامی ہندومیں ہارٹ ٹرانسپلانٹ کے ذریعے رکھ دیاگیاہے ۔بھارتی میڈیارپورٹس کے مطابق آصف جنیجہ کاانتقال ہوچکاہے جبکہ امبالیہ روبصحت ہے۔آصف جونیجہ کا دل باؤنگر سے ایک چارٹرڈ طیارے کے ذریعے احمد آباد پہنچایا گیا اور وہاں کے ایک نجی ہسپتال میں ہندو مریض کی سرجری کی گئی۔

آصف جُنیجہ سترہ دسمبر کے روز ایک کار حادثے میں زخمی ہو گیا تھا ۔ اسے فوری طور پر ایک ہسپتال پہنچا دیا گیا لیکن ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کا دماغ مفلوج ہو چکا ہے۔ اس کے بعد نیورو سرجن نے مسلم خاندان کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے مریض کا دل کسی ایسے شخص کو عطیہ کر دیں، جس کو اس کی شدید ضرورت ہےنیوروسرجن ڈاکٹر راجندر کباریہ کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ہم نے جنیجہ کے اہلخانہ سے درخواست کی کہ وہ مریض کے ایسے تمام اعضاء عطیہ کر دیں، جنہیں استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ اس کے خاندان نے ہمارے اس مشورے کا قبول کرتے ہوئے دل کے ساتھ ساتھ اس کے دو گردے بھی عطیہ کرنے کی اجازت دے دی۔ اس کے علاوہ مسلمان مریض کے جگر اور لبلبے کو بھی چار دیگر ضرورت مند مریضوں میں ٹرانسپلانٹ کیا گیا۔‘‘ڈاکٹر کباریہ کا کہنا تھا کہ باؤنگر کی ہسپتال انتظامیہ نے احمد آباد کے ایک ہسپتال سے رابطہ کیا، جہاں ایک ایجنسی کے ذریعے امبالیہ کا علاج کیا جا رہا تھا۔ڈاکٹروں نے کہاہے کہ جب حادثہ ہوا تھا تو جنیجہ کی صحت بہت ہی اچھی تھی اور اس کے خون کا گروپ بھی او نیگیٹیو تھا۔

اور ایسے شخص کے عطیہ کردہ اعضاء ہر کسی مریض کو لگائے جا سکتے ہیں۔اس وقت ہندو مریض کو ایمرجنسی وارڈ میں ایک وینٹیلیٹر پر رکھا گیا تھا۔ احمد آباد ہسپتال کے ڈاکٹر شاہ کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں یقین ہو چلا تھا کہ امبالیہ کی جان نہیں بچائی جا سکتی تو ہمیں خبر ملی کی مفلوج ذہن والے ایک مریض کا دل عطیے کے طور پر مل سکتا ہے۔جس پرایک خصوصی طیارے کے ذریعے احمد آباد لایا گیا۔ ہم نے سفر اور وقت کم سے کم رکھنے کے لیے ایک گرین کوریڈور تشکیل دیا جس کے تحت نو بج کر تیس منٹ پر امبالیہ کی سرجری شروع کی گئی جو مسلسل چار گھنٹے تک جاری رہی اور آپریشن کامیاب رہا۔

وہ پھل جس کی کھانے سے چالیس مردوں کے برابر طاقت ملتی ہے

دل کے لئے تقویت کا باعث بننے والی بہت سی جڑی بوٹیوں اور پھلوں کا طب نبوی ﷺ میں ذکر ملتا ہے .بہی (Quince)بھی ایسا پھل ہے جو آڑواور سیب سے مشابہہ ہے اور اسکا احادیث کافی ذکر موجود ہے.اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بہی کھانے والی خواتین خوبصورت بچے پیدا کرتی ہیں.مردوں میں چالیس افراد کے برابر قوت عود آتی ہے.اس میں بیک وقت کئی طرح کے وٹامن اور معدنیا ت شامل ہیں . بہی کا مربہ اس حوالے سے بہترین غذا ہے۔

جو نہار منہ کھایا جائے تو دل کے عوارض سے بچاتا ہے. ابن ماجہ نے اپنی سنن میں حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓسے روایت کیا ہے کہ میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا .آپﷺ کے ہاتھ میں ایک بہی تھی‘ مجھے دیکھ کر آپﷺ نے فرمایا‘ آجا طلحہ اسے لے لو اسلے لو اس لئے کہ یہ دل کو تقویت پہنچاتی ہے“اسی حدیث کو نسائی نے دوسرے طریقہ سے بیان کیا ہے”طلحہ نے بیان کیا کہ میں خدمت نبویﷺ میں حاضر ہوا نبیﷺ صحابہؓ کی ایک جماعت کے ساتھ تشریف فرما تھے‘ آپﷺ کے ہاتھ میں ایک بہی تھی جس کو الٹ پلٹ کررہے تھے‘ جب میں آپﷺ کے پاس بیٹھ گیا تو آپﷺ نے بہی میری طرف بڑھائی پھر فرمایا کہابو ذر اس کو لے لو، اس لئے کہ یہ مقوی قلب ہے سانس کو خوشگوار کرتی ہے اور سینے کی گرانی دور کرتی ہے“ بہی کے حوالے سے بہت سی احادیث موجود ہیں.ایک حدیث کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”اپنی حاملہ عورتوں کو بہی کھلایا کرو کیونکہ یہ دل کی بیماریوں کو ٹھیک کرتا ہے۔

اور لڑکے کو حسین بناتا ہے“ حضرت عوف رضی اللہ عنہ بن مالک روایت کرتے ہیں کہ نبی صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” بہی کھاو ¿ کہ یہ دل کے دورے کو ٹھیک کرتا اور دل کو مضبوط کرتا ہے“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”بہی کھاو ¿ کہ دل کے دورے کو دور کرتاہے. اللہ نے ایسا کوئی نبی نہیں مامور فرمایا جسے جنت کا بہی نہ کھلایا ہو کیونکہ یہ فرد کی قوت کو چالیس افراد کے برابر کر دیتا ہے“ بہی کو عربی میں سفر جل کہتے ہیں۔ اسکی سب سے زیادہ کاشت ترکی میں ہوتی ہے. پاکستان میں بھی پہاڑی علاقوں میں دستیاب ہے۔ تاہم پاکستان کے سوا دیگر ممالک میں اسکی کاشت تجارتی پیمانے پر ہوتی ہے. اطبا کا کہنا ہے کہ بہی کا مزاج بارد یابس ہے اور ذائقہ کے اعتبار سے اس کا مزاج بھی بدلتا رہتا ہے مگر تمام بہی سرد اور قابض ہوتی ہیں‘ معدہ کے لئے موزوں ہے‘ شیریں بہی میں برودت و یبوست کم ہوتی اور زیادہ معتدل ہوتی ہے .ترش بہی کھانے سے قبض اور خشکی پید اہوتی ہے. بہی کی ساری قسمیں تشنگی کو بجھادیتی ہیں اور قے کو روکتی ہیں. پیشاب آوراور پاخانہ بستہ کرتی ہے‘آنتوں کے زخم کے لئے نافع ہے. اس کا مربہ معدہ اور جگر کو تقویت پہنچاتا ‘دل کو مضبوط کرتا اور سانسوں کو خوشگوار بناتا ہے۔

مچھلی کے شوقین حضور اکرمﷺ کا ارشاد پڑھ لیں

مچھلی کے فوائد بے شمار ہیں مچھلی کی کئی اقسام ہیں لیکن اس کی ہر قسم جداطبی خصوصیات کی شامل ہے،طب نبویﷺ میں بھی مچھلی کے طبی فوائد کا ذکر ملتا ہے،حضور اکرمﷺ نے بے پناہ غذائی اور طبی فوائد کی وجہ سے ہی مچھلی کے گوشت کی خاص طور پر اجازت عطا فرمائی،سفید مچھلی میں چکنائی بہت کم ہوتی ہے جبکہ تیل والی مچھلی میں غیر سیر شدہ چکنائی کی بہت زیادہ مقدار ہوتی ہے جو کہ کولیسٹرول کے تناسب کو خود بخود کم کردیتی ہے، اس لئے اس مچھلی کا استعمال انسانی صحت کےلئے بہتمفید ہے۔ایک واقعہ تو بہت مشہور ہے۔

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے حدیث مروی ہے”رسول اللہﷺ نے ہم کو تین سو سواروں کے ساتھ بھیجا اور ہمارے کمانڈرحضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ تھے۔ جب ہم ساحل بحر تک پہنچے تو ہمیں شدید بھوک نےآلیا اور اس بھوک میں ہم نے درختوں کے پتے جھاڑ کر کھائے۔اتفاق سے سمندر کی موجوں نے ایک عنبر نامی مچھلی پھینکی‘ جس کو ہم نے ۵۱ دن تک کھایا‘ اور اس کی چربی کا شوربہ بنایا‘ جس سے ہمارے جسم فربہ ہوگئے‘حضرت ابو عبیدہؓ نے اس مچھلی کی ایک پسلی کو کھڑا کیا اور ایک شخص کو اونٹ پر سوار کرکے اس پسلی کی کمان کے نیچے سے گزارا تو اس کے نیچے سے وہ باآسانی گزرگیا“امام احمد بن حنبلؒ نے اور ابن ماجہؒ نے اپنی سنن میں حضرت عبداللہ بن عمرؓکی روایت میں کہا ہے ”نبی اکرمﷺ نے فرمایا ہمارے لئے دو مرد اور دو خون حلال کئے گئے مچھلی اور ٹڈی‘ جگر اور طحال بستہ خون“مچھلی کو عربی میں سمک کہتے ہیں۔

اس کا گوشت اور تیل دل کے امراض کولیسٹرول ، موٹاپا، ڈپریشن، کینسر، جلد، زخم اور دوسرے بہت سے امراض میں مفید ہے، مچھلی کے تیل میں موجود اومیگا دل کے امراض مٰن ایک بہت مفید چیز ہے، مچھلی کا تیل ماں کے پیٹ میں بچے کی آنکھوں اور دماغ کی نشو ونما میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔

منہ سے سوتے ہوئے رال ٹپکنا

سوتے ہوئے اکثر افراد کے منہ سے رال نکلنا شروع ہو جاتی ہے جسے باعث شرمندگی سجھا جاتا ہے ۔ تاہم سائنسدانوں نے ایسے افراد کو خوشخبری دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے افراد کو اب پریشان ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ یہ آپ کیلئے خوش آئندہے ۔ سائنسدانوں نےکہا ہے کہ جو لوگ پرسکون نیند سوتے ہیں اوران کے خواب مثبت

نوعیت کے ہوتے ہیںان کے منہ سے نیند کے دوران رال بہنا شروع ہو جاتی ہے ۔نیند کے دوران رال بہنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ نیند کا ابتدائی مرحلہ جسے ’’ریپڈ آئی موومنٹ مرحلہ‘‘ کہتے ہیں جو کہ بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہوا ۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ کی نیند میں کوئی خرابی نہیں ہے ۔

آپ کا جسم اور دماغ نیند سے بھرپور استفادہ ہو رہا ہے ۔ ماہرین کے مطابق جن لوگوں کی رال نیند کے دوران کبھی نہیں نکلی انہیں نیند سے متعلق اکثر شکایات رہتی ہیں ۔ ان لوگوں کا شمار ایسے لوگوں میں ہوتا ہے جو یا تو پوری طرح سے نیند نہیں حاصل کر رہے یا پھر یہ پرسکون نیندحاصل کرنے سے قاصر ہیں ۔

اصحابِ کہف کون تھے؟

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھا لئے جانے کے بعد عیسائیوں کا حال بے حد خراب اور نہایت ابتر ہو گیا۔ لوگ بت پرستی کرنے لگے اور دوسروں کو بھی بت پرستی پر مجبور کرنے لگے۔ خصوصاً ان کا ایک بادشاہ ’’دقیانوس‘‘ تو اس قدر ظالم تھا کہ جو شخص بت پرستی سے انکار کرتا تھا یہ اُس کو قتل کرڈالتا تھا۔ اصحابِ کہف شہر ’’اُفسوس‘‘ کے شرفاء تھے جو بادشاہ کے معزز درباری بھی تھے مگر یہ لوگ صاحبِ ایمان اور بت پرستی سے انتہائی بیزار تھے۔

’’دقیانوس‘‘ کے ظلم و جبر سے پریشان ہو کر یہ لوگ اپنا ایمان بچانے کے لئے اُس کے دربار سے بھاگ نکلے اور قریب کے پہاڑ میں ایک غار کے اندر پناہ گزیں ہوئے اور سو گئے، تو تین سو برس سے زیادہ عرصے تک اسی حال میں سوتے رہ گئے۔ دقیانوس نے جب ان لوگوں کو تلاش کرایا اور اُس کو معلوم ہوا کہ یہ لوگ غار کے اندر ہیں تو وہ بے حد ناراض ہوا اور فرط غیظ و غضب میں یہ حکم دے دیا کہ غار کو ایک سنگین دیوار اُٹھا کر بند کر دیا جائے تاکہ یہ لوگ اُسی میں رہ کر مر جائیں اور وہی غار ان لوگوں کی قبر بن جائے۔ مگر دقیانوس نے جس شخص کے سپرد یہ کام کیا تھا وہ بہت ہی نیک دل اور صاحبِ ایمان آدمی تھا۔ اُس نے اصحابِ کہف کے نام اُن کی تعداد اور اُن کا پورا واقعہ ایک تختی پر کندہ کرا کر تانبے کے صندوق کے اندر رکھ کر دیوار کی بنیاد میں رکھ دیا اور اسی طرح کی ایک تختی شاہی خزانہ میں بھی محفوظ کرا دی۔ کچھ دنوں کے بعد دقیانوس بادشاہ مر گیا اور سلطنتیں بدلتی رہیں۔ یہاں تک کہ ایک نیک دل اور انصاف پرور بادشاہ جس کا نام ’’بیدروس‘‘ تھا، تخت نشین ہوا جس نے اڑسٹھ سال تک بہت شان و شوکت کے ساتھ حکومت کی۔ اُس کے دور میں مذہبی فرقہ بندی شروع ہو گئی اور بعض لوگ مرنے کے بعد اُٹھنے اور قیامت کا انکار کرنے لگے۔ قوم کا یہ حال دیکھ کر بادشاہ رنج و غم میں ڈوب گیا اور وہ تنہائی میں ایک مکان کے اندر بند ہو کر خداوند قدوس عزوجل کے دربار میں نہایت بے قراری کے ساتھ گریہ و زاری کر کے دعائیں مانگنے لگا کہ یا اللہ عزوجل کوئی ایسی نشانی ظاہر فرما دے تاکہ لوگوں کو مرنے کے بعد زندہ ہو کر اٹھنے اور قیامت کا یقین ہوجائے۔

بادشاہ کی یہ دعا مقبول ہو گئی اور اچانک بکریوں کے ایک چرواہے نے اپنی بکریوں کو ٹھہرانے کے لئے اسی غار کو منتخب کیا اور دیوار کو گرا دیا۔ دیوار گرتے ہی لوگوں پر ایسی ہیبت و دہشت سوار ہو گئی کہ دیوار گرانے والے لرزہ براندام ہو کر وہاں سے بھاگ گئے اور اصحابِ کہف بحکم الٰہی اپنی نیند سے بیدار ہو کر اٹھ بیٹھے اور ایک دوسرے سے سلام و کلام میں مشغول ہو گئے اور نماز بھی ادا کر لی۔ جب ان لوگوں کو بھوک لگی تو ان لوگوں نے اپنے ایک ساتھی یملیخا سے کہا کہ تم بازار جا کر کچھ کھانا لاؤ

اور نہایت خاموشی سے یہ بھی معلوم کرو کہ ’’دقیانوس‘‘ ہم لوگوں کے بارے میں کیا ارادہ رکھتا ہے؟ ’’یملیخا‘‘ غار سے نکل کر بازار گئے اور یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ شہر میں ہر طرف اسلام کا چرچا ہے اور لوگ اعلانیہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کلمہ پڑھ رہے ہیں۔ یملیخا یہ منظر دیکھ کر محو حیرت ہو گئے کہ الٰہی یہ ماجرا کیا ہے؟کہ اس شہر میں تو ایمان واسلام کا نام لینا بھی جرم تھا آج یہ انقلاب کہاں سے اورکیونکر آگیا؟ پھر یہ ایک نانبائی کی دکان پر کھانا لینے گئے اور دقیانوسی زمانے کا روپیہ دکاندار کو دیا

جس کا چلن بند ہوچکا تھا بلکہ کوئی اس سکہ کا دیکھنے والا بھی باقی نہیں رہ گیا تھا۔ دکاندار کو شبہ ہوا کہ شاید اس شخص کو کوئی پرانا خزانہ مل گیا ہے چنانچہ دکاندار نے ان کو حکام کے سپرد کردیا اور حکام نے ان سے خزانے کے بارے میں پوچھ گچھ شروع کردی اور کہا کہ بتاؤ خزانہ کہاں ہے؟ ’’یملیخا‘‘ نے کہا کہ کوئی خزانہ نہیں ہے۔ یہ ہمارا ہی روپیہ ہے۔ حکام نے کہا کہ ہم کس طرح مان لیں کہ روپیہ تمہارا ہے؟ یہ سکہ تین سو برس پرانا ہے اور برسوں گزر گئے کہ اس سکہ کا چلن بند ہو گیا اور تم ابھی جوان ہو۔ لہٰذا صاف صاف بتاؤ کہ عقدہ حل ہوجائے۔

یہ سن کریملیخا نے کہا کہ تم لوگ یہ بتاؤ کہ دقیانوس بادشاہ کا کیا حال ہے؟ حکام نے کہا کہ آج روئے زمین پر اس نام کا کوئی بادشاہ نہیں ہے۔ ہاں سینکڑوں برس گزرے کہ اس نام کا ایک بے ایمان بادشاہ گزرا ہے جو بت پرست تھا۔ ’’یملیخا‘‘ نے کہا کہ ابھی کل ہی تو ہم لوگ اس کے خوف سے اپنے ایمان اور جان کو بچا کر بھاگے ہیں۔ میرے ساتھی قریب ہی کے ایک غار میں موجود ہیں۔ تم لوگ میرے ساتھ چلو میں تم لوگوں کو اُن سے ملادوں۔ چنانچہ حکام اور عمائدین شہر کثیر تعداد میں اُس غار کے پاس پہنچے۔ اصحابِ کہف ’’یملیخا‘‘ کے انتظار میں تھے۔

جب ان کی واپسی میں دیر ہوئی تو اُن لوگوں نے یہ خیال کرلیا کہ شاید یملیخا گرفتار ہو گئے اور جب غار کے منہ پر بہت سے آدمیوں کا شور و غوغا ان لوگوں نے سنا تو سمجھ بیٹھے کہ غالباً دقیانوس کی فوج ہماری گرفتاری کے لئے آن پہنچی ہے تو یہ لوگ نہایت اخلاص کے ساتھ ذکرِ الٰہی اور توبہ و استغفار میں مشغول ہو گئے۔ حکام نے غار پر پہنچ کر تانبے کا صندوق برآمد کیا اور اس کے اندر سے تختی نکال کر پڑھا تو اُس تختی پر اصحابِ کہف کا نام لکھا تھا اور یہ بھی تحریر تھا کہ یہ مومنوں کی جماعت اپنے دین کی حفاظت کے لئے دقیانوس بادشاہ کے خوف سے اس غار میں پناہ گزیں ہوئی ہے تو دقیانوس نے خبر پا کر ایک دیوار سے ان لوگوں کو غار میں بند کردیا ہے۔

ہم یہ حال اس لئے لکھتے ہیں کہ جب کبھی بھی یہ غار کھلے تو لوگ اصحابِ کہف کے حال پر مطلع ہوجائیں۔ حکام تختی کی عبارت پڑھ کر حیران رہ گئے اور ان لوگوں نے اپنے بادشاہ ’’بیدروس‘‘ کو اس واقعہ کی اطلاع دی۔ فوراً ہی بیدروس بادشاہ اپنے امراء اور عمائدین شہر کو ساتھ لے کر غار کے پاس پہنچا تو اصحابِ کہف نے غار سے نکل کر بادشاہ سے معانقہ کیا اور اپنی سرگزشت بیان کی۔ بیدروس بادشاہ سجدہ میں گر کر خداوند قدوس کا شکر ادا کرنے لگا کہ میری دعا قبول ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے ایسی نشانی ظاہر کردی جس سے موت کے بعد زندہ ہو کر اُٹھنے کا ہر شخص کو یقین ہو گیا۔ اصحابِ کہف بادشاہ کو دعائیں دینے لگے کہ اللہ تعالیٰ تیری بادشاہی کی حفاظت فرمائے۔

اب ہم تمہیں اللہ کے سپرد کرتے ہیں پھر اصحابِ کہف نے السلام علیکم کہا اور غار کے اندر چلے گئے اور سو گئے اور اسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو وفات دے دی۔ بادشاہ بیدروس نے سال کی لکڑی کا صندوق بنوا کر اصحابِ کہف کی مقدس لاشوں کو اس میں رکھوا دیا اور اللہ تعالیٰ نے اصحابِ کہف کا ایسا رعب لوگوں کے دلوں میں پیدا کردیا کہ کسی کی یہ مجال نہیں کہ غار کے منہ تک جا سکے۔ اس طرح اصحابِ کہف کی لاشوں کی حفاظت کا اللہ تعالیٰ نے سامان کر دیا پھر بیدروس بادشاہ نے غار کے منہ پر ایک مسجد بنوا دی اور سالانہ ایک دن مقرر کردیا کہ تمام شہر والے اس دن عید کی طرح زیارت کے لئے آیا کریں۔ (یہ واقعہ تفسیر خازن کے حوالے سے پیش کیا گیا، ج۳،ص۸۹۱۔۰۰۲)

ترجمہ قرآن:۔ تم فرماؤ میرا رب ان کی گنتی خوب جانتاہے انہیں نہیں جانتے مگر تھوڑے۔ (پ15،الکہف:22) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں انہی کم لوگوں میں سے ہوں جو اصحابِ کہف کی تعداد کو جانتے ہیں۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اصحابِ کہف کی تعداد سات ہے اور آٹھواں اُن کا کتا ہے۔ (تفسیرصاوی، ج ۴،ص۱۹۱۱،پ۵۱،الکہف:۲۲) قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اصحابِ کہف کا حال بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:۔(پ15،الکہف:9۔13) ترجمہ: کیا تمہیں معلوم ہوا کہ پہاڑ کی کھوہ اور جنگل کے کنارے والے ہماری ایک عجیب نشانی تھے جب ان جوانوں نے غار میں پناہ لی پھر بولے اے ہمارے رب ہمیں اپنے پاس سے رحمت دے اور ہمارے کام میں ہمارے لئے راہ یابی کے سامان کر تو ہم نے اس غار میں ان کے کانوں پر گنتی کے کئی برس تھپکا

پھر ہم نے انہیں جگایا کہ دیکھیں دو گروہوں میں کون ان کے ٹھہرنے کی مدت زیادہ ٹھیک بتاتا ہے ہم ان کا ٹھیک ٹھیک حال تمہیں سنائیں وہ کچھ جو ان تھے کہ اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے ان کو ہدایت بڑھائی۔ اس سے اگلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اصحابِ کہف کا پورا پورا حال بیان فرمایا ہے۔ جس کا تذکرہ اوپر ہوچکا۔ اصحابِ کہف کے نام:۔ ان کے ناموں میں بھی بہت اختلاف ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اُن کے نام یہ ہیں۔ یملیخا، مکشلینا، مشلینا، مرنوش، دبرنوش، شاذنوش اور ساتواں چرواہا تھا جو ان لوگوں کے ساتھ ہو گیا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اُس کا ذکر نہیں فرمایا۔ اور ان لوگوں کے کتے کا نام ’’قطمیر‘‘ تھا اور ان لوگوں کے شہر کا نام ’’افسوس‘‘ تھا اور ظالم بادشاہ کا نام ’’دقیانوس‘‘ تھا۔ (مدارک التنزیل،ج ۳، ص ۶۰۲،پ۵۱،الکہف:۲۲) اور

تفسیر صاوی میں لکھا ہے کہ اصحابِ کہف کے نام یہ ہیں۔ مکسملینا، یملیخا، طونس، نینوس، ساریونس، ذونوانس، فلستطیونس۔ یہ آخری چرواہے تھے جو راستے میں ساتھ ہو لئے تھے اور ان لوگوں کے کتے کا نام ”قطمیر” تھا۔ (صاوی،ج۴،ص۱۹۱۱،پ۵۱،الکہف:۲۲) اصحابِ کہف کتنے دنوں تک سوتے رہے:۔(پ۵۱،الکھف:۵۲) (اور وہ اپنے غار میں تین سو برس ٹھہرے نواوپر)نازل ہوئی۔ تو کفار کہنے لگے کہ ہم تین سو برس کے متعلق تو جانتے ہیں کہ اصحابِ کہف اتنی مدت تک غار میں رہے مگر ہم نو برس کو نہیں جانتے تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ شمسی سال جوڑ رہے ہو اور قرآن مجید نے قمری سال کے حساب سے مدت بیان کی ہے اور شمسی سال کے ہر سو برس میں تین سال قمری بڑھ جاتے ہیں۔ (صاوی،ج۴،ص۳۹۱۱،پ۵۱،الکہف:۵۲) اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ لائیک اور شیئر کریں۔

اللہ پاک کا یہ ایک نام پڑھ لیں

میرے بھائیو اورمیری بہنو امید کرتے ہیں کہ آپ سب اللہ پاک کے فضل کرم سے خیریت سے ہوں گے اﷲ تبارک و تعالیٰ کا مومنوں کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود وسلام بھیجنے کا حک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پردرود بھیجنے کی کیفیت جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اﷲ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ درود (بصورتِ رحمت) درود بھیجتا ہے جس مجلس میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود نہ بھیجا گیا وہ قیامت کے دن ان اہل مجلس پر حسرت بن کر نازل ہو گی بدبخت ہے وہ شخص جس کے سامنے میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے ہر دعا اس وقت تک حجاب میں رہتی ہے جب تک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود نہ بھیجا جائے۔

ناظرین حدیث شریف میں ہے اللہ غفور جمعہ کے روز کسی مسلمان کو نہیں چھوڑتا مگر اس کی بخشش کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ناظرین جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار ہے اور سب سے افضل ہے حدیث شریف میں ہے اللہ تعالی کے نذدیک تمام دنوں سے افضل جمعہ کا دن ہے۔ ناظرین جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار ہے اور اس میں رحمت الٰہی کی بارش ہوتی ہے اور دوزخ کی آگ کو ٹھنڈا کیا جاتا ہے ناظرین آج ہم آپ کو ایک ایسا مجرب وظیفہ بتانے لگیں ہیں اور بہت آسان سا عمل بتانے لگے ہیں جس کے کرنے سے انشاء اللہ تعالی آپ کی جیسی بھی تنگی ہوگی کسی قسم کی بھی تنگی ہوگی رزق کی تنگی ہے مال کی تنگی ہے روزگار کی تنگی ہے اگر کوئی بھی تنگی ہے انشاء اللہ اس وظیفہ کو کرنے سے آپ کی وہ تنگی حل ہو جائے گی۔

اس عمل کو آپ نے جمعہ کے دن کرنا ہے کسی بھی وقت فجر کی نماز سے لے کر مغرب کی ازان سے پہلے تک کسی بھی وقت یہ 100 مرتبہ آپ نے پڑھنا ہے اور ہر جمعہ کو آپ نے پڑھنا ہے اس عمل کی اجازت عام ہے۔ تو ناظرین کرنا یہ ہے کہ جمعہ کے دن فجر کی نماز سے لے کر مغرب کی ازان سے پہلے پہلے 100 مرتبہ آپ نے اللہ ھو پڑھنا ہے۔ صرف اللہ ھو اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے کسی بھی وقت ایک تسبیح آپ نے اللہ ھو کی کرنی ہے اور ہر جمعہ کو آپ نے یہ تسبیح کرنی ہے آپ نے انشاء اللہ تعالی آپ دیکھیں گے کہ آپ کی تنگی کیسے دور ہوتی ہے مگر جمعہ کے دن آپ نے 100 مرتبہ اللہ ھو پڑھنا ہے اگر زیادہ بھی پڑھ سکتے ہیں تو زیادہ بہتر ہے مگر 100 مرتبہ آپ نے لازمی پڑھنا ہے انشاء اللہ تعالی ناظرین ظرور ہم سب کی تنگی دورفرمائے گا اللہ تعالی تو ناظرین کوشش کیا کریں جوبھی اچھی بات آپ کو ملے تو اسے شئیر ضرور کیا کریں کیونکہ اچھی بات کو شئیر کرنا صدقہ جاریا ہے۔

وہ واحد نمازی جس کیلئے ابلیس فجر کے وقت چراغ لے کر کھڑا رہا

ایک شخص صبح سویرے اٹھا صاف ستھرے کپڑے پہنے اور مسجد کى طرف چل پڑا کے فجر کى نماز باجماعت ادا کروں راستے میں ٹھوکر کھا کر گر پڑا اور سارے کپڑے کیچڑ سے بھر گئے واپس گھر آیا لباس بدل کر واپس مسجد کى طرف روانہ ہوا پھر ٹھیک اسی مقام پر ٹھوکر کھا کر گِرا اور کپڑے گندے ھو گئےپھر واپس گھر آیا اور لباس بدل کر دوباره مسجد کو روانہ ہوا۔

جب تیسری مرتبہ اس مقام پہ پہنچا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک شخص چراغ ہاتھ میں لے کر کھڑا ہے اور اسےاپنے پیچھے چلنے کو کہہ رہا ہےوه شخص اسے مسجد کے دروازے تک لے آیا پہلے شخص نے اسے کہا کہ آپ بھى آ کر نماز پڑھ لیں۔ وه خاموش رہا اور چراغ ہاتھ میں پکڑے کھڑا رہا لیکن مسجد کے اندر داخل نہیں اندر داخل نہیں ہوا دو تین بار انکار پر اُس نے پوچھا کے آپ مسجد آ کر نماز کیوں نہیں پڑھ لیتے…دوسرے شخص نے کہا اس لیے کے میں ابلیس ہوں.. پہلے شخص کى حیرانگی کی انتہا نہ تھى جب اس نے یہ سُنا۔

شیطان نے اپنی بات جارى رکھى۔ یہ میں ہى تھا جس نے تمہیں زمین پر گِرایا جب تم نے واپس گھر جا کر لباس تبدیل کیا اور دوبارہ مسجد کى جانب روانہ ہوئے تو اللہ نے تمہارے سارے گناہ بخش دیے جب میں نے دوسرى مرتبہ تمہیں گِرایا اور تم دوبارہ لباس پہن کر مسجد کو روانہ ہوئے تو اللہ نے تمہارے سارے خاندان کے گناہ بھى بخش دیے۔۔ میں ڈر گیا کے اگر اب میں نے تمہیں گِرایا اور تم دوباره لباس تبدیل کر کے مسجد کى طرف چلے تو کہیں اللہ تمہارے سارے گاؤں کے باشندوں کے گناہ نہ بخش دے اسى لیے میں خود تمہیں مسجد تک چھوڑنے آیا۔

جمعہ کی نماز کے بعد کا خاص وظیفہ

جمہ کی نماز کے بعد کا خاص وظیفہ .یہ وظیفہ کرنے سے آپ کی مشکالات خت میں ہر جمعہ کو غروبِ آفتاب سے قبل -جس کے بارے میں قبولیت کی گھڑی ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے- مسجد میں جان بوجھ کر داخل ہوتا ہوں، اور اللہ کیلئے دو رکعت نماز تحیۃ المسجد ادا کرتا ہوں؛ پھر دوسری رکعت کے آخری سجدہ کو غروب آفتاب تک لمبا کرتا ہوں، اور اس دوران سجدے کی حالت میں دعا ہی کرتا رہتا ہوں، یہاں تک کہ مغرب کی آذان ہوجاتی ہے؛ کیونکہ جمعہ کے دن آخری لمحات میں قبولیت کی گھڑی پانے کا اچھا موقع ہوتا ہے، اور قبولیت کے امکانات مزید روشن کرنے کیلئے میں سجدے میں دعا مانگتا ہوں، اور بسا اوقات اگر کسی سببی نماز کا وقت نہ ہو ، یا نفل نماز کیلئے ممنوعہ وقت ہو تو میں جان بوجھ کر ایسی سورت کی تلاوت کرتا ہوں۔

جس میں سجدہ تلاوت ہو، تو تب بھی میں اتنا لمبا سجدہ کرتا ہوں کہ جمعہ کے دن مغرب کی آذان ہو جائے، ایک دن میں ایسے ہی کر رہا تھا کہ ایک آدمی نے آکر میرے ذہن میں اس عمل کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کردئیے، اور اس عمل کے بارے میں “بدعت” ہونے کا بھی عندیہ دے دیا۔ تو کیا میرا یہ عمل بدعت ہے؟ حالانکہ میری نیت یہی ہے کہ جمعہ کے دن آخری لمحات میں قبولیت کی گھڑی تلاش کی جائے، اور میں سجدے کی حالت میں اللہ سے دعا مانگوں، تو اس طرح قبولیت کیلئے دو امکانات ہونگے، اس عمل کیلئے میری نیت یہ ہی ہے کہ قبولیت کی گھڑی تلاش کروں۔

علمائے کرام نے جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی کو متعین کرنے کیلئے متعدد اور مختلف آراء دی ہیں، ان تمام آراء میں دلائل کے اعتبار سے ٹھوس دو اقوال ہیں:

1- یہ گھڑی جمعہ کی آذان سے لیکر نماز مکمل ہونے تک ہے۔

2- عصر کے بعد سے لیکر سورج غروب ہونے تک ہے۔

ان دونوں اقوال کے بارے میں احادیث میں دلائل موجود ہیں، اور متعدد اہل علم بھی ان کے قائل ہیں۔ الف- پہلے قول کی دلیل : ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی کے بارے میں کہتے ہوئے سنا: (یہ گھڑی امام کے بیٹھنے سے لیکر نماز مکمل ہونے تک ہے) مسلم: (853) اس موقف کے قائلین کی تعداد بھی کافی ہے، چنانچہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں: “سلف صالحین کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ ان دونوں میں سے کونسا قول راجح ہے، چنانچہ بیہقی نے ابو الفضل احمد بن سلمہ نیشاپوری کے واسطے سے ذکر کیا کہ امام مسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: “ابو موسی رضی اللہ عنہ کی حدیث اس مسئلہ کے بارے میں صحیح ترین اور بہترین ہے” اسی موقف کے امام بیہقی، ابن العربی، اور علمائے کرام کی جماعت قائل ہے۔

اور امام قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کی حدیث اختلاف حل کرنے کیلئےواضح ترین نص ہے، چنانچہ کسی اور کی طرف دیکھنا بھی نہیں چاہئے