اگر روزانہ ایک کیلا کھایا جائے تو؟

ہارٹ اٹیک اور فالج جیسی خطرناک بیماریاں آج کل تشویشناک حد تک عام ہوچکی ہیں اور ایک بار انسان ان موذی بیماریوں کے شکنجے میں آجائے تو عمر بھر کیلئے ان کے بد اثرات سے نہیں نکل پاتا۔ تو کیوں نہ ہم ایک ایسی چیز کو اپنی روزمرہ غذا کا حصہ بنالیں جو ایسی بیماریوں کو ہم سے دور رکھنے کے لئے جادوئی اثر کی حامل ہے۔

میل آن لائن کے مطابق یونیورسٹی آف الباما کی ایک حالیہ تحقیق میں یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا ہے کہ کیلے کا باقاعدہ استعمال انسان کو دل کی بیماری اور فالج سے بڑی حد تک محفوظ کر دیتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پھل میں پوٹاشیم بکثرت پایا جاتا ہے۔  یہ وہ مادہ ہے جو تنگ اور سخت شریانوں کو کھول دیتا ہے۔ چونکہ دل کی بیماری اور فالج کی اہم ترین وجوہات میں سے ایک خون کی شریانوں کی بندش یا ان میں سختی آجاتا ہے، لہٰذا پوٹاشیم کی مناسب مقدار دستیاب ہو جانے سے شریانوں میں یہ مسئلہ پیدا نہیں ہوتا تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ہم روزمرہ غذاﺅں کے ذریعے پوٹاشیم حاصل کرنے کی بات کریں تو کیلا ان غذاﺅں میں سرفہرست ہے۔

تحقیق کی سربراہی کرنے والے سائنسدان ڈاکٹر سینڈرز کا کہنا تھا کہ کیلے میں پائی جانے والی پوٹاشیم تیزی سے جزو بدن بنتی ہے اور اس کے مثبت اثرات بہت جلد نظر آنا شروع ہوجاتے ہیں۔  ان کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ پوٹاشیم کو فوڈ سپلیمنٹ کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے تاہم کیلے کی صورت میں اس کا استعمال قدرتی بھی ہے اور زود اثر بھی۔ یہ تحقیق سائنسی جریدے ’جرنل آف کلینیکل انویسٹی گیشن‘ میں شائع کی گئی ہے

Check Also

صرف-ایک-چمچ-تخم-بلنگا

صرف ایک چمچ تخم بلنگا

تخم ملنگا ایک مشہور اور گرمیوں میں کثرت سے استعمال ہونے والے بیج ہے۔ جس …