تم نے حرام کو حلال کیسے کردیا؟

ایک مرتبہ دو میاں بیوی آپس میں خلوت کے لمحات میں تھے‘ خاوند بات کرنا چاہتا تھا‘ مگر بیوی کچھ ناراض سی تھی‘ حتیٰ کہ خاوند نے غصہ میں کہہ دیا‘ اللہ کی قسم جب تک تو نہیں بولے گی تو میں تیرے ساتھ نہیں بولوں گا‘ جب خاوند نے قسم اٹھائی تو بیوی نے بھی قسم اٹھا دی کہ اللہ کی قسم! جب تک تو پہلے نہیں بولے گا میں بھی نہیں بولوں گی‘ اب وہ بھی چپ یہ بھی چپ‘ رات تو گزر گئی صبح کو دماغ ٹھنڈے ہوئے

تو سوچنےلگے کہ کوئی تو حل ہونا چاہئے‘چنانچہ وہ سفیان ثوری کے پاس گئے انہیں سارا واقعہ سنایا اور پوچھا کہ اب اس کا حل کیا ہے؟ فرمایا دونوں میں سے جو پہل کرے گا وہ حانث بن جائے گا اس دور میں جو حانث بن جاتا تھا اس کی گواہی قبول نہیں کی جاتی تھی‘ کیونکہ وہ معاشرے میں اعتبار کے قابل نہیں رہتا تھا‘ لہٰذا دونوں کی خواہش تھی کہ قسم ہماری نہ ٹوٹے‘ اب دونوں پریشان‘ خاوند کو خیال آیا کہ امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھنا چاہئے۔ چنانچہ ان کے پاس پہنچا تو حضرت رحمتہ اللہ علیہ نے پوچھا کیا ہوا؟ کہنے لگا‘ حضرت! میں بیوی کو بلا رہا تھا مگر وہ بولتی نہیں تھی‘ مانتی نہیں تھی‘ میں نے غصہ میں کہہ دیا کہ اللہ کی قسم اٹھائی کہ جب تک تو مجھ سے نہیں بولے گی میں تجھ سے نہیں بولوں گا‘ وہ تو لڑنے کیلئے پہلے ہی

تیار تھی‘ اس نے بھی قسم اٹھائی کہ جب تک تو نہیں بولے گا میں بھی نہیں بولوں گا‘ اب ہم پھنسے ہوئے ہیں۔ حضرت رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا‘ جاؤ تم اس کے ساتھ بات کرو‘ تمہاری بیوی ہے‘ میاں بیوی بن کر رہو‘ خاوند ہنستا مسکراتا گھر آیا اور کہنے لگا کیا حال ہے؟ آپ کی طبیعت ٹھیک ہے؟ بیوی نے کہا بس تو حانث بن گیا‘ کہنے لگا میں تو حانث نہیں بنا‘ اس نے کہا وہ کیوں کہنے لگا میں امام ابوحنیفہ سے پوچھ کر آیا ہوں اس دور میں علمی ذوق بہت زیادہ تھا‘ بیوی کہنے لگیاچھا میں ابھی جا کر مسئلہ پوچھتی ہوں میاں بیوی پہلے سفیان ثوری کے پاس پہنچے ان کو جا کر بتایا تو وہ کہنے لگے ابوحنیفہ تو حرام کو حلال کرتا پھر رہا ہے چلو میں بھی تمہارے ساتھ چلتا ہوں انہوں نے کیسے یہ مسئلہ بتا دیا۔ جب یہ سب امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے پاس پہنچے تو سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ نے کہا کہ ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ تم نے حرام کو حلال کیسے کر دیا؟ امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ مسکرا کر کہنے لگا‘ حضرت! میں نے تو

حرام کو حلال نہیں کیا‘ حلال کو حلال کہا ہے۔ آپ ان سے سنیں تو سہی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں حضرت سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ نے ان سے پوچھا کہ کیا کہہ رہے ہیں؟امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے کہا کہ حضرت! پہلے خاوند نے کہا کہ جب تک تو نہیں بولے گی‘ میں تجھ سے نہیں بولوں گا اس کے جواب میں بیوی نے بھی قسم اٹھا دی۔ آپ دیکھیں تو سہی وہ کس سے بات کرتے ہوئے قسم اٹھا رہی ہے‘ خاوند ہی سے تو بات کر رہی ہے لہٰذا خاوند کی قسم پوری ہو گئی اب بیوی کی قسم باقی تھی‘ اس لئے میں نے خاوند سے کہا کہ جاؤ جاؤ تم اس سے بولو گئے تو اس کی بھی قسم پوری ہو جائے گی‘ تم دونوں میاں بیوی بن کر زندگی گزارو‘ سفیان ثوری اس نکتہ سنجی اور معاملہ فہمی کو دیکھ کر حیران ہو گئے۔

Check Also

امریکہ میں چھت پر لگے پنکھے کے پروں کی تعداد 4 اور پاکستان میں 3 کیوں ہوتی ہے؟

آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ امریکہ اور زیادہ تر یورپی ممالک …