ماڈلنگ کی دنیا میں کامیابی کیسے ملتی ہے؟ سپر ماڈل نے اندر کی بات بتا دی

کراچی (ویب ڈیسک) معروف ماڈل و اداکارہ آمنہ بابر نے انکشاف کیا ہے کہ ماڈلنگ کی دنیا میں قدم رکھنے سے قبل انہیں متعدد بار اوڈیشنز میں مسترد کیا گیا، تاہم ایک وقت آیا جب مسترد کرنے والے لوگ ہی ان کے پاس کام کے لیے آئے۔ آمنہ بابر گزشتہ ایک دہائی سے ماڈل و فیشن انڈسٹری کا حصہ ہیںاور وہ اس دوران چند میوزک ویڈیوز اور اشتہارات میں بھی دکھائی دیں۔

آمنہ بابر کا شمار پاکستان کی سپر ماڈلز میں ہوتا ہے اور انہوں نے بہترین ابھرتی ہوئی ماڈل کا لکس ایوارڈ بھی جیت رکھا ہے۔ انہوں نے فروری 2019 میں دیرینہ دوست زاہد نون سے شادی کی تھی اور دسمبر 2019 میں ان کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی تھی۔ شادی اور بیٹی کی پیدائش کے باعث اگرچہ وہ گزشتہ کچھ عرصے سے ماڈلنگ کی دنیا میں اتنی متحرک نہیں دکھائی دیں، تاہم وہ سوشل میڈیا پر اپنی مصروفیات کے حوالے سے مداحوں کو آگاہ کرتی رہی ہیں۔ کورونا کی وبا پھیلنے کے بعد جہاں پاکستان میں فلم، ڈرامے اور تھیٹرز کا کام متاثر ہوا، وہیں فیشن اور ماڈلنگ کی سرگرمیاں بھی محدود یا آن لائن ہوگئیں۔ لیکن وبا کے دورانیے کو چھوڑ کر دیکھا جائے تو پاکستان میں بھی دیگر ممالک کی طرح گزشتہ چند سال میں بہت زیادہ تعداد میں فیشن شوز ہونے لگے ہیں اور ماڈل آمنہ بابر بھی اس سے اتفاق کرتی ہیں۔

اردو نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں آمنہ بابر کا کہنا تھا کہ کورونا سے قبل پاکستان میں گزشتہ چند سال سے مسلسل فیشن شوز ہونے لگے تھے، جس وجہ سے نئے چہروں کو بھی ماڈلنگ کی دنیا میں کام کرنے کا موقع مل رہا تھا۔ آمنہ بابر نے واضح کیا کہ ماڈلنگ کی دنیا میں چہرے یا جسمانی خدوخال کے مقابلے محنت اہمیت رکھتی ہے اور جو ماڈل جتنی محنت اور لگن سے کام کرے گی، وہ اتنا ہی کامیاب جائے گی۔ انہوں نے اپنی مثال دی کہ کیریئر کے آغاز میں انہیں متعدد اوڈیشنز میں مسترد کردیا گیا تھا، تاہم اس باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور لگن سے کام جاری رکھا۔ آمنہ بابر بتاتی ہیں کہ پھر ایک ایسا وقت بھی آیا کہ جن افراد نے انہیں اوڈیشنز میں مسترد کیا تھا، وہ لوگ بھی کام کے لیے ان کے پیچھے پیچھے آگئے اور انہوں نے کسی کو کچھ کہے بغیر ان کے ساتھ کام کرنا شروع کیا۔ اداکاری کے حوالے سے آمنہ بابر کا کہنا تھا کہ چند سال قبل انہوں نے سوچا تھا کہ وہ اداکاری میں قدم رکھیں گی، تاہم اب ان کی ترجیحات بدل چکی ہیں۔ آمنہ بابر نے واضح کیا کہ اداکاری کے لیے بہت وقت درکار ہوتا ہے اور ان کے پاس اس کے لیے وقت نہیں۔ تاہم ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ ان کے چہرے کے خدوخال منفی کرداروں کے لیے انتہائی موزوں ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ وہ منفی کردار شاندار طریقے سے ادا کریں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں