تندرست ہو جانے کے باوجود کورونا وائرس انسان میں کیا کمزوری پیدا کر جاتا ہے؟

لندن (ویب ڈسیک ) ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کورونا وائرس مریضوں کے دماغ کو بھی نقصان پہنچاسکتا ہے، اس سے پہلے یہی سمجھا جاتا رہا ہے کہ کورونا وائرس صرف نظام تنفس اور دل پر اثر انداز ہوتا ہے۔نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے مریض کے دماغ کو کنفیوژن، سٹروک اور سوزش جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

یہ تحقیق ایسے ممالک میں کی گئی ہے جہاں کورونا کا حملہ شدید تھا۔ چین، اٹلی اور امریکہ میں ہونے والی اس تحقیق میں ایک ہزار مریضوں کے دماغ، ریڑھ کی ہڈی اور اعصاب کا جائزہ لیا گیا۔برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیور پول میں ہونے والی تحقیق کے نتائج سے پتا چلتا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ 93 مریض ایسے تھے جن کے دماغ کی ہیئت میں تبدیلی آئی۔ ان میں 16 وہ مریض ہیں جو ووہان میں ہسپتالوں میں داخل تھے جبکہ 40 ایسے مریض بھی شامل ہیں جو آئی سی یو میں زیر علاج تھے۔آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ڈاکٹر رندیپ گلیریا کا کہنا ہے کہ کورونا کی وجہ سے دماغ پر اثر پڑسکتا ہے لیکن اس کی شدت کا اندازہ ابھی نہیں لگایا جاسکا۔ اور اس تحقیق کے مطابق تندرست ہو جانے کے باوجود یہ دماغی کمزوری ہمیشہ کے لیے انسان کی زندگی کا حصہ بھی بن سکتی ہے۔

Check Also

ریڑھی لگانے کے بھی پیسے ،میں گھر میں والدین اور 4بہنوں کا واحد کفیل ہوں ،وارڈن کے ستائے نوجوان نے احتجاجاً ریڑی کو

رائیونڈ کے بھٹی چوک پر ریڑھی بان نے ٹریفک وارڈن سے تنگ آکر اپنی ریڑھی …