حج کی ادائیگی کے طریقہ کار میں بڑی تبدیلی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) کورونا وبا کے باعث جہاں محدود پیمانے پر عازمین کو حج بیت اللہ کی اجازت دی گئی ہے وہیں حج کے ارکان کے حوالے سے کئی ایک اقدامات تاریخ کا حصہ بن رہے ہیں۔ سعودی حکومت کے فیصلے کے مطابق اسلامی تاریخ میں پہلی بار حج کی نیت سے مکہ مکرمہ میں

داخلے کا اہتمام ایک ہی میقات سے کیا گیاہے۔ یہ میقات طائف کے قریبی علاقے السیل الکبیر میں واقع ہےاور اس میقات کا نام قرن المنازل ہے۔ رپورٹ کے مطابق میقات ایک اصطلاح ہے جس کا مطلب وہ حد ہے جہاں سے عازمین کو حج یا عمرہ کی نیت سے لازمی طور پر احرام کی حالت میں گزرنا ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ سلم نے حج اور عمرہ کی ادائیگی کے لیے دنیا کے مختلف علاقوں سے آنے والوں کے لیے چار میقات متعین کی تھیں۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ اس سال حج ادا کرنے والے عازمین کو صرف ایک ہی میقات سے گزرنا ہو گا۔ پانچویں میقات کے بارے میں بعض جگہوں پر وضاحت ملتی ہے کہ رسول کریمﷺنے پانچویں میقات کا بھی تعین کیا تھا لیکن بعض روایات میں پانچویں میقات کا انتخاب اسلام کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے کیا تھا۔ مکہ کی جانب سفر کے لیے مختلف سمت سے یہ پانچ حدود یا میقات حج یا عمرہ کی حالت کی نمائندگی کرتی ہیں۔یاد رہے کہ یہ تبدیلی اسلام و حج کی تاریخ میں پہلی بار کی گئی ہے ۔

Check Also

کیا پاکستان سعودی عرب کی امداد اور چھاؤں کے بغیر چل سکتا ہے ؟ جاوید چوہدری نے دنگ کر ڈالنے والے حقائق قوم اور حکمرانوں کے سامنے رکھ دیے

لاہور (ویب ڈیسک ) ہم من حیث القوم کالو ہیں‘ ہم نے 72 سال اپنے …