رجب طیب اردگان نے بڑا اعلان کر دیا

انقرہ ( نیوز ڈیسک) ترکک صدر رجب طیب اردگان کا کہنا ہے کہ ہم عزم رکھتے ہیں کہ جمہوریہ ترکی کو ہر شعبے میں زیادہ جدید، زیادہ محفوظ اور زیادہ ترقی یافتہ بنا کر ہی 2023ء میں قدم رکھیں گے، جب جمہوریہ کے قیام کو 100 سال مکمل ہوں گے۔ ہمارے دروازے اور دل ہمارے اُن تمام دوستوں کے لیے کھلے ہیں جو اس راستے پر ہمارے قدم بقدم ہوں گے۔تفصیلات کے مطابق اماسیا رِنگ روڈ کی افتتاحی تقریب سے بذریعہ وڈیو کانفرنس خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ ہم عزم رکھتے ہیں

کہ جمہوریہ ترکی کو ہر شعبے میں زیادہ جدید، زیادہ محفوظ اور زیادہ ترقی یافتہ بنا کر ہی 2023ء میں قدم رکھیں گے، جب جمہوریہ کے قیام کو 100 سال مکمل ہوں گے۔ ہمارے دروازے اور دل ہمارے اُن تمام دوستوں کے لیے کھلے ہیں جو اس راستے پر ہمارے قدم بقدم ہوں گے۔ دوسری جانب جو اس راستے میں روڑے اٹکائیں گے، ہمارے خلاف جال بچھائیں گے یا ہمیں روکنے کی کوشش کریں گے، وہ شکست سے دوچار ہوں گے۔ترکی کی جانب سے وباء کے دوران اپنے شہریوں کو فراہم کی گئی اعلیٰ ترین صحت کی سہولیات اور ملک میں نوتعمیر شدہ تنصیبات کی جانب توجہ دلاتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ ہم نے زمین پر، سمندروں اور فضاؤں میں اپنے عوام اور ملک کے ساتھ ساتھ بلکہ اپنی سرحدوں سے باہر اپنے دوستوں کے حقوق اور مفادات کا تحفظ بھی کیا ہے۔ ہم عراق اور شام سے لے کر لیبیا اور بحیرۂ ایجیئن تک جہاں جہاں ہمارے ملک کو خطرے کا سامنا کرنا پڑا، ہم نے وہاں بے دھڑک قدم رکھا اور اپنی طاقت اور عزم کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ ہم نے اپنی معیشت کے خلاف بچھائے گئے جال ایک، ایک کرکے کاٹ ڈالے،ساتھ ہی یہ بھی ثابت کیا کہ تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے لوگ ہمارے کے ساتھ کھڑے ہیں۔

وباء کے بعد تشکیل پانے والی نئی دنیا کے عالمی سیاسی و معاشی نظام میں ترکی کے لیے اہم مقام حاصل کرنے کے کئی مواقع موجود ہوں گے، جن کی جانب توجہ دلاتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ ہم نے اپنے حقوق کے حوالے سے جو اقدامات اٹھائے انہیں بڑے پیمانے پر قبول کیا گیا اور ان کا احترام کیا گیا، سوائے چند خود ساختہ اعتراضات کے۔ ہم پہلے ہی ان چند ملکوں کا رویہ دیکھ چکے ہیں جنہوں نے حالیہ کچھ دنوں میں خوب شور و غل کیا ہے، ان کا یہ ہنگامہ محض آیا صوفیا یا مشرقی بحیرۂ روم کے معاملے میں نہیں ہے بلکہ وہ ترک قوم کی بقا اور اس جغرافیہ میں مسلمانوں کی موجودگی ہی کے درپے ہیں۔ترک صدر کا مزید کہنا تھا کہ ہم انہیں خبردار کرتے ہیں جو کسی بھی طرح ہمارے ملک کے خلاف معاندانہ رویہ رکھتے ہیں اور ہمارے خلاف بولتے ہیں کہ سیاسی، سفارتی، عقلی اور فہمی کسی بھی لحاظ سے اگر آپ کے اندر وہ قیمت ادا کرنے کی ہمت ہے، جو ہم نے ادا کی ہے تو میدان میں آؤ۔ اگر تم ایسا کوئی ارادہ نہیں رکھتے تو جلد از جلد مذاکرات کے راستے کھولو۔ ہماری نظریں کسی کے حقوق، زمین، سمندروں یا قدرتی وسائل پر نہیں ہے۔ لیکن ہم کسی دوسرے کو بھی اپنے حقوق اور مفادات غصب نہیں کرنے دیں گے۔

صدر ایردوان نے کہا کہ “ہم مبنی بر انصاف، عقل کے مطابق اور اخلاقیات کی حامل تمام تجاویز کا جائزہ لینے اور ان پر مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ہم نے میدان میں ثابت کیا ہے کہ ہم ظلم و جبر کے خلاف کیا ردعمل دکھاتے ہیں۔ اگر ضرورت پڑی تو اب بھی بے دھڑک میدان میں اتریں گے۔ ہمارا عزم ہے کہ جمہوریہ ترکی کو ہر شعبے میں زیادہ جدید، زیادہ محفوظ اور زیادہ ترقی یافتہ بنا کر ہی 2023ء میں قدم رکھیں گے، جب جمہوریہ کے قیام کو 100 سال مکمل ہوں گے۔ ہمارے دروازے اور دل ہمارے اُن تمام دوستوں کے لیے کھلے ہیں جو اس راستے پر ہمارے قدم بقدم ہوں گے۔ دوسری جانب جو اس راستے میں روڑے اٹکائیں گے، ہمارے خلاف جال بچھائیں گے یا ہمیں روکنے کی کوشش کریں گے، وہ شکست سے دوچار ہوں گے۔

Check Also

سائنسدانوں نے آپ کے سونے کے انداز کے پیچھے چھپا انتہائی حیران کن راز بتادیا

ہر انسان کو سونے کا انداز جدا ہی ہوتا ہے سونے کا انداز میاں بیوی …