اہم شرعی مسئلہ : اس بار پہلے کی طرح قربانی کرنے کی بجائے یہ عمل زیادہ مناسب اور بہتر رہے گا

لاہور (ویب ڈیسک)دارالعلوم دیوبند نے کہا ہے کہ صاحب نصاب شخص پر قربانی واجب ہے ، صدقہ خیرات قربانی کے عمل کا بدل نہیں ہوسکتے تاہم اگر تمام تر کوشش کے باوجود قربانی نہ کی جاسکے تو زندہ جانور یا اس کی رقم صدقہ کی جاسکتی ہے۔ فتویٰ میں کہا گیا ہے کہ رواں برس

صرف واجب قربانی کی جائے اور نفلی قربانی کی رقم غربا و مساکین میں تقسیم کردی جائے ۔دارالعلوم دیوبند کے دارالافتا کی جانب سے جاری فتویٰ میں کہا گیا ہے کہ صاحب نصاب پر قربانی واجب ہے اور قربانی کا کوئی بدل نہیں ہے یعنی ایام قربانی میں قربانی کرنا ہی ضروری ہے ،قربانی کی جگہ صدقہ و خیرات کرنا یہ قربانی کا نہ بدل ہے اور نہ ہی اس سے قربانی کا فریضہ ساقط ہوتا ہے ہاں اگر قربانی کرنے کی تمام کوششوں کے باوجود ایام قربانی میں قربانی نہیں ہوسکی تو اب اس کی قضا نہیں ہے بلکہ اگر جانور زندہ ہو تو وہی جانور یا پھر جانور کی قیمت صدقہ کر دی جائے۔

Check Also

کیا پاکستان سعودی عرب کی امداد اور چھاؤں کے بغیر چل سکتا ہے ؟ جاوید چوہدری نے دنگ کر ڈالنے والے حقائق قوم اور حکمرانوں کے سامنے رکھ دیے

لاہور (ویب ڈیسک ) ہم من حیث القوم کالو ہیں‘ ہم نے 72 سال اپنے …