کورونا ویکسین کی پاکستان میں آزامائش کی تیاریاں شروع، پوری دُنیا کی نظریں پاکستانی ماہرین پر جم گئیں

اسلام آباد( نیوز ڈیسک) کورونا ویکسین کی پاکستان میں آزمائش کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں اور اس مقصد کے لے رضاکاروں کے ناموں کے اندارج کا آغاز بھی ہو گیا ہے۔وائس چانسلریونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز پنجاب ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا ہے کہ آکسفورڈ یونیورسٹی کے اشتراک سے کورونا کی ویکسین کی

آزمائش پاکستان میں بھی کی جائے گی۔ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا ہے کہ کورونا کی آزمائش کے لیے رضاکاروں کے ناموں کا اندراج شروع کردیا گیا، کورونا ویکسین کی آزمائش کے لیے 20 ہزار افراد کا اندراج کیا جائےگا۔انہوں نے مزید بتایا کہ ویکسین کی آزمائش کے لیے دو ماہ لگ سکتے ہیں، برطانیہ سے ویکسین بھیجنے کی تصدیق پر حکومت پاکستان سے اجازت لی جائے گی۔خیال رہے کہ کورونا ویکسین کی تیاری کے لیے دنیا بھر میں کوششیں جاری ہیں تاہم ابھی تک کورونا کے حوالے سے سائنسدانوں کو مکمل کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے البتہ مختلف ممالک کی جانب سے مختلف ادویات کی انسانوں اور جانوروں پر آزمائش کی جا رہی ہے۔دوسری جانب کورونا وبا اور اس سے بچاؤ کے احتیاطی تدابیر میں ماسک انتہائی اہمیت کا حامل ہے لیکن کون سا ماسک کتنی دیر تک لگایا جانا چاہیے۔مسسلسل ماسک لگانے سے انسانی جسم پر اس کے کیا اثرات پڑتے ہیں اس حوالے سے سول اسپتال کراچی کے سربراہ ڈاکٹر نور محمد سومرو کہتے ہیں کہ سرجیکل، این 95 یا KN 95 ماسک کو 8 تا 10 گھنٹوں سے زائد استعمال کرنا انسانی صحت کے لیے مضر ہے۔ان کا کہنا ہے کہ عام آدمی کے لیے صرف سرجیکل ماسک کا استعمال ہی کافی ہے، کوشش کریں کہ اگر کسی جگہ پر اکیلے ہوں تو ماسک کو اتار لیں تاکہ آپ کے جسم میں تازہ آکسیجن کی فراہمی ممکن ہوسکے اور سانس لینے کی دشواری پیش نہ آئے۔ڈاکٹروں کے مطابق لوگوں کو دستانے پہننے کی خاص ضرورت نہیں البتہ ہینڈ سینٹائزر کا استعمال ضروری ہے تاکہ ہاتھوں میں موجود جراثم کاخاتمہ ہوسکے۔

Check Also

کیا پاکستان سعودی عرب کی امداد اور چھاؤں کے بغیر چل سکتا ہے ؟ جاوید چوہدری نے دنگ کر ڈالنے والے حقائق قوم اور حکمرانوں کے سامنے رکھ دیے

لاہور (ویب ڈیسک ) ہم من حیث القوم کالو ہیں‘ ہم نے 72 سال اپنے …