عید الاضحی کے تین روز قصائیوں کو ’’ وی آئی پی ‘‘ کا درجہ حاصل

لاہور(ویب ڈیسک) عید الاضحی کے تین روز تک قصائیوں کو غیر اعلانیہ ’’ وی آئی پی ‘‘ کا درجہ حاصل ہوگا ، مہنگائی کو جواز بنانے کے ساتھ جانور وںکی قیمت کو دیکھتے ہوئے ذبح کرنے کی اجرت طے کی گئی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق عوام کی کوشش ہوتی ہے کہعید الاضحی پرجلد سے جلد اپنا جانور ذبح کرکے گوشت کی تقسیم کو یقینی بنایا جائے جس کے لئے قصابوں سے پیشگی رابطے کرکے بکنگ کرا لی گئی ہے ۔

شہریوں کی طرف سے عید الاضحی سے ایک روز قبل بھی قصابوں سے ٹیلیفونک رابطے اور بالواسطہ ملاقاتیں کر کے قربانی کا جانور ذبح کرنے کیلئے طے شدہ وقت کے بارے میں دوبارہ تصدیق کی گئی ۔ قصابوں کو پک اینڈ ڈراپ کی سہولت کا لالچ بھی دیا گیا ۔ قصائیوں نے عید الاضحی کے پہلے روز کی بکنگ بند کر دی ہے اور لوگوں کودوسرے او رتیسرے روز کا ٹائم دیا جارہا ہے ۔ دوسری جانب موسمی قصائی بھی میدان میں آ چکے ہیں جو گھروں میں جا کر کم اجرت میں جانور ذبح کرانے کی پیشکش کر رہے ہیں۔علاوہ ازیں قصائیوں نے امسال قربانی کے جانور ذبح ، کھال اتارنے اور گوشت بنانے کی اجرت گزشتہ سال کے مقابلے میں 40سے 50فیصد تک بڑھا دی ہے جبکہ جانور کی قد و قامت اور قیمت کو دیکھتے ہوئے بھی اجرت طے کی جارہی ہے ۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وائس چانسلریونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز پنجاب ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا ہے کہ پاکستان میں کورونا ویکسین آزمائش کی تیاری شروع کردی ہے، ویکسین کی آزمائش کیلئے رضاکاروں کے ناموں کا اندراج کیا جا رہا ہے، آزمائش کیلئے20 ہزار افراد کے ناموں کا اندراج کیا جائے گا۔ انہوں نے آج یہاں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کورونا ویکسین کی آزمائش کیلئے رضاکاروں کے ناموں کے اندارج کا آغاز کردیا گیا ہے۔آزمائش کیلئے 20 ہزار افراد کے ناموں کا بطور رضاکار اندراج کیا جائےگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جس ویکسین کی آزمائش کی جارہی ہے یہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویکسین ہے، پاکستان آکسفورڈ یونیورسٹی کے اشتراک سے ویکسین کی آزمائش کا کام کرے گا۔ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ پاکستان میں کورونا ویکسین کی آزمائش کیلئے2 ماہ لگ سکتے ہیں۔ اس مقصد کیلئے برطانیہ سے بھیجی گئی ویکسین کی تصدیق کیلئے حکومت پاکستان سے اجازت لی جائے گی۔دوسری جانب امریکی دوا ساز کمپنی نے کہا ہے کہ کورونا ویکسین کا بندروں پر کامیاب تجربات کرنے کے بعد اب انسانوں پر اس ویکسین کے ٹرائلز کا آغاز کر دیا گیا ہے۔امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی دوا ساز کمپنی کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے کورونا وائرس پر قابو پانے کے لئے تیار کردہ ویکسین کو بندروں پر تجربات کے بعد امریکا اور بیلجیم میں 1000 انسانوں پر ٹرائلز کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ کمپنی ترجمان کا کہنا ہے کہ اس ویکسین کی تیاری پر 456 ملین ڈالر لاگت آئی ہے۔ امریکہ میں بھی کورونا وائرس کی دو ممکنہ ویکسینز کی وسیع پیمانے پر حتمی آزمائش کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ ان کے محفوظ اور موثر ہونے کا یقین کیا جا سکے۔

Check Also

کیا پاکستان سعودی عرب کی امداد اور چھاؤں کے بغیر چل سکتا ہے ؟ جاوید چوہدری نے دنگ کر ڈالنے والے حقائق قوم اور حکمرانوں کے سامنے رکھ دیے

لاہور (ویب ڈیسک ) ہم من حیث القوم کالو ہیں‘ ہم نے 72 سال اپنے …