Home » Articles » پھر اللہ کہاں ہے؟

پھر اللہ کہاں ہے؟

سید نا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ایک دن مدینہ کے قریب اپنے ساتھیوں کے ساتھ صحرا میں تھے اور بیٹھے کھانا کھا رہے تھے وہاں سے ایک چرواہے کا گزر ہوا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اُسے کھانے کی دعوت دی، چرواہے نے کہا ” میں نے روزہ رکھا ہواہے ،سید نا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے حیران ہو کر کہا ” اتنے شدت کی گرمی ہے اور تو نے روزہ رکھا ہوا ہے اور تم بکریاں بھی چرا رہے ہو “پھر سید نا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اُ س کی دانتداری اور تقویٰ کا امتحان لینا چاہا اور کہا ” کیا تم ان بکریوں میں سے ایک بکرہمیں بیچ سکتے ہو؟

ہم تمہیں اس کی قیمت بھی دیں گے اور کچھ گوشت بھی دیں گے جس سے تم اپنا رزوہ بھی افطار کر سکتے ہو، چرواھا بولا ” یہ میری بکریاں نہیں ہیں یہ میرے مالک کی بکریاں ہیں ، سید نا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے ” اپنے مالک سے کہنا کہ ایک بکری کو بھیڑیا کھا گیا”چرواہا غصے میں اپنی انگلی آسمان کی طرف کر کے یہ کہتےہوئے چل دیا “پھر اللہ کہاں ہے؟ “سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بار بار چرواہےکی بات کو دھراتےجا رہے تھے کہ ” پھر اللہ کہاںہے پھر اللہ کہاں ہے ” اور روتے جارہے تھےاور جب سید نا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ مدینہ پہنچے، چرواہے کے مالک کو ملے ‘ اُس سے بکریاں اور چرواہا خریدا اور اُسے آزاد کر دیا اور بکریاں بھی اُسے دے دیں اور اُسے کہا” تمہارے ایک جملے نے تجھے آزاد کروا دیا (پھر اللہ کہاں ہے) اللہ سے دعا ہےکہ تجھے قیامت کے دن دوزخ کی آگ سے بھی آزاد کرے “

Check Also

حضرت عیسیٰ ؑ کانے دجال کا خاتمہ نبی کریم ﷺ کی کس تلوار سے کریں گے اور وہ تلوار اس وقت کہاں موجود ہے

حضور نبی کریم ﷺ کی 9مبارک تلواروں میں سے ایک کا نام البتّار ہے ۔ …