گھر سے لڑکی بھگا کر لے گیا اور کورٹ میں جا کر نکاح کرلیا

بسم الله الرحمن الرحيمFatwa:225-30/B=3/1439صورت مسئولہ میں اگر لڑکی نے رضامندی اور خوشی سے اپنے نکاح کی اجازت اس لڑکے کے ساتھ دی ہے اور لڑکے نے اس نکاح کو قبول کیا ہے اور یہ دونوں کا عمل ایک ہی مجلس میں دو مسلمان گواہوں کے سامنے ہوا ہے تو نکاح صحیح ہوگیا، دونوں میاں بیوی ہوگئےاب دوسری جگہ شادی کرنے کے لیے پہلے شوہر سے طلاق لینا ضروری ہے،

اگر نکاح کے بعد دونوں تنہائی میں رہے ہیں تو طلاق کے بعد عدت گذارنا بھی ضروری ہے اور اگر ایسا نہیں ہوا ہے تو پھر دوبارہ صحیح صورت حال لکھ کر سوال کریں۔واللہ تعالیٰ اعلمدارالافتاء،دارالعلوم دیوبندصورت مسئولہ میں اگر لڑکی نے رضامندی اور خوشی سے اپنے نکاح کی اجازت اس لڑکے کے ساتھ دی ہے اور لڑکے نے اس نکاح کو قبول کیا ہے اور یہ دونوں کا عمل ایک ہی مجلس میں دو مسلمان گواہوں کے سامنے ہوا ہے تو نکاح صحیح ہوگیا، دونوں میاں بیوی ہوگئے اب دوسری جگہ شادی کرنے کے لیے پہلے شوہر سے طلاق لینا ضروری ہے، اگر نکاح کے بعد دونوں تنہائی میں رہے ہیں تو طلاق کے بعد عدت گذارنا بھی ضروری ہے اور اگر ایسا نہیں ہوا ہے تو پھر دوبارہ صحیح صورت حال لکھ کر سوال کریں۔

Check Also

کان کا میل کڑوا کیوں ہے؟ منہ میں لعاب کیوں ہے اور آنکھ کے آنسو نمکین کیوں ہیں؟

ایک بار امام جعفر صادقؑ کے دور میں آپ کا ہی شاگرد نعمان بن ثابت …