Home » Articles » آپ اپنا کام شروع کریں

آپ اپنا کام شروع کریں

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) ایک نوجوان اپنی بیوی کو ڈنڈے سے مار رہا تھا کہ ادھر سے ایک دانا بزرگ کا گزر ہوا. یہ ماجرا دیکھ کراس بزرگ نے نوجوان سے کہا‘پتر! ڈنڈے سے تو جانوروں کو مارا کرتے ہیں‘عورت کو تو عورت سے مارا جاتا ہے‘بزرگ نے یہ بات اتنے درد بھرے لہجے اورشفقت سے کی تھی کہ اس نے سیدھا نوجوان کے دل پر اثر کیا‘ نوجوان نے بزرگ کے احترام میں ڈنڈا زمین پر رکھ دیا‘ بزرگ کی بات غور سے سنی اور کہا: بابا جی میں آپ کی بات کا

مطلب نہیں سمجھ پایا‘ بابا جی نے جواب دیا بیٹا عورت پر عورت لا کریعنی سوکن . عورت نے بابے سے مخاطب ہو کر کہا: چل اوئے بابا، چل، کیتھے ہور جا کے اپنا لُچ تل، یہ ہم دونوں میاں بیوی میں آپس کا معاملہ ہے پھر زمین سے ڈنڈا اُٹھا کر اپنے اُٹھا کر اپنے خاوند کو دیتے ہوئے بولی: لیجئے جی‘ آپ اپنا کام شروع کریں اور ادھر ادھر کی باتو ں پر اپنا دھیان نہ دیں تحفظ ناموسِ رسالت ﷺکے عصری تقاضے اور صبح درخشاں کے تازہ نقوش شب تاریک ہوتی ہے. ایک شب تھی، جس کا انتظار تھا، جس کے لیے پلکیں بچھی تھیں، قلب ایستادہ تھے، دل و جاں فرطِ عقیدت سے وجد کناں تھے. وہ شبِ تابندہ تھی، درخشاں تھی، جس نے اُداس دنوں کو نورٌ علیٰ نور بنانا تھا. جس نے کونین سے تاریکی مٹانی تھی، جس نے تاریک دلوں کو جگمگانا تھا. وہ ۱۲؍ ربیع الاول کی شب تھی. جس کی صبح؛ سسکتی انسانیت کا مداوا بن کر آئی. شبِ تابندہ میں ہر طرف روشنی ہی روشنی تھی.جذبات مچل رہے تھے.

بچے خوشی میں پھوٗلے نہیں سما رہے تھے. ہر زباں پکار رہی تھی- پڑھو درود کہ مولود کی گھڑی آئی- ہر دل سے یہ صدا آ رہی تھی- وہ آئے تو آج ہے گھر گھرصلِ علیٰ کی دھوٗم- دل پاکیزہ؛ خیالات پاکیزہ؛ طبیعتیں پاکیزہ؛ ہاں! وہ وجودِ اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم جن کی آمد سے پاکیزگی قائم ہوئی؛ آلودگی و کثافت دور ہوئی. روشنی پھیلی کیسا تاریک دُنیاکو چمکا دیا جب چلے وہ تو کوٗچے بسا کر چلے ابھی شب کا دامن طویل نہیں ہوا تھا، سمتوں سے درود وسلام کے ترانے بُلند ہو رہے تھے. پھوٗہار پڑ رہی تھی. مینھ برس رہا تھا. رحمتوں کے بادل امڈ کر آئے. وہ بادل نہیں جن کے آنے سے اندھیرا چھا جاتا ہے. اُفق تا بہ اُفق نور کی چادر تنی تھی. مدھم روشنی پھیلی ہوئی تھی. جس سے ماحول حوصلہ افزا تھا. سرد ہوائیں چل رہی تھیں. چاندنی پھیلی ہوئی تھی. بستیاں بقعۂ نور بنی ہوئی تھیں. غریبوں کے مکانات بھی کسی قدر آراستہ تھے. پھریرے لہرا رہے تھے. پرچموں کی بہاریں تھیں. چھوٹے چھوٹے بچوں نے کاغذی جھنڈیاں اپنے ہاتھوں چن چن کر جھونپڑوں میں یوں سجائی تھیں کہ وہ گلشن معلوم ہوتے. تاریک گلیوں کے باسی بھی

شبِ تابندہ میں کئی چراغ روشن کر بیٹھے تھے؛ گویا یقیں کے ہزاروں دیپ طاقِ دل پر روشن تھے؛ یوں کہ قبر کی روشنی کا ساماں کر رہے تھے جگمگا اُٹھی میری گور کی خاک تیرے قربان چمکنے والے ہاں!غریبوں کے دل بڑے پاکیزہ ہوتے ہیں. وہ خلوص کے پیکر ہوتے ہیں. انھوں نے اپنے خستہ محل اِس امید پر سجائے تھے، سنوارے تھے کہ -ہوائیں خیرمقدم کے ترانے گنگناتی ہیں- اور -محبوبِ رب اکبر صلی اﷲ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں- اوررُسل انھیں کا تو مژدہ سُنانے آئے ہیں انھیں کے آنے کی خوشیاں منانے آئے ہیں مکاں سجانے والے شادماں تھے. اخلاص کے داعی درودوں کی ڈالیاں پیش کر رہے تھے. سلاموں کے نغمے بلند ہو رہے تھے. کئی مکاں قصرِ عارفاں بنے ہوئے تھے. جس کا سبب عشقِ رسول میں وارفتگی تھا. منزلِ عشق کے کئی امتحاں اِس زمانے میں درپیش ہیں. ابھی ظاہرکی آراستگی کے راہی باطن کی درستی کو کوشاں ہونے ہیں. چمن اسلام کی حنابندی کو ابھی کئی سروں کی سرخ فصل تیار کرنی ہے.

قربان گہِ محبت میں ابھی امتحاں کی منازل سے گزرنا ہے. صدیوں سے سرگرم یہود و نصاریٰ کی سازشوں کا سنگی دور عروج پر ہے. سمتوں سے ناموسِ رسالت صلی اﷲ علیہ وسلم پر حملہ ہے. قوتِ عشقِ سے ہر پست کو بالا کرنے والے امتحاں کی منزل سے گزر رہے ہیں. عشق رسول کے جذبات ناپے جا رہے ہیں. قادیانیت پورے سپاہ و قوت سے لیس سرگرم ہے. عقیدۂ ختم نبوت پر ایک صدی سے زیادہ مدت سے ان کے حملے ہیں. یہ لباسِ خضر میں ایسے رہزن ہیں جن کی نظریں مسلم بستیوں پر لگی ہوئی ہیں. جو ہر سمت گھوٗم رہے ہیں. ان کے تکنیکی ماہرین نے جدید ایجادات کے دوش پر ہمارے گھروں کا احاطہ کر لیا ہے.ہم نے دین کا مطالعہ نہیں کیا. اور قادیانی تعلیمات کبھی الحاد کے ذریعے ہمارے گھروں میں قدم جما رہی ہیں؛ کبھی دھریت کے دوش پر؛ کبھی اباحیت کے ذریعے؛ کبھی لبرل ازم کے نام پر. کبھی جدیدیت کی شکل میں. کبھی بے دینی کے دوش پر.کاش ہم بیدار ہوتے. جاگ گئے ہوتے اے گنبدِ خضریٰ کے مکیں وقتِ مدد ہےاے تاجِ نبوت کے امیں وقتِ مدد ہے

Check Also

ایسا عظیم واقعہ جسے ڈاکٹر علامہ اقبال نے اپنی زندگی میں بتانے سے منع کیا تھا

علامہ اقبال کے خادم میاں علی بخش کو علامہ کے ہاں ایسا نا قابل فراموش …