Home » Articles » بس چھوڑیں جج صاحب

بس چھوڑیں جج صاحب

جج – تمہیں طلاق کیوں چاہئے؟ عرضدار- جج صاحب، میری بیوی مجھ سے لہسن چھلواتي ہے، پیاز كٹواتي ہے، برتن دھلواتي ہے! جج – ہاں تو اس میں کیا ہے، لہسن چھیلنے سے پہلے تھوڑا سا گرم کر لیا کرو آسانی سے نکل جائے گا. پیاز کاٹنے سے پہلے تھوڑی دیر انہیں فریزر میں رکھ دیا کرو اس سے کاٹتے ٹائم آنکھوں میں جلن نہیں ہوگی۔

برتن دھونے سے پہلے انہیں پانی سے بھرے ٹب میں دس منٹ بھیگو دیا کرو آسانی سے صاف ہو جائیں گے. کپڑے سرف میں بھگونے سے پہلے سادہ پانی میں بھیگا لیا کرو داغ آسانی سے نکلیں گے اور ہاتھوں کو بھی تکلیف نہیں ہوگی. عرضدار – سمجھ گیا حضور. جج – کیا سمجھ گئے. عرضدار – یہی کہ، آپ کی حالت مجھ سے بھی بری ہے. آپ کی بیوی لہسن، پیاز اور برتنوں کے علاوہ آپ سے کپڑے بھی دھلواتي ہے. سبق: بیوی تو بیوی ھی ھوتی ھے چاھے کسی کی بھی ھو

Check Also

حضرت عیسیٰ ؑ کانے دجال کا خاتمہ نبی کریم ﷺ کی کس تلوار سے کریں گے اور وہ تلوار اس وقت کہاں موجود ہے

حضور نبی کریم ﷺ کی 9مبارک تلواروں میں سے ایک کا نام البتّار ہے ۔ …