Home » Articles » اگر میں جہنمی تو تجھے طلاق

اگر میں جہنمی تو تجھے طلاق

امام شافعیؒ کے زمانے کا واقعہ ہے ایک علاقے کا حاکم تھا،وہ اپنی بیوی کے ساتھ اپنے گھر میں تنہائی کے لمحات میں تھا خاوند اچھے موڈ میں تھا مگر بیوی کسی وجہ سے اس سے ناراض تھی، اب خاوند جتنا اس سے محبت و پیار کی باتیں کرتا وہ بیوی اتنا اس سے چڑھتی اور اس سے بدتمیزی کرتی، حتیٰ کہ جب خاوند نے بہت زیادہ اس سے محبت کا اظہار کیا تو عورت کا دماغ اس وقت گرم تھا،وہ بے وقوف آگے سے کہنے لگی

کہ جہنمی پیچھے ہٹ! مجھے ہاتھ مت لگا، اب جب اس نے اپنے خاوند نے اپنے خاوند کو جہنمی کہا توآخر وہ بھی مرد تھا، اس کو غصہ آ گیا، اس نے کہا کہ اچھا اگر میں جہنمی تو پھر تجھے میری طرف سے طلاق، اب رات گزر گئی، صبح جب دونوں کا دماغ ٹھنڈا ہوا تو عورت کو بھی غلطی کا احساس ہوا کہ میں اپنے خاوند سے ناراض تھی مگر مجھے یہ لفظ تو نہیں کہنا چاہیے تھا کہ جہنمی پرے ہٹ، میں نے تو غلطی کر لی، اب وہ اپنے خاوند سے پوچھنے لگی کہ جی! کیا مجھے طلاق ہو گئی؟ اس نے کہا: پتہ نہیں یہ تو Conditional

(شرطیہ) تھی کہ اگر میں جہنمی ہوں تو تجھے میری طرف سے طلاق، لہٰذا مجھے علماء سے پوچھنا پڑے گا، خاوند نے علما کو بلایا، علماء کہنے لگے اس کا جواب ہم تو نہیں دے سکتے، اس لیے کہ کون گارنٹی دے کہ آپ جہنمی نہیں ہیں، کون فیصلہ کر سکتا ہے؟ یہ تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فیصلہ کریں گے، لہٰذا یہ بات زبان زد عام ہوگئی، سیکڑوں علماء سے رابطہ کیا گیا مگر کوئی عالم، کوئی مفتی اس کا جواب نہیں دے پا رہا تھا، بادشاہ پریشان تھا، وہ بھی اپنی اتنی خوبصورت بیوی کو طلاق نہیں دینا چاہتا تھا، بیوی بھی اب طلاق نہیں لین

ا چاہتی تھی۔ چنانچہ امام شافعیؒ کو کسی نے بتایا کہ جی فلاں علاقہ میں یہ واقعہ پیش آیا ہے، انہوں نے فرمایا مجھے وہاں لے چلو! میں اس سوال کا جواب دے سکتا ہوں،چنانچہ امام شافعیؒ آئے اور انہوں نے حاکم سے پوچھا کہ کیا واقعہ پیش آیا؟ اس نے بتایا کہ اس طرح میری بیوی نے یہ الفاظ کہے اور میں نے اس کے جواب میں یہ الفاظ کہے، اب بتائیں طلاق ہوئی کہ نہیں؟ امام شافعیؒ نے فرمایا کہ بادشاہ سلامت! اس کا جواب دینے کے لیے مجھے آپ سے تنہائی میں کچھ باتیں پوچھنی پڑیں گی، اس نے کہا بہت اچھا، چنانچہ امام شافعیؒ نے اس سے کہا:بادشاہ سلامت! مجھے زندگی کا کوئی ایسا واقعہ بتائیے کہ جس میں آپ گناہ کرنے کا موقع رکھتے ہوں، گناہ کرنا آپ کے لیے آسان ہو مگر اللہ رب العزت کے ڈر کی وجہ سے آپ نے اپنے آپ کو بچایا ہو، کوئی واقعہ ایسا سنائیں۔بادشاہ سوچتا رہا، کہنے لگا: ہاں! ایک دفعہ میری زندگی میں یہ واقعہ پیش آیا، کیسے

پیش آیا؟ کہنے لگا: ایک دفعہ جلدی میں اپنے دفتر کے کام سے فارغ ہو کر اپنے بیڈ روم میں چلا گیا، جیسے ہی میں داخل ہوا،میں نے دیکھا کہ محل میں کام کرنے والی لڑکی میرے کمرے چیزوں کو سنوار رہی تھی، بستر کو ٹھیک کر رہی تھی، جب میری اس کے چہرے پر نظر پڑی تو لڑکی حسن و جمال میں بہت پیاری تھی، چنانچہ میں نے دروازے کو لاک لگا دیا، بند کر دیا، جب میں لاک لگا کر آگے بڑھا، تو لڑکی سمجھ گئی کہ میری نیت خراب ہے، وہ نیک تھی، پاک دامن تھی، تو میری طرف دیکھ کر اس نے کہا:یا ملک اتق اللّٰہ (اے بادشاہ اللہ سے ڈر) جیسے ہی اس نے یہ لفظ کہا: اللہ سے ڈر، میرے دل میں ڈر آ گیا اور میں نے تالا کھول دیا اور لڑکی سے کہا چلی جاؤ! حالانکہ اگر میں چاہتا تو لڑکی سے اپنی خواہش پوری کر لیتا، مجھے کسی نے پوچھنا ہی نہیں تھا مگر اس نیک بچی کے یہ الفاظ میرے دل پر بجلی بن کر گرے اور مجھے اللہ کا خوف آ گیا

اور میں نے گناہ کے اس موقع سے بچنے کے لیے اس لڑکی کو واپس بھیج دیا، اور یہ ایک ایسا گناہ ہے جو میں کر سکتا تھا مگر اللہ کے خوف کی وجہ سے میں نے نہیں کیا، جب اس نے یہ واقعہ سنایا، امام شافعیؒ نے اس سے کہہ دیا کہ آپ کی بیوی کو طلاق واقع نہیں ہوئی، اس لیے کہ آپ جہنمی نہیں، بلکہ جنتی ہیں، جب انہوں نے یہ فتویٰ دیا سارے علماء ان سے بحث کرنے لگ گئے، آپ کیسے کہہ سکتے ہیں؟ آپ کیسے جنت کا ٹکٹ دے سکتے ہیں؟کیا پرمٹ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ آپ کہیں کہ یہ جنتی ہے یہ جہنمی؟ آپ نے فرمایا کہ یہ فتویٰ میں نے اپنی طرف سے نہیں دیا بلکہ یہ فتویٰ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں خود عطا فرمایا ہے، جی قرآن مجید میں کیسے؟ انہوں نے کہا کہ قرآن مجید کی آیت ’’واما من خاف مقام ربہ‘‘ اورجو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا۔ ’’ونھی النفس عن الھوی‘‘ (النازعات 39) اور اس نے اپنے نفس کو خواہشات میں پڑنے سے بچا لیا۔’’فان الجنۃ ھی الماوی‘‘ پس اس کا ٹھانہ جنت ہوگا، اللہ نے چونکہ فرما دیا، لہٰذا میں فتویٰ دیتا ہوں کہ اس کبیرہ گناہ سے بچنے کی وجہ سے یہ بندہ قیامت کے دن جنت میں داخل ہو گا،

جو بچی آج کے دور میں گناہ کی دعوت ملنے کے باوجود اپنے آپ کو مضبوط رکھتی ہے، اور اپنی عزت اور پاک دامنی کو محفوظ رکھتی ہے اور دعوت دینے والے کو نہیں کا جواب دے دیتی ہے، ہٹ دفع ہو یہاں سے، کا جواب دے دیتی ہے، یہ لڑکی قیامت کے دن اللہ کی جنتوں میں داخل کی جائے گی اور اللہ کا دیدار عطا کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی پاک دامنی کی زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس آیت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے

Check Also

ارسطو کی دانائی

ارسطو کے ہاں مختلف ممالک کے شہزادے زیر تعلیم تھے۔ایک روز ایک شہزادے سے ارسطو …