Home » Articles » حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی اویس قرنی سے ملاقات

حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی اویس قرنی سے ملاقات

نبی کریم ﷺکو اویس قرنیؓ سے خصوصی تعلق تھا ۔آپ ؑ نے ایک دن حضرت عمرؓ سے فرمایا :اے عمرؓ قبیلہ مراد (یمن ) کا ایک شخص جس کا نام اویسؓ ہے یمن کی امداد کے ساتھ تمہارے پا س آئے گا ۔۔اس کے جسم پر برص کے داغ ہیں سب مٹ چکے ہوں گے صرف درہم برابر ایک داغ باقی ہوگا اس کی ماں باحیات ہے وہ اس کی دل و جان سے خدمت کرتا ہے وہ جب کسی بات پر قسم کھاتاہے تو اللہ تعالیٰ اس کی بات پوری کر دیتے ہیں اگر تم کو اس کی دعا

کی دعا لینی ہوتو ضرور دعا کروالینا ‘‘۔۔۔مسلم شریف سیدنا عمر فاروقؓ ’’حقیقت منتظر ‘‘کے لئے منتظر رہے ۔۔نبی کریمﷺ کی وفات ہوگئی ۔۔خلافت صدیق بھی گزر گئی لیکن وہ حقیقت منتظر ابھی تک ظاہر نہ ہوئی حتیٰ کے خلافت فاروق کا زمانہ آگیا ۔۔۔ایک دن ملک یمن سے فوجی امداد آئی جس میں مال و اسباب کے علاوہ مجاہدین کی ایک بڑی جماعت بھی تھی سیدناعمر فاروقؓ نے اس قافلہ میں حضرت اویسؓ کو پا لیا ۔۔۔پوچھا ۔۔آپ کا نام اویس بن عامرؓ ہے ؟ جواب ملا ۔۔جی ہاں !میں اویسؓ ہوں ۔۔ پوچھا کیا آپ کی والدہ با حیات ہیں؟ جواب دیا ہاں ! ان دو باتوں کے بعد حضرت عمرؓ نے فرمایا ۔۔۔اے اویسؓ رسولﷺ نے تمہارے بارے میں مجھ سے فرمایاتھا ۔۔۔’’اے عمر تمہارے پاس ملک یمن کی مدد کے

ساتھ قبیلہ قرن کاایک شخص اویس بن عامرؓ نامی آئے گا جس کے جسم پر برص کے داغ ہوں گے صرف ایک داغ درہم برابر باقی ہے باقی سب صاف ہوگئے ہوں گے ۔۔۔اس کی ماں باحیات ہوگی جس کے ساتھ وہ احسان و نیکی کرتا ہوگا۔جب وہ کسی بات پر اللہ تعالیٰ کی قسم کھاتا ہے تو اللہ اس کی قسم پوری کردیتے ہیں ۔۔۔‘‘پھر آپؑ نے ارشاد فرمایا :اے عمرؓ !اگر تم اس سے دعائے مغفرت لینا چاہوتو ضرور دعا کروالینا اور میرے لئے بھی دعا کروانا ‘‘۔ سیدنا عمرؓ نے یہ تفصیل بیان کر کے حضرت اویسؓ سے گزارش کی کہ آپ میری مغفرت کے لئے دعا فرمائیں۔۔۔حضرت اویسؓ نے رسولﷺ اور حضرت عمرؓ کے لئے دعا کی ۔۔۔اس کے بعد حضرت عمرؓ نے دریافت کیا اب کہاں کا مقصد ہے ؟فرمایا شہر کوفہ جانا ہے ۔۔۔حضرت عمرؓ نے فرمایا ۔۔میں آپ کی ضروریات زمدگی کی تکمیل کے لئے حاکم کوفہ کو لکھ دیتا ہوں کہ وہ تکمیل کر دیا کرے ؟ حضرت اویسؓ نے فرمایا :نہیں نہیں اس کی ضرورت نہیں مجھ کو عام مسلمانوں کی طرح رہنا پسند ہے

میں خود اپنا گزارہ کر لوں گا ۔۔اس واقعے کے دوسرے سال شہر کوفہ کا ایک امیر شخص حج کے لئے آیا حضرت عمرؓ نے سیدنا اویسؓ کے بارے میں دریافت کیا کہ وہ کیسے ہیں ؟اس شخص نے کہا وہ نہایت تنگدستی و غربت کی حالت میں ہیں ،عام مسلمانوں سے دور ایک بوسیدہ مکان میں رہتے ہیں ۔گوشہ نشینی اور عزلت پسندی انہیں مرغوب ہے کسی سے نہ ملاقات کرتے ہیں اور نہ کسی کو ملاقات کا موقعہ دیتے ہیں ان حالات میں لوگ بھی ان سے غافل ہیں ۔۔۔حضرت عمرؓ نے س امیر شخص سے رسولﷺ کا وہ ارشاد نقل کیا جو آپؑ نے حضرت اویسؓ کے بارے میں فرمایا تھا۔چناچہ وہ شخص جب واپس ہو ا تو اولین فرصت میں حضرت اویس قرنیؓ سے ملاقات کی اور اپنے لئے دعا کروائی ۔حضرت اویسؓ نے فرمایا جناب آپ ابھی تازہ تازہ ایک مقدس سفر سے آرہے ہیں آپ میرے لئے دعا کریں ؟اس کے بعد حضرت اویسؓ نے پوچھا کیا تم نے عمر فاروقؓ سے ملاقات کی ؟اس نے کہا جی ہاں !اور کہا کہ انہوں نے آپ کو سلام بھی کہا ہے ۔اس گفتگو کے بعد حضرت اویسؓ نے دونوں کے لئےمغفرت کی دعا کی۔(مسلم )

Check Also

میں مسلمانوں کو دہشت گرد سمجھتا تھااورانہیں مارنے کیلئے امریکی فوج میں شمولیت اختیار کرنا چاہتا تھا

ابراہیم کلنگٹن نامی نو مسلم امریکی نوجوان نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ …