Home » Information » جب عیسیٰ علیہ السلام واپس آئیں گے تو محمد ﷺآخری نبی کیسے ہوئے؟

جب عیسیٰ علیہ السلام واپس آئیں گے تو محمد ﷺآخری نبی کیسے ہوئے؟

السلام علیکم دوستوں اس عورت نے ایک عیسائی عورت کی طرف سے سوال کیا کہ محمدﷺاور حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں کیا فرق ہے؟ کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام  بھی لوگوں کو زندگی گزارنے کا طریقہ بتایا کرتے تھے اور وہ بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت کی تعلیم دیا کرتے تھے اور یہی تعلم محمدﷺ بھی دیا کرتے تھے۔ اور یہ عیسائی جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اعتبا کرتے ہیں کیا یہ درست ہے یا ان کو بھی حضرت محمدﷺ کی  اعتبا کرنا لازم ہوگا جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آئینگے تو حضرت محمدﷺ آخری نبیؐ کیسے ہونگے کیونکہ آخری نبی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوئے کیونکہ وہ دوبارہ آئینگے ۔

جواب میں ڈاکٹر ذاکر نائیک صاحب نے سوال دہراتے ہوئے فرمایا : کہ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا کہ پانچ انبیاءتمام نبیوں میں بڑے نبی ہیں ( حضرت ابراہیم علیہ السلام) (حضرت نوح علیہ السلام) ( حضرت موسیٰ علیہ السلام) ( عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد ﷺ ہیں اس حدیث کی وجہ سے ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایک بہت بڑا نبی مانتے ہیں آپکی آگلی بات کا جواب دینے سے پہلے میں ایک بات بتاتا چلو کہ کوئی بھی مسلمان اُس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبی نا مانے یعنی جب وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبی مانے گا تو وہ مسلمان ہےورنہ نہیں۔

ہمارا ایمان ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک بڑے نبی تھے ہمارا ایمان ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مسحیٰ تھے یعنی باپ کے بغیر پیدا ہوتے تھے اور بہت سارے عیسائی آج اس بات کو ماننے کیلئے تیار نہیں ہیں ہمارا ایمان ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے مردوں کو زندہ کیا اللہ کے حکم سے ہم اور عیسائی یہاں تک تو ساتھ ہیں تو فرق کہاں ہے جیسا کہ آپ نے کہاں ہے میں آپ کو فرق بتاتا ہوں کہاں ہے بعض عیسائی کہتے ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خدائی کا دعوا  کیا یعنی انہوں نے کہاں کہ میں خدا ہوں (نَعُوذُ با اللہِ  مِن ذَلِک)  یہ غلط بات ہے اگر آپ بائیبل پڑھینگے  تو آپ کو کہی بھی نہیں ملے گا  کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خدائی کا دَعوی  کیا ہوں یہ ان پر الزام ہے اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہی بھی فرمایا ہو کہ میں خدا ہوں

میری عبادت کرو میں عیسیٰ بننے  کیلئے تیا ر ہوں ۔ گوسٹل اُوف جان  کو پڑھیں آیت نمبر 28 میں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرما یا کہ میرا باپ مجھ سے بڑا ہے ( چیپٹر نمبر 10 گوسٹل اُوف جان آیت نمبر 29 ) میں ہے کہ میرا باپ مجھ سے بڑا ہے ۔ (چیپٹر نمبر 12 گوسٹل اُوف میتیوں آیت نمبر 28  ) میں ہے کہ اللہ کی میں اُنگلی ہوں اور شیاطین کو دور بھگاتا ہوں ۔

(چیپٹر نمبر 11 گوسٹل اُوف ویوں آیت نمبر20  ) میں ہے کہ اللہ کے حکم سے شیاطین کو دور بھگاتا ہوں اور اسی طرح گوسٹل اُوف جان میں لکھا ہے کہ میں اپنی طرف سے کچھ بھی نہیں کہتا  بلکہ جو سنتا ہوں اُس کا فیصلہ کرتا ہوں اور میرا فیصلہ انصاف کا فیصلہ ہے ۔ اور میری طاقت میرے باپ کی طاقت ہے ان ساری عبارات میں بائیبل والوں نے یہ تحریر کی ہے  کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کو اپنا باپ کہاہے۔ حالانکہ  قرآن کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی باپ نہیں دوسرا ان عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہی بھی نہیں فرمایا کہ میں خدا ہوں

میری عبادت کرو اور جو شخص یہ کہے کہ یہ سب کچھ میرے ارادے سے نہیں ہورہا بلکہ اللہ کے ارادے سے ہورہا ہے تو وہ مسلمان ہے لہذا حضرت عیسی ٰ علیہ السلام مسلمان تھے اُنہوں نے کبھی بھی خدا ہونے کا دعوی نہیں کیا وہ ایک بڑے نبی تھے۔ آپکا آخری سوال تھا کہ وہ دوبارہ آئینگے لہذا آخری نبی تو وہی ہونے چاہئے  یہ قرآن پاک سورہ مائدہ آیت نمبر 116 میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی آپ نے اس بات کی گوائی دی کہ میں نے ان کو کبھی بھی یہ نہیں کہا کہ میری عبادت کرو لیکن میں نے ان کو یہ کہاکہ اُس رب کی عبادت کرو  جو میرا اور تمہارا رب ہے۔ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ کیوں آئینگے وہ صرف اللہ کے نبی بن کر آئینگے نہ کہ خدا

اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اُمتی بن کر آئینگے کیونکہ وہ حضرت محمد ﷺ کی شریعت کو فالو کرینگے نہ کہ اپنی شریعت کی تلبیغ کرینگے اور عیسائیوں کو یہی خطا ہے اگر حضرت محمد ﷺ کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئینگے تو وہی آخری نبی ہونے چاہیے حالانکہ آخری نبی ہم اُس وقت مانتے جب کہ اُنہوں نے اپنی شریعت کی تبلیغ کرنی ہوتی ۔ حلانکہ وہ تو حضرت محمد ﷺ کہ فالور بن کر آئینگے اور ایک عرصے تک حضرت محمد ﷺ کی شریعت کے مطابق فیصلہ کرینگے لہذا وہ کوئی نئی شریعت لے کر نہیں آئینگے بلکہ شریعت تو مکمل  ہے ۔ قرآن پاک میں لکھی ہوئی ہوہے کہ سورہ مائدہ میں آیت نمبر 2 میں  (الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ) کہ آج میں نے تمہاری شریعت کو مکمل طور پر پورا کردیااور میں نے اپنی شریعت کو تم پر مکمل کردیا اور میں صرف اسلام سے راضی ہوں لہذا وہ آئنگے محمد ﷺ کے اُمتی بن کر آئنگے اب ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اُس اُمت میں  بطور اُمتی بن کر آنے کے بارے میں کچھ صحیح احدیث بیان کرتے ہیں ۔

ابو داؤد کی حدیث نمبر 4321 میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ کی اولاد کو پیدا فرمایا اُس وقت سے دجال سے بڑا فتنہ کوئی نہیں اور اللہ نے کوئی نبی ایسا مبعوث نہیں فرمایا جس نے اپنی اُمت کو فتنہ دجال سے نہ ڈرایا ہوں ۔ میں چونکہ آخری نبی ہوں اور تم آخری اُمت ہواس لیے وہ لامحالا تمہارے درمیان نکلے گا مکہ اور مدینہ کو چھوڑ کر کوئی زمین کا ٹکڑا ایسا نہیں ہوگا جہاں دجال نہ چلا جائے  اور جس پر اُس کا ظہور نہ ہوں لہذا جس دروازے سے بھی وہ داخل ہونا چاہیے گا فرشتے ننگی تلوارے لے کر اُس کے سامنے آجائنگے  اور وہ آگے بڑھنے کی جراعت نہ کرسکے گا چنانچہ وہ کھاری زمین کے کنارے سرخ ٹیلے کے پاس پڑاو ڈال دے گا اُس وقت مدینہ طیبہ میں تین مرتبہ زلزلہ آئے گا  جس وجہ سے یہ منافق مرد اور عورت مدینہ اور مکہ چھوڑ کر دجال سے جا ملے گا ان زلزلوں کے ذریعے مدینہ اپنے سے منافقوں کی گندگیوں کو ایسا دور کردے گا جیسے بھٹی لوہے کے زنگ کو دور کردیتی ہے ۔اس لیے اس دن کو یوم الخلاص یعنی چھٹکارے کا دن کہا جائیگا یہ بات سُن کر اُم شریک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ عرب اس زمانے میں کہا ہونگے تو آپ ﷺ نے فرمایا عرب اُس زمانے میں تھوڑے ہونگے اور ان میں سے اکثر بیت المقدس میں ایک نیک صالح امام پیشوا کے تحت ہونگے ۔ ایک دن ایسا ہوگا کہ یہ امام صبح کی نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھا  ہی ہوگا کہ ان میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام ظاہر ہوجائنگے چنانچہ امام پیچھے ہٹے گا تاکہ حضرت عیسیٰؑ کو آگے بڑھنے کے لیے جگہ دے دیں مگر حضرت عیسیٰ ؑ  اُس کے کندے پر ہاتھ رکھ کر فرمائینگے آگے بڑھو اور نماز پڑھاؤں کیونکہ نماز کی حکامت تمہارے لیے ہی ہوئی ہے ۔ لہذا اُس وقت مسلمانوں کو اُنہی کا امام ہی پڑھائیگا جب امام نماز پڑھا کر فارغ ہوگا تو حضرت عیسیٰ ؑ  قلعہ والوں سے فرمائینگے کہ دروازہ کھولودروازے کے پیچھے دجال ہوگا جب دجال حضرت عیسیٰ ؑ  کو دیکھے گا تو اس طرح گلنے لگے گا جس طرح نمک پانی میں گلتا ہے ۔

پھر وہ بھاگے گا  دجال کو حضرت  عیسیٰ ؑ  فرمائنگے کہ میری ایک ضرب تمہارے مقدر میں لکھی ہے جس سے تو بچ نہیں سکے گا چنانچہ وہ اُسے لُد کے مقام پر پکڑینگے اور قتل کر ڈالینگے۔ اور آپ ﷺ نے مزید فرمایا: حضرت عیسیٰ ؑ  میری اُمت میں ایک عادل حاکم اور منصف امام بن کر شامل ہونگے ثلیب کو توڑ دینگے خنزیر کو ختم کرڈالینگے اور بطور احسان غیر مسلموں سے ٹیکس معاف کردینگے ۔ نیز ذکات کی وصولی بھی بند کردینگے نہ بکری کی ذکات وصول کی جائیگی اور نہ اُنٹ کی۔ کیونکہ سب مالدار ہوجائنگے لوگوں کے دلوں میں بغض اور عداوت ختم ہوجائیگی ہر زہریلے جانور کا زہر نکال دیا جائیگا حتیٰ کہ چھوٹا بچہ اپنا ہاتھ سانپ کے منہ میں دے دیگا تو سانپ اُسے کوئی ڈنگ نہیں مارےگا۔ چھوٹی بچی شیر کو بھگا ئیگی تو وہ اُسے کوئی نقصان نہ پہنچائیگا ۔ بکریوں کے ریوڑ میں بھیڑیاں  اس طرح رہے گا جیسے ریوڑ کا کتا ۔زمین امن سے ایسے بھر جائیگی جیسے برتن پانی سے بھر دیا جاتا ہے۔ سب لوگوں کا کلمہ ایک ہوجائیگا پس اللہ کے سواکسی کی عبادت نہیں کی جائیگی اور ابوآلہ نے اس حدیث مبارکہ 6584 میں فرمایا ہے کہ قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں عبدالقاسم کی جان ہے ۔

کہ حضرت عیسیٰؑ  ضرور ایک عادل امام اور منصف حکمران کے طور پر نازل ہونگے۔ وہ ضرور بھی ضرور   صلیب کو توڑ ڈالینگے اور خنزیر کو قتل کرڈالینگے اور آپس کی دُشمنیاں  ختم کرڈالینگے اور حسد اور بغض کو ختم کرائینگے ۔ یقینناََ ان پر مال پیش کیا جائیگا مگر وہ اُسے قبول نہیں کرینگے اس حدیث کے آخر میں آپﷺ نے یہ بھی فرمایا : پھر وہ اگر میری قبر کے پاس کھڑے ہوکر مجھے پکارینگے تو میں ضرور اُنکی پکار کا جواب دونگا ۔ امام احمد بن حنبل نے حدیث نمبر 9630 مین نقل کیا ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اس حدیث میں فرمایا  یقنناََ عیسیٰ ابن مریم میری اُمت میں نازل ہونگے تم جب ان کو دیکھوں تو ان علامات سے پہچان لینا وہ درمیانے قد کے ہونگے اور انکا رنگ سرخی سفید مائل ہوگا

سیدھے لٹکے ہوئے بالوں والے ہونگے جب وہ اُترینگے تو اُن کے بالوں کی نرمی اور ملائمت  سے ایسا لگے گا کہ گویا انکے سر اقدس سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہیں اگر چہ اُن تک کوئی  تری پہنچی ہی نہ ہوگی۔ وہ ہلکے زرد رنگ کی دو چادروں میں ملبوث ہونگے وہ صلیب کو توڑ ڈالینگے اور خنزیر کو ختم کر ڈالینگے ٹیکس کو معاف کردینگے اور جب تک اللہ تعالیٰ چاہینگے حضرت عیسیٰ ؑ  اہلے زمین کے درمیان زندہ رہنگے  پھر اللہ تعالیٰ اُن کو وفات دے دینگے اور مسلمان انکا نماز جنازہ پڑھینگے  اور تدفین کرینگے ۔ دوستوں ڈاکٹر ذاکر نائیک صاحب کا جواب آپکو کیسا لگا ؟

کمنٹ کرکے ضرور بتائیں شکریہ!

Check Also

ذہین افراد کیسے ہوتے ہیں اور ان میں کیا عادات پائی جاتی ہیں ؟ماہر نفسیات نے بتا دیا

ذہین ہونے کی خواہش ہر انسان کی ہوتی ہے اور ذہین افراد کو ہر کوئی …