Home » Information » جوعورت شوہر سے

جوعورت شوہر سے

جو عورت شوہر سے ہم بستری میں خوش نا ہو وہ کیا کرے؟ علماء اس بارے میں کیا کہتے ہیں یہ ایک ایسا مسلہ ہے کہ جو بہت سے لوگوں کے ساتھ پیش آتا ہے مگر وہ شرم کی مارے کسی سے بات نہیں کرتے زیادہ تر عورتیں اس چیز کا شکار ہوتی ہیں جس وجہ سے میاں بیوی کے تعلقات میں حلل پیدہ ہوتے ہیں آج کا جیسا دور چل رہا ہے۔

اس دورمیں زیادہ مسلہ پیدا ہورہا ہے کچھ شوہروں کے کام دیر سے ختم ہوتے ہیں جس وجہ سے وہ بیوی کو ٹھیک طرح سے وقت نہیں دے پاتے اور کمزوری کی علامات ہوتتی ہیں علماء اس بارے میں کیا کہتے؟ جو عورت شوہر سے ہم بستری میں خوش نا ہو وہ کیا کرے؟ علماء اس بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ ممکن ہے کہ یہ ان کا اپنے اجسام اور اعضا جنسیہ کی حقیقت سے نا واقفیت کی وجہ سے ہو اور اس لیے کہ کتنے ہی مرد اور خاص طور پر عورتیں جنسی تعلقات کی حقیقی لذت اور لطف سے نا واقف ہوتے ہیں بلکہ یہ لذت حاصل کرنا ان کی نسبت ایک شرعی واجب کی ادائیگی ہے۔

اور دونوں کا ایک دوسرے پر ایسا حق ہے جو اس کو نہ جاننے اس عمل سے عدم واقفیت کی وجہ سے ضائغ ہوجاتا ہے۔ شیئر کریں جو عورت شوہر سے ہمبستری میں ناخوش ہو اس معاشرے میں کچھ لوگ ایسے بھی پیدا ہوئے ہیں جن کی عظیم داستانوں کے عوض رہتی دنیا تک ان کا نام زندہ رہے گا اور ان کی داستانیں بھی سنہرے حروف سے لکھی جاتی رہیں گی۔ ان عظیم داستانوں میں ایک داستان بابائے براہوی نور محمد پروانہ کی بھی ہے۔ نور محمد پروانہ براہوی 15 فروری 1918 کو اوستہ محمد کے قریبی گاؤں صوبھاواہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد گرامی نے عالم دین ہونے کی وجہ سے انہیں سب سے پہلے دینی تعلیم دلوائی اور قرآن پاک حفظ کروایا۔

بعد ازاں مزید تعلیم کےلیے اوستہ محمد کے آچر پرائمری اسکول میں داخلہ لیا جہاں سے چہارم جماعت پاس کرکے بارنس ہائی اسکول سبی میں داخل ہوگئے۔ پرائمری کے امتحان میں پورے سبی میں دوسری اور نصیرآباد ڈویژن میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔غربت آڑے آنے کی وجہ سے وہ تعلیم کا سلسلہ جاری نہیں رکھ پائے۔ اسی دوران برٹش بلوچستان میں میر عبدالعزیز کرد، عبدالصمد خان اچکزئی اور میر یوسف علی مگسی نے انجمن وطن کی بنیاد رکھی تو نور محمد پروانہ اوستہ محمد برانچ کے صدر منتخب ہوگئے۔

Check Also

ذہین افراد کیسے ہوتے ہیں اور ان میں کیا عادات پائی جاتی ہیں ؟ماہر نفسیات نے بتا دیا

ذہین ہونے کی خواہش ہر انسان کی ہوتی ہے اور ذہین افراد کو ہر کوئی …