Home » New Update » دنیا کے مختلف ممالک میں پولیو سمیت دیگر ویکسینز کے بارے میں کیا کیا شکوک وشبہات پائے جاتے ہیں

دنیا کے مختلف ممالک میں پولیو سمیت دیگر ویکسینز کے بارے میں کیا کیا شکوک وشبہات پائے جاتے ہیں

لاہور (ویب ڈیسک) ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ویکسینز پر عوام کے عدم اعتماد کا مطلب ہے کہ دنیا خطرناک اور جان لیوا امراض سے لڑائی میں پیچھے کی جانب جا رہی ہے۔ویکسین کے ذریعے مدافعت کے تیئں لوگوں کے رویے کے بارے میں اب تک کے سب سے بڑے عالمی مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ نامور خاتون صحافی مشیل رابرٹس بی بی سی کے لیے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھتی ہیں۔

دنیا کے بعض خطوں میں اس پر اعتماد میں کمی آئی ہے۔دی ویلکم ٹرسٹ نامی اس تجزیے میں 140 ممالک کے ایک لاکھ چالیس ہزار لوگوں کے ردعمل شامل کیے گئے۔یہ مطالعہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے ویکسین سے متعلق ہچکچاہٹ کو عالمی صحت کو درپیش دس بڑے خطرات میں سے ایک قرار دیے جانے بعد کیا گیا۔اس عالمی سروے کے مطابق بڑی تعداد میں لوگوں نے کہا کہ انھیں ویکسین پر بہت کم اعتماد ہے۔اس بارے میں نہایت واضح سائنسی شواہد موجود ہیں کہ جان لیوا اور معذور کردینے والے انفیکشنز کے خلاف ویکیسن ہمارا بہترین دفاع ہیں۔ جن میں خسرہ بھی شامل ہے۔ویکسین دنیا بھر میں اربوں لوگوں کا تحفظ کرتی ہے۔ ان کے استعمال کے باعث بیماریاں مکمل ختم ہو چکی ہیں جن میں چیچک شامل ہے جبکہ وہ کئی کو ختم کرنے کے دہانے پر ہیں جیسا کہ پولیو۔لیکن کچھ بیماریوں سے لڑنا مشکل بھی ہے جیسے کہ خسرہ جو لوگوں کی جانب سے ویکسین سے جی چرانے کے باعث پھر سے زندہ ہو جاتی ہے۔

اور لوگوں کے اس رویے کی ایک وجہ خوف، غلط معلومات ہیں۔ڈبیلیو ایچ او میں ویکسین سے مدافعت کی ماہر ڈاکٹر این لنڈسٹرینڈ کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے۔’ویکسین کے تیئں ہچکچاہٹ کچھ علاقوں میں اس بہتری کی راہ میں رکاوٹ ہے جو دنیا نے قابلِ علاج بیماریوں کو قابو کرنے میں حاصل کر لی ہے۔‘’ان بیماریوں کے خلاف جو بھی مزاحمت ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ پیچھے کو اٹھتا ہوا ناقابلِ قبول قدم ہے۔‘ایسے ممالک جہاں خسرہ ختم ہو رہا تھا وہاں یہ پھر سہ پھوٹ پڑا ہے۔اعداد وش مار سے پتا چلا ہے ک دنیا کے قریباً ہر خطے میں ایسے کیسز میں اضافہ ہوا ہے اور سنہ 2016 کے مقابلے مںی سنہ 2017 مںی ایسے کیسز میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ویکسین نہ لینے کی وجہ کوئی بھی ہو اس سے نہ صرف افراد کے خود اس سے متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے بلکہ وہ دوسروں کے لیے بھی خطرہ بن جاتے ہیں۔اگر مناسب تعداد میں لوگوں کو ویکسین دے دی جائے تو بیماری آبادی میں پھیلنے سے روکی جا سکتی ہے جسے ماہرین ’اجتماعی مدافعت‘ کہتے ہیں۔ویلکم ٹرسٹ کے عمران خان کا کہنا تھا ’ہم فی الوقت کافی پریشان ہیں کیونکہ اگر محض پانچ فیصد لوگ بھی ویکسین کے بغیر رہ گئے تو خسرہ کی وبا پھر سہ پھوٹ سکتی ہے۔‘

تحقیق سے نظر آیا ہے کہ کچھ لوگ جو زیادہ کمائی والے علاقوں میں رہتے ہیں وہ ویکسین کی سیفٹی کے حوالے سے کم یقین رکھتے ہیں۔فرانس بہت سے یورپی ممالک میں سے ایک ہے جہاں اب خسرے کی وبا دوبارہ پھوٹ رہی ہے۔ وہاں تین میں سے ایک شخص ویکسین کے محفوظ ہونے کے حوالے سے اختلاف رکھتا ہے۔یہ دنیا میں کسی بھی ملک میں سب سے بڑی تعداد ہے جہاں لوگ ویکسین کے پر اثر ہونے کے بارے میں اختلافی رائے رکھتے ہیں۔19 فیصد لوگ وہ ہیں جو اس کے اثرات پر اختلاف رکھتے ہیں اور 10 فیصد وہ ہیں جو اس بات سے متفق نہیں کہ یہ بچوں کے لیے اہم ہے۔فرانسیسی حکومت نے اب بچوں کے لیے آٹھ اور ویکسین لازم قرار دی ہیں جبکہ پہلے ہی ملک میں بچوں کو تین قسم کی ویکسین لگائی جا رہی تھی۔اسی کا ہمسایہ ملک اٹلی ہے جہاں 76 فیصد لوگ اس بات سے متفق ہیں کہ ویکسین محفوظ ہے۔حال ہی میں وہاں قانون پاس ہوا ہے جہاں ایسے بچے جنھیں ویکسین نہیں لگائی گئی ان کا سکول میں داخلہ بند کر دیا گیا ہے یا پھر ان کے والدین کو جرمانہ ادا کرنے کو کہا جاتا ہے۔

ابھی برطانیہ کو اس میں بہت آگے جانے کی ضرورت ہے لیکن سیکرٹیری صحت ماٹ ہینکوک کا کہنا ہے کہ یہ خیال خارج ازمکان نہیں کہ ضرورت پڑنے پر ویکسین کو ضروری قرار دیا جائے۔امریکہ نے بھی خسرے کی وبا کا سامنا کیا ہے۔ یہ کئی دہائیوں میں سب سے بڑی وبا ہے۔ رواں برس کے دوران اب تک 26 ریاستوں میں 980 کنفرم کیسز سامنے آئے ہیں۔شمالی امریکہ اور جنوبی اور شمالی یورپ میں 70 فیصد لوگ اس بات سے متفق ہیں کہ ویکسین محفوظ ہے۔اعداد و شمار کے مطابق مغربی یورپ میں یہ تناسب 59 فیصد اور مشرقی یورپ میں 50 فیصد ہے۔یوکرائن یورپ کا وہ ملک ہے جہاں گذشتہ برس سب سے زیادہ خسرے کے کیسرز رپورٹ ہوئے اور ان کی تعداد 53 ہزار 218 بتائی گئی۔وہاں صرف 50 فیصد لوگ ویکسین کے پر اثر ہونے سے متفق ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق 54 فیصد بیلاروس میں، 49 فیصد مولڈووا میں اور 62 فیصد روس میں ویکسین کے عمل سے متفق ہیں۔معاشی لحاظ سے کم کمانے والے علاقوں میں ویکسین کو محفوظ تصور کیا جاتا ہے۔ان میں سب سے اوپر جنوبی ایشیائی ممالک ہیں جہاں 95 فیصد لوگ اس سے متفق ہیں

جس کے بعد مغربی افریقہ کا نمبر ہے جہاں تناسب 92 فیصد ہے۔بنگلہ دیش اور روانڈہ دنیا میں کمانے کے لحاظ سے کمزور ملکوں میں وہ پہلے ہیں جہاں نوجوان خواتین کو ایچ پی وی ویکسینتک رسائی دی جاتی ہے جو انھیں جراثیم سے پھیلنے والے کینسر سے بچاتی ہے۔مسٹر خان کا کہنا ہے کہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ کیسے مضبوط کوشش سے ویکسین کے استعمال کو بڑھایا جا سکتا ہے۔’سروے کے مطابق جو لوگ سائنس دانوں، ڈاکٹروں اور نرسوں پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں وہ ویکسین کے محفوظ ہونے سے زیادہ متفق ہوتے ہیں۔اس کے برعکس حال ہی میں یہ سامنے آیا ہے کہ بہت سے عوامل شامل ہو سکتے ہیں۔ بظاہر جو لوگ سائنس ، ادویات اور صحت کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں وہ اس سے کم متفق ہوتے ہیں۔رپورٹ میں اس بداعتمادی کے حوالے سے تمام وجوہات نہیں تبائی گئیں لیکن تحقیق کے مطابق اس میں اس میں ایک وجہ اطمینان بھی ہو سکتی ہے۔اس کا مطلب یہ کہ اگر کوئی مرض کم پایا جاتا ہے تو پھر اس سے محفوظ رہنے کی ضرورت بھی کم محسوس ہوتی ہے یعنی اس سے ممکنہ خطرہ کم محسوس ہوتا ہے۔

تمام ادویات بشمول ویکسین کے سائیڈ افیکٹ ہو سکتے ہیں مگر ویکسین کو پوری طرح ٹیسٹ کیا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کے لیے محفوظ اور پر اثر ہیں۔جاپان میں ایچ پی وی ویکسین کے بارے میں تحفظات پائے جاتے ہیں وہاں اعصابی مسائل سے متعلق لنکس بھی شیئر کیے گئے۔ ماہرین کےخیال سے اس سے لوگوں کے ویکسین سے متعلق عمومی اعتماد پر ضرب پڑی۔اسی طرح فرانس میں پینڈیمک انفلوئزا ویکسین کے بارے میں تنازع ہے۔الزامات ہیں کہ حکومت نے زیادہ مقدار میں ویکسین کو خردید لیا ہے اور اب پریشانی ہے کہ یہ بہت جلد بازی میں بنائی گئی اور یہ محفوظ نہیں ہوسکتی۔ جبکہ برطانیہ میں ایم ایم آر جیب اور آٹزم کے حوالے سے غلط خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔(ش س م)

(بشکریہ : بی بی سی)

Check Also

کراچی: نامور خطیب علامہ ضمیر اختر نقوی دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔

قریبی رفقا کا بتانا ہے کہ علامہ ضمیر اختر نقوی کو رات گئے نجی اسپتال …