Home » Articles » رسول اللہ ﷺ کا جوتا

رسول اللہ ﷺ کا جوتا

خلیفہ مہدی دربار عام میں تھے کہ ایک شخص آیا اور اس کے ہاتھ میں ایک جوتا تھا جو ایک رومال میں لپٹا ہوا تھا۔ اس نے عرض کیا کہ اے امیرالمومنین یہ رسول اللہﷺ کا جوتا ہے جو میں آپ کی خدمت میں بطور ہدیہ لایا ہوں۔ فرمایا لاؤ۔ اس نے پیش کر دیا تو اس کے اندر کے حصہ کو بوسہ دیا اور اپنی آنکھوں سے لگایا اور حکم دیا کہ اس شخص کو دس ہزار درہم دیئے جائیں

جب وہ درہم لے کر چلا گیا تو ہم نشینوں سے کہا!کیا تمہارا خیال ہے کہ میں یہ سمجھا نہیں ہوں کہ رسول اللہﷺ نے اس کو دیکھا بھی نہیں۔چہ جائیکہ آپ نے اس کو پہنا ہو (ہمارے اس طرز عمل میں یہ مصلحت تھی کہ) اگر ہم اس کی تکذیب کرتے تو وہ لوگوں سے یہ کہتا پھرتا کہ میں نے امیرالمومنین کے سامنے رسول اللہﷺ کا جوتا پیش کیا اور امیرالمومنین نے اس کو مجھ پر پھینک دیا اور اس کی اطلاع کو رد کرنے والوں کی بہ نسبت تصدیق کرنے والے بہت لوگ ہوتے۔ کیونکہ عاملوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ صرف ظاہری سطح کو دیکھتے ہیں اور ہر کمزور کی حمایت پر کمربستہ ہو جاتے ہیں۔ طاقتور کے مقابلہ پر چاہے وہ کمزور ظالم ہی کیوں نہ ہو (اور طاقتور حق و انصاف پر ہو) تو ہم نے (دس ہزار درہم میں حقیقت کی) اس کی زبان خریدی ہے اور (بظاہر) اس کا ہدیہ قبول کیا اس کے قول کی تصدیق کر دی۔ جو کچھ ہم نے کیا یہی ہماری رائے میں مناسب معلوم ہوا۔

Check Also

مولوی اوردیہاتی

ﺟﻤﻌﮧ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺍﯾﮏ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﻧﮯ ﺧﻄﺒﮧ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎ ﮈﺍﻻ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺍﯾﮏﺍﯾﮏ ﺑﺎﻝ …