Home » News » کچھ دہائیاں پہلے تک اگر دولہا کو ذرا سا بھی شک پڑ جاتا کہ اسکی دلہن کنواری نہیں تو ۔۔۔۔۔۔ بلوچوں کے حیران کن رسوم و رواج پر روشنی ڈالتی ایک خصوصی تحریر

کچھ دہائیاں پہلے تک اگر دولہا کو ذرا سا بھی شک پڑ جاتا کہ اسکی دلہن کنواری نہیں تو ۔۔۔۔۔۔ بلوچوں کے حیران کن رسوم و رواج پر روشنی ڈالتی ایک خصوصی تحریر

نامور پاکستانی مضمون نگار اور سابق بیورو کریٹ شوکت علی شاہ اپنے ایک خصوصی مضمون میں بلوچستان میں رائج عجیب و غریب رسومات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ رسم نکاح خوانی: اب اصل کام شروع ہوتا ہے۔ نکاح سے قبل چونکہ دلہن کی رضا مندی ضروری ہوتی ہے‘ اس لئے دولہا کی طرف سے دو

حاضر جواب‘ زبان دراز قاصد (ربالو) مقرر کئے جاتے ہیں جن کا فرض یہ ہوتا ہے کہ دلہن کے گھر جا کر اطلاع دیں کہ اب نکاح خوانی شروع ہونے والی ہے‘ اس لئے دلہن کو بھی وہاں لایا جائے۔ جب ربالو وہاں پہنچتے ہیں تو ان کی مڈبھیڑ دو بوڑھی عورتوں سے ہوتی ہے۔ اس موقع پر نہایت عمدہ اور اچھوتی قسم کی نوک جھونک ہوتی ہے۔ اسے من و عن بیان کرنا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔ سوال و جواب کا سلسلہ کچھ اس

طرح شروع ہوتا ہے:ایک نک چڑی حرافہ بڑی رعونت سے پوچھتی ہے: ’’تم لوگ کون ہو؟ کیا ڈھونڈتے ہو؟ وہ کونسی چیز ہے جس نے تمہاری یہ بری حالت بنا دی ہے؟ کیوں دردر کی ٹھوکریں کھا رہے ہو‘‘… قاصدوں میں سے جو زیادہ خرانٹ اور چرب زبان ہوتا ہے‘ جواباً کہتاہے:’’ہم بادشاہ سلامت کے قاصدان خاص ہیں اور انہی کے حکم کے تحت انکے وزیر باتدبیر نے ہمیں بھیجا ہے اور تمہیں حکم دیا گیا ہے کہ تمہارے ہاں انکی رانی لعل ہے‘ وہ آپ ہمارے حوالے کر دیں تا کہ بادشاہ سلامت تک پہنچائی جا سکے۔‘‘اس نادر شاہی فرمان کا

عورتوں پر کوئی خاص اثر نہیں ہوتا اور وہ ہنس کر کہتی ہیں…’’ ہم کسی بادشاہ کو نہیں جانتیں اور نہ ہی ہم نے اس کو دیکھا ہے: البتہ ہمارے بچوں نے جو شام کو کھیل کر گھر واپس آئے ہمیں اطلاع دی ہے کہ چند مفلوک الحال گدا گر چیتھڑوں میں ملبوس گائوں کے باہر ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ ان میں سے کچھ لولے ہیں اور جنگلی درختوں کے کڑوے پتوں کو چبارہے ہیں… بھلا بادشاہ ایسے ہوتے ہیں؟ تم لوگوں کی بھلائی اسی میں

ہے کہ دم دبا کر بھاگ جائو نہیں تو ہماری بستی کے جوان تم لوگوں کا مار مار کر حلیہ بگاڑدیں گے اور تمہیں ایسی عبرت ناک سزا دی جائے گی کہ عمر بھر یاد رکھو گے۔‘‘اس ہر زہ سرائی پر ربالو سیخ پا ہو جاتے ہیں اور واپس جاتے جاتے یہ دھمکی بھی انہیں دے جاتے ہیں: ’’تمہاری یہ لن ترانیاں ہمارے لئے ناقابل برداشت ہیں تمہاری زبان درازی کی شکایت بادشاہ سلامت کے حضور میں کی جائے گی۔ اب تم عتاب شاہی کے لئے تیار ہو جائو۔‘‘لیکن دلہن والے بھی باب نبرد ہوتے ہیں‘ اس لئے اس دھمکی سے مرنا تو درکنار ڈرتے بھی نہیں ہیں۔ چنانچہ واپسی پر گائوں کے بچے ان کو کنکر مارتے ہیں اور ان کا تمسخر اڑاتے ہیں… واپسی پر ربالو

اپنی تضحیک اور تذلیل کو کڑوی دوا کی طرح نگل جاتے ہیں اور کوٹھو میں جا کر شیخی بگار تے ہیں: ’’خدائے بزرگ و برتر ہمارے بادشاہ سلامت کے جلال کو کبھی زوال نہ آنے دے۔ یہ وحشی لوگ ڈینگیں مارنے کے عادی ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ حضور کا لعل (دلہن) ان کے پاس ہے اور یہ ایک دن ضرور عظمت شاہی کے معترف ہو کر لعل آپ کی نذر کریں گے۔‘‘چائے پانی پی کر یہ دوبارہ جاتے ہیں۔ یہ رسم تین مرتبہ ادا کی جاتی ہے۔ بالآخر خاص بحث و تکرار کے بعد دلہن والے یہ پیغام دے کر قاصدوں کو واپس بھیج دیتے ہیں…‘‘

ہم شریف النفس اور دیانتدار لوگ ہیں‘ اس لئے کسی کی حق تلفی کو اپنے اوپر حرام سمجھتے ہیں‘ لہٰذا تم لوٹ جائو اور دوبارہ مت آئو‘ تمہارے لولے لنگڑے کا لعل تو کیا اگر منشقال بھی ہمارے پاس ہو گا تو ہم بخوشی خود بخود واپس کر دیں گے۔‘‘اس مژدہ جانفزا کے بعد ربالو واپس لوٹ جاتے ہیں اور تھوڑی دیر بعد دلہن بھی اپنی سہیلیوں کے جھرمٹ میں کوٹھو کے ایک الگ حصے میں جلوہ افروز ہوتی ہے۔ یہ فاصلہ عموماً ڈیڑھ سو گز کا ہوتا ہے۔ اب نکاح کی رسومات ادا کی جاتی ہیں۔ نکاح کے فوراً بعد دلہن والوں کی طرف سے ایک بڑے

برتن میں دودھ پیش کیا جاتا ہے۔ پہلے دولہا برتن میں سے چند گھونٹ لیتا ہے‘ اسکے بعد دلہن گھونگھٹ سے منہ نکال کر اپنے شیریں لب بھگوتی ہے… باقی دودھ رقیبانِ خاص و عام کے حصے میں آتا ہے جو پیتے ہیں اور بدمزہ نہیں ہوتے۔ رات ڈھلے یہ رسومات اپنے اختتام کو پہنچی ہیں‘ تب کہیں جا کر مشتاقان دید کی عید ہوتی ہے۔ سہاگ رات جہاں اپنے جلو میں خوشیوں کی برات لاتی ہے وہاں بعض اوقات حسرتوں کی سوغات بھی لے آتی ہے۔ اگر دولہا کے ذہن میں ذرا سا بھی شک پڑ جائے کہ دلہن باکرہ (کنواری) نہیں ہے تو پھر جس مہندی سے وہ ہاتھ رنگتا ہے وہ شگنوں کی مہندی نہیں ہوتی‘ بلکہ موج خون ہوتی ہے بہر حال اگر امور سلطنت ٹھیک طرح سر انجام پا جائیں تو صبح کو بڑی بوڑھیاں اور دلہن کی سہیلیاں نوبیاہتا جوڑے کو مبارکباد دینے آتی ہیں

اور گندم‘ جوار اور چاول کے دانے ان پر نثار کرتی ہیں… مدعا یہ ہوتا ہے کہ خدا ان کو صاحب اولاد کرے۔طریق علاج:بلوچوں میں علاج کے طریقے بھی نرالے ہیں‘ کیونکہ ہر طرف ہسپتال ناپید‘ ڈاکٹر مفقود‘ دوائیں عنقا… جس ڈاکٹر کے دل میں انگلستان بستا ہو‘ وہ ظاہر ہے بلوچستان کے نام ہی سے بد کے گا۔ جو نرس مریض کی یارک تک نہیں پہنچ پاتی وہ بھلا پدراک (ضلع مکران کا ایک گائوں) کیسے جائے گی؟ جن ہسپتالوں کا لاہور اور کراچی میں بھی کال ہے‘ ان کا وجود پسنی اور گوادر میں محال ہے اس لئے ہر چہ باوا باد کوئی جڑی بوٹیوں پر انحصار کر رہا ہے تو کوئی پیروں فقیروں کے اعتبار میں مر رہا ہےبدقسمتی سے جہاں جہالت

اور غربت ہمکنار ہوتی ہیں‘ وہاں تکالیف اور محرومیاں بھی بے شمار ہوتی ہیں۔ بیماری موت۔ کا پروانہ لے کر آتی ہے۔ جاں بلب مریض کچھ تو مرض سے نڈھال ہوتا ہے‘ کچھ نذر و نیاز دے کر کنگال ہو تا ہے۔ ادھر بیماری آن گھیرتی ہے تو ادھر ملا اسکے گھر ڈیرا ڈال دیتا ہے بکرے سے ذبح ہو رہے ہیں بھوت پریت کو رام کرنے کیلئے دیگیں دم ہو رہی ہیں۔علاج کیلئے کسی مراثی یا سازندے کو ساز بجانے پر مامور کرتا ہے۔ جب میراثی طنبورے پر کوئی دھن چھیڑتا ہے تو ملا پر وجدوحال کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ وہ عالم جذب میں ساز کے تال پر بے خودی میں رقص کرنے لگتا ہے اور ساتھ ساتھ مریض کو دم بھی کرتا جاتا ہے۔ اس طرح مریض کو دو تین راتیں دم کیا جاتا ہے۔

ا سکے علاوہ بلوچوں میں داغ کی رسم بھی عام تھی نزلے درد سر اور اعصابی تنائو کیلئے لو ہے کی سلاخ گرم کر کے مریض کے جسم کے کسی حصے کو داغ دیا جاتا تھا۔ لیکن اب قسم کے علاج سے بلوچ اجتناب کرتے ہیں بعض قبائل میں نمونیہ‘ یرقان اور بخار اتارنے کیلئے مریضوں کو جانوروں کی کھال پہنائی جاتی تھی۔ یرقان کیلئے بکری کی تازہ کھال موزوں خیال کی جاتی تھی۔ جبکہ نمونیے کیلئے بھیڑ کی کھال کو استعمال کیا جاتا تھا۔چھوٹے بچوں کے امراض کا علاج انہیں گائے کی اوجھڑی سے نکلنے والے مواد میں

پوری طرح لٹا کر کیا جاتا تھا۔ طفلک کو پورے بارہ گھنٹے اسکے اندر رکھا جاتا ہے۔ صرف آنکھیں ناک اور منہ کھلے رہتے ہیں۔براہوی قبائل میں خاصی حد تک جڑی بوٹیوں پر بھی انحصار کیا جاتا ہے۔ ان بوٹیوں کے مختلف نام ہیں ’کول مور‘ اور خسین جھر‘ قبض کشائی کیلئے استعمال کی جاتی ہیں۔ اسی طرح ’ماٹھے ٹو‘ بوٹی صنعف جگر کیلئے اکسیر تصور ہوتی ہے حسن بھوا‘ اور پسین پھلی ہر قسم کے بخار کیلئے مریض کو دی جاتی ہے۔بجاریا پھوڑی کی رسم :بجاریا پھوڑی کے پس پردہ جوبنیادی جذبہ کار فرما ہوتا ہے‘ وہ امداد باہمی کا ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جو بینک بیلنس کی کرامات سے ناآشنا ہو‘ جہاں ضروریات زندگی کی قلت ہو اور ذخیرہ اندوزی کی علت نہ ہو‘ جہاں انسانی اقدار ابھی تک پامال نہ ہوئی ہوں اور جہاں ضمیر آدمیت ہنوز زندہ

ہو‘ وہاں ایک دوسرے کی امداد کرنا فرض ہی نہیں ‘ قرض بھی سمجھا جاتا ہے… جشن مسرت ہو یا مرگ اندوہناک‘ قبیلے کے لوگ نہایت فراخدلی اور فیاضی کے ساتھ مالی امداد کی صورت میں اپنی عملی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں… اگر کوئی غریب بلوچ شادی کرنا چاہتا ہے اور مروجہ لب یا زرولو دلہن کے والدین کو ادا نہیں کر سکتا یا اسے کوئی اور آفت ناگہانی آن گھیرتی ہے تو وہ خود یا سکے عزیز و اقارب قبیلے کے لوگوں سے امداد طلب کرتے ہیں۔ اس کو بلوچی میں بجار یا پھوڑی کہا جاتا ہے۔ استطاعت رکھنے والے لوگ حسب حیثیت نقد یا جنس کی صورت میں اسکی امداد کرتے ہیں۔ چونکہ کوئی شخص بلا ضرورت بجار نہیں کرتا‘ اس

لئے نہ تو اس کو گدائے بے حیا سمجھا جاتا ہے اور نہ ہی وہ فقیر بے نو امتصور ہوتا ہے۔ اس طرح عزت نفس بھی محفوظ رہتی ہے اور معاشی تقاضوں سے بھی نجات ملتی ہے۔ پھوڑی اور بجار میں فرق یہ ہے کہ ’پھوڑی‘ حاصل کرنے کیلئے خود لوگوں کے پاس جانا پڑتا ہے‘ جبکہ قبیلے کے لوگ بجار خود بخود اپنے عزیز و اقارب یا سردار کو رضا کارانہ طور پر پیش کرتے ہیں۔ بجار شادی اور غمی دونوں مواقع پر پیش کی جاتی ہے… اس میں دنبہ‘ بکری یا نقد رقم دی جاتی ہے۔ (ش س م)

Check Also

وطنِ عزیز کےدفاع کیلئے پاک فوج کا حصہ بنیں!بھرتیوں کا اعلان

وطنِ عزیز کےدفاع کیلئے پاک فوج کا حصہ بنیں!بھرتیوں کا اعلان

سکھر(نیوز ڈیسک)آرمی سلیکشن اینڈ ریکروٹمنٹ سینٹر پنو ں عاقل کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے …