Home » New Update » نکاح کی اجازت لے کر گانے کی شوٹنگ،حکومت کا سخت ایکشن کا اعلان

نکاح کی اجازت لے کر گانے کی شوٹنگ،حکومت کا سخت ایکشن کا اعلان

وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے کہاہے کہ لاہور کے تاریخی مسجد وزیر خان میں گانے اور رقص کی عکسبندی نہ صرف انتہائی آفسوسناک بلکہ عبادت گاہ کی توہین کے مترادف ہے۔اسلامی شعائر کے تقدس کی پامالی اور معاشرتی اقدار کے خلاف ورزی کے اس کوشش کی مکمل تحقیق اور ذمہ داران کو سزا

دی جائیگی۔ ہفتہ کے روز وفاقی وزیر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق لاہور کے تاریخی مسجد وزیر خان میں گانے اور رقص کی ریکارڈنگ کی اجازت متعلقہ محکمے کی جانب سے نہیں دی گئی تھی اور یہ اسلامی شعائر اور تقدق کی سنگین خلاف ورزی ہے وفاقی وزیر نے کہاکہ اس حوالے پنجاب حکومت اور محکمہ اوقاف سے رابطے میں ہوں واضح رہے کہ 27جولائی کو اوقاف لاہور کے زونل ایڈمنسٹریٹر نے

تاریخی مسجد وزیر خان میں احمد وقاص نامی شخص کو ریکارڈنگ کی اجازت دیتے ہوئے تمام شرائط سے تحریری طور پر اگاہ کردیا تھا تاہم مذکورہ پروڈیوسر نے شرائط کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے مسجد وزیر خان میں گانے کی ریکارڈنگ کرائی جس کے خلاف پرنٹ الیکٹرانیک اور سوشل میڈیا پر بہت زیادہ تنقید کی گئی ہے۔واضح رہے کہ نکاح کی شوٹنگ کی اجازت دی گئی تھی لیکن گانے اور رقص کی شوٹنگ بھی کر ڈالی گئی۔ دوسری جانب صوبائی وزیر اوقاف ومذہبی امور سید سعیدالحسن شاہ نے مسجد وزیر خان میں فلم کی

شوٹنگ کے واقعہ کے حوالے سے سخت ایکشن لیتے ہوئے تین روز میں انکوائری رپورٹ طلب کر لی جبکہ واقعہ کے خلاف پنجاب اسمبلی میں مذمتی قرارداد اور تحریک التوائے کار بھی جمع کرا دی گئی۔ صوبائی وزیر مذہبی امور سید سعید الحسن شاہ نے کہا ہے کہ ایسے غیر ذمہ درانہ واقعات کو ہر گزبرداشت نہیں کیا جائے گا،مساجد اور مقدس مذہبی مقامات کا تقدس ہر قیمت برقرار رکھا جائے گا۔علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن) نے مسجد وزیر خان میں ”انار کلی“فلم کی شوٹنگ کے دوران مبینہ طور پر ساؤنڈ سسٹم لگا کر سرعام رقص و

سرور کی محفل منعقد کرنے کے خلاف تحریک التوا کار جمع کرا دی۔ رکن اسمبلی سنبل مالک حسین کی جانب سے جمع کرائی گئی تحریک کے متن میں کہا گیا ہے کہ اندرون شہر کی تاریخی مسجد وزیر خان میں 28جولائی کو ”انارکلی فلم“کی شوٹنگ کی گئی۔مبینہ طور پر ساؤنڈ سسٹم لگا کر مسجد میں سرعام رقص و سرور کی محفل منعقد کی گئی۔ ویڈیو میں واضح طور پر مذکورہ واقعہ دیکھا جا سکتا ہے جس میں مسجد کے تقدس کی دھجیاں بکھیری گئیں ہیں۔جس جگہ امام مسجد امامت کرواتا ہے اور موزن اذان دیتا ہے وہاں پر

میوزک اور ڈانس کی محفلیں کرانے سے نہ صرف مسجد کا تقدس پامال ہوا بلکہ دنیا میں رہنے والے مسلمانوں کی دل آزاری کی گئی۔مطالبہ ہے کہ اس گھناؤنے اور شیطانی عمل میں شامل لوگوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ مسلم لیگ(ن) کی رکن سمیر املک کی جانب سے اس مناسبت سے قرارداد بھی پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائی گئی ہے۔ جس کے متن میں کہا گیا ہے کہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ مسجد وزیر خان میں فلم کی شوٹنگ کی اجازت دینے والے افراد کیخلاف کاروائی کی جائے اورفلم کے ڈائریکٹر اور مسجد کا تقدس پامال کرنے والے فلم کے دیگر اداکاروں کیخلاف بھی کاروائی عمل میں لائی جائے۔

Check Also

کراچی: نامور خطیب علامہ ضمیر اختر نقوی دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔

قریبی رفقا کا بتانا ہے کہ علامہ ضمیر اختر نقوی کو رات گئے نجی اسپتال …