Home » New Update » ہوں تو میں چپڑاسی مگر کافی عرصہ سے یہ وزارت میں ہی چلا رہا ہوں

ہوں تو میں چپڑاسی مگر کافی عرصہ سے یہ وزارت میں ہی چلا رہا ہوں

ایک نالائق شخص وزیر تعمیرات بن گیا۔ وہ اتنا نالائق تھا کہ اسے رشوت وصول کرنے کا بھی سلیقہ نہیں تھا۔ اس کے پاس ایک ٹھیکیدار آیا اور ایک فائل پر منظوری کے عوض بیس لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا۔ وزیر نے آؤ دیکھا نہ تاؤ‘ جھٹ سے فائل منگوائی اور اس پر “اپرووڈ” لکھ دیا۔ اب فائل منظور ہو گئی مگر ٹھیکیدار

کہیں نظر ہی نہیں آیا۔ دو چار دن انتظار کرنے کے بعد وزیر بہت پریشان ہوا کہ اب کیا کرے؟ اسی اثنا میں اس کے چپڑاسی نے اپنے وزیر کا اُترا ہوا چہرہ اور طبیعت کی بے کلی دیکھ کر اندازہ لگایا کہ کچھ گڑ بڑ ہے۔ وہ وزیر کے پاس آیا اور رازداری سے کہنے لگا‘ حضور! ہوں تو میں چپڑاسی مگر کافی عرصہ سے یہ وزارت میں ہی چلا رہا ہوں۔ آپ مجھے اپنی پریشانی کی وجہ بتائیں‘ میں کوئی حل نکال دوں گا۔ وزیر نے بتایا کہ اس طرح میں نے فائل اپروو کر دی ہے مگر اب ٹھیکیدار ہاتھ نہیں آرہا۔ چپڑاسی نے کہا فائل واپس منگوا لیں

۔ وزیر نے کہا اب اس پر کٹنگ کس طرح کروں؟ چپڑاسی نے کہا جناب پریشان نہ ہوں‘ کوئی کٹنگ نہیں ہو گی۔ فائل واپس آئی۔ چپڑاسی نے کہا آپ اس “اپرووڈ” سے پہلے “ناٹ” لکھ دیں۔ مقصد پورا ہو جائے گا اور کوئی کٹنگ وغیرہ بھی نہیں ہو گی۔ وزیر نے ایسا ہی کیا۔ اب ٹھیکیدار کو پتہ چلا تو بھاگا بھاگا آیا اور بیس لاکھ روپے کا بریف کیس ہاتھ پکڑایا۔ اب وزیر پھر پریشان ہو گیا اور پھر چپڑاسی کو بلایا کہ اب کیا کروں؟ چپڑاسی بولا جناب عرصہ ہوا یہ وزارت میں ہی چلا رہا ہوں۔ آپ نے فائل پر جہاں “ناٹ” لکھا ہے وہاں ”ٹی‘‘

کے بعد ”ای‘‘ لگا دیں۔ یعنی “ناٹ” کو “ناٹ” بنا دیں۔ اب یہ ہو گیا ” ناٹ اپرووڈ”۔ وزیر نے ایسا ہی کیا اور من کی مراد پائی۔ شنید ہے کہ بہت سے محکمے وزراء نہیں چپڑاسی چلا رہے ہیں کہ ان کا تجربہ اور آئی کیو بہت سے وزراء سے بہتر اور زیادہ ہے۔

Check Also

کراچی: نامور خطیب علامہ ضمیر اختر نقوی دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔

قریبی رفقا کا بتانا ہے کہ علامہ ضمیر اختر نقوی کو رات گئے نجی اسپتال …