Home » News » ارکان اسمبلی جیت گئے ، نئے پاکستان کا کپتان ہار گیا : وزیراعظم عمران خان نے حیران کن حکم جاری کردیا ، پرانے پاپیوں کی باچھیں کھل اٹھیں

ارکان اسمبلی جیت گئے ، نئے پاکستان کا کپتان ہار گیا : وزیراعظم عمران خان نے حیران کن حکم جاری کردیا ، پرانے پاپیوں کی باچھیں کھل اٹھیں

لاہور (ویب ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان جب تھانہ کلچر میں تبدیلی کی بات کر رہے تھے تو میرے ذہن میں ان کی انتخابی تقریریں گردش کر رہی تھیں۔ وہ سب سے زیدہ زور ہی اس بات پر دیتے تھے کہ پنجاب میں پولیس کو درست کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اسے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ وہ اس حد تک آگے چلے جاتے تھے کہ پنجاب کو شریف برادران نے پولیس اسٹیٹ بنا دیا ہے، اسے تبدیل کئے بغیر صوبے میں گڈ گورننس قائم کی جا سکتی ہے اور نہ ہی عام آدمی کو کسی طاقتور کے مقابلے میں انصاف مل سکتا ہے۔

وہ بار بار خیبرپختونخوا کی مثال دیتے تھے، جہاں بقول ان کے پولیس سیاسی دباؤ سے آزاد ہو کر ایک مثالی پولیس بن چکی ہے۔ آج جب دو سال بعد میں وزیر اعظم کو تھانہ کلچر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا تو مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اس کا الزام وہ کسے دے رہے تھے یا برہمی کا اظہار کس پر کر رہے تھے۔ کیا انہوں نے پولیس میں اصلاحات کے لئے کوئی قانون سازی کی، کوئی کمیٹی بنائی، کسی کو ٹاسک دیا۔ جب پولیس نے چلنا ہی انگریز کے بنائے ہوئے پولیس ایکٹ پر ہے تو اس سے اچھے کی امید رکھنا عبث ہے جہاں کہیں اچھے پولیس افسر تعینات ہیں، وہاں وہ اپنے اقدامات سے پولیس کی کارکردگی ا ور رویئے کو بہتر بنا لیتے ہیں۔ باقی تو ہر جگہ پولیس نے وہی کرنا ہے جو وہ ستر برسوں سے کرتی آ رہی ہے۔ جہاں آج بھی سیاست کا سب سے بڑا ستون ایس ایچ او ہے، وہاں کوئی یہ دعویٰ کرے کہ تھانہ کلچر تبدیل کر دوں گا، تو یہ سوائے طفل تسلی یا دھوکے بازی کے اور کچھ نہیں۔ اندازہ کریں کہ فیصل آباد کے ارکانِ اسمبلی نے وزیر اعظم سے ملاقات میں ایس ایچ اوز کی شکایت کی، حالانکہ ذمہ داری تو سی پی او اور اس سے آگے آئی جی پر عائد ہوتی ہے کہ انہوں نے اپنے محکمے میں احتساب کا نظام ہی رائج نہیں کیا۔

ہمارے تھانے ہوں یا پٹوار خانے، دونوں کا بنیادی منشور یہی ہے کہ عوام کو ان کے حقوق سے محروم رکھ کر مال بنانا ہے۔ پٹوار خانے کا مطلب صرف پٹواری کا دفتر ہی نہیں بلکہ وہ تمام دفاتر ہیں جو ڈپٹی کمشنر بہادر کے زیر نگرانی کام کرتے ہیں ایک اچھا ڈپٹی کمشنر چاہے تو اپنے ضلع میں بڑی تبدیلی لا سکتا ہے، اسی طرح ایک اچھا ڈی پی او اپنے ضلع کے تھانوں کو عوام دوست بنا کر انہیں ریلیف دے سکتا ہے۔ مگر اس کے لئے تھوڑی سی جرأت رندانہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اپنے ضلع کے ارکان اسمبلی کو راضی رکھنے کے خوف میں مبتلا افسران کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے، کیونکہ ہر کرپٹ ایس ایچ او کے پیچھے کسی نہ کسی بالا دست کا ہاتھ ہوتا ہے اور ہر پٹواری یا سرکاری کارندہ کسی کی آشیر باد سے اپنی سیٹ پر موجود رہتا ہے۔ یہ معاملہ بہت اُلجھا ہوا ہے، ابھی کچھ ہی دن پہلے وزیر اعظم عمران خان نے چیف سکریٹری اور آئی جی کو یہ ہدایات جاری کی تھیں کہ وہ اپنے افسران کو ارکانِ اسمبلی سے تعاون کا حکم جاری کریں کیونکہ ارکانِ اسمبلی نے ہلکی پھلکی ”بغاوت“ کے اشارے دیئے تھے، ایسی صورت میں میرٹ پر کام کرنے کی گنجائش کہاں رہ جاتی ہے اب تو یہ افواہیں بھی گرم ہیں کہ ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کی تقرری کے ریٹ مقرر ہیں جس کے بعد وہ اضلاع میں کرپشن کی گنگا بہا دیتے ہیں اچھی بات ہے کہ پنجاب میں نچلی سطح کی کرپشن کا وزیر اعظم نے نوٹس لیا ہے لیکن خالی نوٹس لینے سے کیا پہلے کوئی مسئلہ حل ہوا ہے، جو یہ حل ہوگا؟

Check Also

شاہد خاقان عباسی نے تمام (ن) لیگی سیاستدانوں کو پیچھے چھوڑ دیا

شاہد خاقان عباسی نے تمام (ن) لیگی سیاستدانوں کو پیچھے چھوڑ دیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے2018 میں ارکان پارلیمنٹ …