Home » News » کیا پاکستان سعودی عرب کی امداد اور چھاؤں کے بغیر چل سکتا ہے ؟ جاوید چوہدری نے دنگ کر ڈالنے والے حقائق قوم اور حکمرانوں کے سامنے رکھ دیے

کیا پاکستان سعودی عرب کی امداد اور چھاؤں کے بغیر چل سکتا ہے ؟ جاوید چوہدری نے دنگ کر ڈالنے والے حقائق قوم اور حکمرانوں کے سامنے رکھ دیے

لاہور (ویب ڈیسک ) ہم من حیث القوم کالو ہیں‘ ہم نے 72 سال اپنے فرضی ماموؤں کے انتظار میں ضایع کر دیے ہیں‘ ہماری پوری سفارتی پالیسی ’’لائل پور کے ماموں‘‘ پر بیس کرتی ہے تاہم کالو اور ہماری سفارتی پالیسی میں ایک فرق ضرور ہے‘ کالو کا ایک ماموں تھا جب کہ ہماری وزارت خارجہ درجنوں ماموؤں پر مبنی ہے‘ نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں۔۔۔

دنیا کے کسی بھی اسلامی ملک میں تیل‘ گیس یا سونا نکل آتا ہے تو ہم خوشی کے شادیانے بجانا شروع کر دیتے ہیں اور اپنی ساری توقعات کا ٹوکرا اس کے سر پر رکھ دیتے ہیں‘ عرب ملکوں میں تیل نکلا تو یہ ہمارے ماموں ہو گئے۔ایران میں انقلاب آیا تو ہمیں پاکستان کے ہر شہر میں امام خمینی دکھائی دینے لگے‘ مہاتیر محمد نے ملائیشیا کو ایشین ٹائیگر بنا دیا تو یہ ہمارے ماموں بن گئے‘ طیب اردگان ترکی میں کام یاب ہو گئے تو ہمیں ان میں ماموں ارطغرل نظر آنے لگا‘ امریکا سترل سال سے ہمارا ماموں ہے‘ ہم نے ڈیم بنانا ہو‘ سڑکیں بنانی ہوں‘ بجلی پوری کرنی ہو یا بچوں کو پولیو کی ویکسین پلانی ہو ہم امریکا ماموں کی طرف دیکھنا شروع کر دیتے ہیں‘چین بھی ہمارا ماموں ہے اور ہم اب روس کو بھی ماموں بنا رہے ہیں لیکن ہم جواب میں کسی بھی ماموں کو گالی کے سوا کچھ دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے چناں چہ ہم آہستہ آہستہ بدتمیز بھانجے مشہور ہو گئے ہیں۔ہم ’’تھینک لیس‘‘ اسٹیبلش ہو گئے ہیں اور آج وہ وقت آ گیا ہے جب کشمیر کے ایشو پر بھی ہماراکوئی ماموں ہمارا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں‘ ہمیں ہر طرف سے انکار اورحقارت کے سوا کچھ نہیں مل رہا ‘ ہم اگر آج بھی سمجھ دار ہو جائیں تو بھی ہم چیزوں کو ’’ری ورس‘‘کر سکتے ہیں لیکن ہمیں اس کے لیے چند چیزیں طے کرنا ہوں گی‘

مثلاً ہم اگر واقعی یہ سمجھتے ہیں ہم عربوں کے بغیر سروائیو نہیں کرسکتے تو پھر ہمیں کھل کر ان کا ملازم ہوجانا چاہیے‘ عرب پھر ہم سے جو کچھ مانگیں ‘ ہمیں انھیں دے دیں۔ اگر ہمیں انڈیا کے سامنے جھکنے کا کہہ دیں تو ہم ایک لمحہ نہ سوچیں‘ ہم جھک جائیں اور ہم اگر نیوٹرل رہنا چاہتے ہیں تو پھر ہم کسی کی ’’پراکسی وار‘‘کا حصہ نہ بنیں‘ ہم امریکا ‘یو اے ای‘ سعودی عرب‘ ایران‘ ترکی‘ افغانستان اور چین کو صاف بتا دیں ہم صرف اور صرف اپنا قومی مفاد دیکھیں گے‘ ہم آج سے کسی کے دوست‘ کسی کے دشمن نہیں ہیں اور پھر ہم ہر قسم کی سزا کے لیے تیار ہو جائیں‘ سعودی عرب ہم سے اپنے ساڑھے تین ارب ڈالر واپس مانگ لے یا یو اے ای اپنی رقم واپس لے لے یا خلیج کے سارے ملک پاکستانیوں کو نکال دیںیا ایف اے ٹی ایف ہم پر پابندیاں لگا دے یا پھر آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک ہمیں امداد دینے سے انکار کر دے یا پھر ہمیں اسرائیل کو تسلیم کرنا پڑے تو پھر ہم کریں‘ ہمیں لڑنا پڑے تو ہم لڑیں‘ مرنا پڑے تو مریں‘آپ یقین کریں ہم دس پندرہ بیس پچاس سال میں گر پڑ کر ٹھیک ہو جائیں گے یا پھر ختم ہو جائیں گے۔ہم اِدھر یا اُدھر کم از کم عزت کے ساتھ زندگی تو گزاریں گے‘ یہ جو ہم روز ماموں کے انتظار میں دروازے کی طرف دیکھتے رہتے ہیںیا دنیا ہمیں بدتمیز بھکاری کہتی رہتی ہے کم از کم ہم اس ذلت سے تو نکل آئیں گے‘

یہ کیا بات ہوئی ہم جوتے بھی پالش کر رہے ہیں اور جوتے کھا بھی رہے ہیں‘ ہم دوسروں کے لیے جان بھی دے رہے ہیں اور دوسرے ہمیں برا بھی کہہ رہے ہیں۔یہ کیا ذلت ہے؟ہمیں یہ بھی کلیئر کرنا ہو گا‘ ہمیں اگر کشمیر نہیں چاہیے تو پھر ہم کھلے دل کے ساتھ اپنی شکست تسلیم کریں‘ اپنی کم زوری کا اعتراف کریں اور جو ملک بچ گیا ہے ہم چپ چاپ اس کے لیے کام کریں‘ اس سے قوم کم از کم یوم استحصال اور یوم خاموشی جیسے دھوکوں سے تو نکل آئے گی اور اگر یہ ہمیں چاہیے تو پھر ہم لڑیں‘ کشمیر مل جائے تو شکر نہ ملے تو کم از کم عزت کی موت تو نصیب ہو جائے ‘ یہ روز کا مرنا جیناتو کم از کم بند ہو اور آخری بات ہم اگر جمہوریت پر واقعی یقین رکھتے ہیں تو پھر ہمیں کھلے دل سے عوام کو ووٹ کا حق دے دینا چاہیے۔یہ جسے چاہیں چن لیں اور وہ عوام کے لیے جو کرنا چاہے وہ کر لے اور ہم اگر جمہوریت کو اس ملک کے لیے سوٹ ایبل نہیں سمجھتے تو پھر ایک ہی بار کھل کر اس ملک میں تیس سال کے لیے مارشل لاء لگا دیں‘ہم ملک میں ایک ہی بار چینی‘ سعودی یا مصری نظام لے لیں تاکہ ہم کم ازکم کسی ایک کنارے پر تو لگیں‘ ہم کم از کم کالو کی طرح لائل پور کے ماموں کا راستہ دیکھنا تو بند کریں‘ ملک میں برا ہی سہی لیکن استحکام تو آئے‘ ہم آخر کب تک کاغذ کی کشتیوں میں طوفانوں کا مقابلہ کرتے رہیں گے‘ ہم کب تک خود کو دھوکا دیتے رہیں گے اور ہم آخر کب تک چہرے کی کالک مٹانے کے لیے آئینے رگڑتے رہیںگے‘ یہ اب بند ہو جانا چاہیے‘ ہم آخر مزید کتنی نسلیں برباد کریں گے!۔

Check Also

ورلڈ اکنامک فورم نے پاکستان کو ”چیمپیئن آف دی نیچر“ کا خطاب دیدیا! یہ اعزاز کونسی پالیسیوں کی بنیاد پر دیا گیا‎؟ کے

ورلڈ اکنامک فورم نے پاکستان کو ”چیمپیئن آف دی نیچر“ کا خطاب دیدیا! یہ اعزاز کونسی پالیسیوں کی بنیاد پر دیا گیا‎؟ پاکستانیوں کے لیے بڑی خوشخبری

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان کی کامیاب پالیسیوں کا عالمی سطح پر …