Home » News » دسمبر میں تبدیلی والوں کو کیا سرپرائز ملنے والا ہے، ؟ کونسی تبدیلی آنے والی ہے ؟ صبح صبح بڑی سیاسی بریکنگ نیوز

دسمبر میں تبدیلی والوں کو کیا سرپرائز ملنے والا ہے، ؟ کونسی تبدیلی آنے والی ہے ؟ صبح صبح بڑی سیاسی بریکنگ نیوز

لاہور (ویب ڈیسک) یہ شاید پچھلے برس کی بات ہے میں ایک آئی جی کے دفتر میں گیا جہاں ایس ایچ اوز کے ساتھ ان کی میٹنگ اسی وقت ختم ہوئی تھی، ابھی وہ میٹنگ روم میں موجود تھے، آئی جی صاحب چونکہ میرے دوست تھے انہوں نے مجھے دیکھتے ہی کہا۔ آئو آئو ، روز قانون کی علمبرداری قائم کرنے کے مشورے دیتے ہو، بدعنوانی ختم کرنے کے طریقے بتاتے ہو۔نامور کالم نگار منصور آفاق اپنےایک کالم میں لکھتے ہیں۔

ان پولیس افسران کے اس سوال کا جواب تو دو۔ سوال یہ تھا کہ تھانے سے جب کوئی مقدمہ عدالت جاتا ہے تو عدالت کے اہلکار اس وقت تک کیس نہیں لیتے جب تک ایک کیس کے ساتھ کم از کم پانچ ہزار روپے نہ دئیے جائیں۔ ایک تھانے سے اگر ایک مہینے میں صرف ایک سو کیس بھی عدالت میں جائیں تو اس تھانے کو پانچ لاکھ روپے رشوت دینا پڑتی ہے، یہ پانچ لاکھ کہاں سے آئیں۔ عدالتی اہلکاروں کو رشوت لینے سے کیسے روکیں۔ سوال اتنا خوفناک تھا کہ میں اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔اس میں کوئی شک نہیں پنجاب کے بیشتر اضلاع میں امن ِعامہ کی صورتحال وہیں بہتر ہے جہاں کا ڈی پی او ایمان دار بھی ہے اور انتظامی معاملات میں بھی بھرپور استعداد رکھتا ہے۔مثال کے طور میانوالی، جہاں عمران خان نے پورے پنجاب سے ڈھونڈ ڈھانڈ کر حسن اسد علوی کو ڈی پی او لگایا ہے۔ اسلام آباد میں توامنِ عامہ کی وجہ صرف عامر ذوالفقار ہیں جو اسلام آباد کے آئی جی ہیں۔

اسی طرح ایک ڈی پی او سرفراز ورک ہیں، جہاں بھی تعینات کئے گئے، جرائم پیشہ عناصر اپنے بلوں میں گھس گئے۔ ایک صادق علی ڈوگر بھی ڈی پی او ہوتے تھے۔ وہ بھی جس ضلع میں لگتے تھےجرائم کم ہو جاتے تھے۔یعنی یہ نہیں کہ پولیس کے پاس اچھے افسران نہیں ۔سی سی پی او لاہور عمر شیخ ، شاید جن کی وجہ سے آئی جی پنجاب تبدیل ہوئے ،ان کے متعلق ایک دوست کہہ رہا تھا کہ وہ بھی بڑے دبنگ افسر ہیں ،اب لاہور میں جرائم اور بدعنوانی دونوں میں زبردست کمی آئے گی مگر اس وقت وزیر اعلیٰ عثمان بزدار پھر امتحان میں ہیں ۔اگرچہ انہوں نے فوری طور پرنوٹس لیا، فرانزک کے ماہرین اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اورپولیس نے سیف سٹی کے کیمروں کی مدد سے ملزمان کی تلاش جاری ہے مگر اب معاملہ صرف مجرموں کے گرفتار کرنے تک محدود نہیں رہنا، انہیں نشان ِعبرت بھی بناناانتہائی ضروری ہے ۔بس ایک طویل خاموشی ۔ایسا لگتا ہے یہ ملک درندوں کی بستی بن چکا ہے۔ عمران خان جب چین کے دورے سے واپس آئے تھے تو بدعنوانی کے خاتمے کا چینی ماڈل ساتھ لائے تھے جس میں بدعنوانی پر سنگین سزا دی جانی تھی اور انٹیلی جنس کا ایک بہت بڑا سسٹم تھا۔ فوری سزا تھی مگر رات کے رکھوالوں نے چند دنوں میں اُن کے سارے خواب چکنا چور کردئیے۔ تبدیلی دھری کی دھری رہ گئی۔ دسمبر تک شاید کسی تبدیلی کا امکان ہے۔

Check Also

بھارت ہٹ دھرمی سے باز نہ آیا۔۔!! سکھوں کو بابا گرو نانک کی برسی پر ناقابل یقین جھٹکا دے دیا

بھارت ہٹ دھرمی سے باز نہ آیا۔۔!! سکھوں کو بابا گرو نانک کی برسی پر ناقابل یقین جھٹکا دے دیا

نارووال (ویب ڈیسک) بھارت نے اپنی روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سکھوں کو …